دہائیوں تک کشمیری نوجوانوں کی پیشہ ورانہ خواہشات ایک ہی ہدف کے گرد گھومتی رہیں: سرکاری نوکری حاصل کرنا۔ یہ سب سے محفوظ اور معزز راستہ سمجھا جاتا تھا … ایک باقاعدہ تنخواہ، نوکری کی ضمانت اور ایک مرتب زندگی۔ خاندانوں کے نزدیک سرکاری ملازمت استحکام اور عزت کی علامت تھی، اور عام سوچ یہ تھی کہ سرکاری نوکری کا مطلب ہے کہ زندگی سنور گئی۔ نوجوان گریجویٹس کے لیے پبلک سروس کمیشن اور بھرتی بورڈز ہی منزل سمجھے جاتے تھے۔
لیکن اس جنون نے رکاوٹیں پیدا کیں۔ ہر سال ہزاروں امیدوار چند خالی آسامیوں کے پیچھے دوڑتے۔ بھرتی مہمات یا تو تاخیر کا شکار رہیں یا تنازعات کی نذر ہوئیں، اور کئی ذہین نوجوان اپنی جوانی کے بہترین سال اْن امتحانات کی تیاری میں گزار دیتے جو شاذ و نادر ہی کامیابی کی ضمانت دیتے۔ رفتہ رفتہ ایک طرح کی مایوسی، انحصار اور جمود نے جنم لینا شروع کیا۔
یہ کہانی اب آہستہ آہستہ بدل رہی ہے۔ نوکریوں کی کمی نے سوچ بدلنے پر مجبور کیا ہے، مگر اس سے بڑھ کر نئی نسل نے خود مختاری، تخلیق اور خطرہ مول لینے کی خواہش پیدا کر لی ہے۔ محدود سرکاری آسامیوں اور بڑھتی ہوئی مسابقت کے بیچ بھرتی کے نتائج کا لا متناہی انتظار اب ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے۔ بہتر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، ای کامرس پلیٹ فارمز تک رسائی، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں نے ایسے مواقع کھول دیے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ سرکاری اسکیمیں جیسے اسٹارٹ اپ انڈیا، امید، وزیرِاعظم روزگار جنریشن پروگرام، اور جموں و کشمیر بینک کے قرضے نوجوانوں کو ابتدائی سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔
وادی میں برسوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد سیاحت کی بحالی نے خدمات، دستکاری اور ہاسپیٹیلٹی کے کاروباروں کی مانگ بڑھا دی ہے۔ یہ سب عوامل مل کر ایک ثقافتی تبدیلی لا رہے ہیں: کشمیری نوجوان سرکاری نوکریوں کے امیدوار بننے کے بجائے اب کاروباری بننے کی ہمت کر رہے ہیں۔
اس تبدیلی کی مثالیں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔ سرینگر کے لالچوک سے گزریں یا انسٹاگرام پر نظر ڈالیں تو آپ کو نوجوان کشمیریوں کے قائم کردہ کیفے، کپڑوں کے برانڈ، بیکریز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسیاں ملتی ہیں۔ سرینگر اور بارہمولہ میں کیفے اور فوڈ وینچرز تیزی سے کھل رہے ہیں جو سیاحوں اور مقامی لوگوں دونوں کو روایتی کھانوں سے ہٹ کر ایک نیا ذائقہ اور تجربہ فراہم کر رہے ہیں۔ نوجوان کاریگر دستکاری کو نیا روپ دے کر پیپر ماشی، پشمینہ اور اخروٹ کی لکڑی کے فن پارے براہِ راست خریداروں تک پہنچا رہے ہیں، چاہے وہ بھارت میں ہوں یا بیرونِ ملک۔ انجینئرنگ گریجویٹس نے آئی ٹی کلیکٹیوز قائم کر لیے ہیں جو ویب ڈیزائن، ایپ ڈویلپمنٹ اور سوشل میڈیا سروسز فراہم کر رہے ہیں۔ نوجوان آرگینک کھیتی، زعفران کی پیکجنگ اور ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ میں قدم رکھ کر روایتی پیشوں میں برانڈنگ اور سپلائی چین کی جدت لا رہے ہیں۔
سیاحت کے شعبے میں بھی نوجوان ہوم اسٹے، ٹریکنگ سروسز اور ٹریول ایجنسیاں چلا رہے ہیں جو پرانے اجارہ داروں کو چیلنج کر رہی ہیں۔
ان منصوبوں کے پیچھے ہمت اور خود کو نئے سرے سے تراشنے کی کہانیاں چھپی ہیں۔ پلوامہ کی ایک نوجوان گریجویٹ نے مسابقتی امتحانات کی دوڑ کو خیر باد کہا اور گھر پر بیکری کا آغاز کیا۔ انسٹاگرام کو اپنی دکان بنایا، اور اب وہ ضلع بھر میں کیک سپلائی کر رہی ہے اور تین خواتین کو روزگار دے رہی ہے۔ اننت ناگ کا ایک نوجوان لڑکا ایک چھوٹے بینک قرضے سے ٹراؤٹ فش فارم شروع کر بیٹھا۔ جو کبھی خطرناک تجربہ سمجھا جاتا تھا وہ اب ایک کامیاب کاروبار ہے جو ہوٹلوں اور ریستورانوں کو سپلائی کر رہا ہے۔ سرینگر میں انجینئرنگ کے گریجویٹس، جو کبھی نوکری کے لیے باہر جانے پر مجبور تھے، اب ایک ڈیجیٹل سلوشن کمپنی چلا رہے ہیں جو پروجیکٹس وادی میں ہی لا رہی ہے۔ ان تمام کہانیوں کا ایک مشترکہ پہلو ہے: سرکاری نوکری کے مبہم اشتہارات کا انتظار کرنے سے انکار، اور مقامی وسائل سے اپنا روزگار بنانے کا عزم۔
لیکن یہ سفر آسان نہیں ہے۔ مقامی مارکیٹ کا حجم محدود ہے اور کشمیر سے باہر پھیلنے کے لیے نیٹ ورکس اور لاجسٹکس درکار ہیں جو آسانی سے نہیں بنتے۔ لیکن ان تمام رکاوٹوں کے باوجود نئی نسل کی مزاحمت اور عزم نمایاں ہے۔ ہر کامیاب کیفے، آن لائن برانڈ یا زرعی کاروبار اْس دقیانوسی سوچ کو توڑ رہا ہے کہ کشمیری نوجوان یا تو ہجرت کریں یا سرکاری نوکری کے انتظار میں زندگی گزاریں۔
یہ تبدیلی محض اقتصادی نہیں بلکہ ثقافتی بھی ہے۔ یہ انحصار سے خود مختاری، خطرے سے بچنے سے جدت اپنانے، اور ملازمت تلاش کرنے سے ملازمت دینے کی طرف ایک سفر ہے۔ نوجوان کاروباری نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ وہ والدین جو کبھی کیفے یا آن لائن اسٹور کو غیر مستحکم سمجھتے تھے، اب انہیں خودمختاری کی زندہ مثال کے طور پر قبول کرنے لگے ہیں۔
بڑا سبق یہ ہے کہ سرکاری نوکری کے خواب کی اجارہ داری ٹوٹ رہی ہے۔ ایک نیا خواب جنم لے چکا ہے، جو خود ساختہ ہے، متنوع ہے اور کشمیر کی اپنی طاقتوں پر قائم ہے۔ ایک ایسے خطے میں جو اکثر تنازع اور بیروزگاری کے زاویے سے دکھایا جاتا ہے، نوجوان کاروباریوں کی کہانیاں ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ کہانیاں ایسے کیفے دکھاتی ہیں جو قہقہوں سے گونجتے ہیں، ایسے انسٹاگرام اسٹورز جو شالیں بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، اور ایسے ٹراؤٹ فارمز جو ہوٹلوں کو خوراک فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی نسل کی عکاسی کرتے ہیں جو اب صرف نوکری کے امیدوار نہیں بلکہ مستقبل کے معمار ہیں۔
سرکاری ملازمتیں ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک کشش رکھیں گی، مگر جو تبدیلی اب چل رہی ہے وہ متبادل فراہم کر رہی ہے۔ کشمیر کے نوجوان اپنی اقتصادی تجدید اور ثقافتی فخر کی کہانی خود لکھ رہے ہیں۔





