سرینگر/۱۲ ستمبر
پولیس نے شہر میں عوامی صحت و سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑا ہوا گوشت فروخت کرنے والے افراد اور دکانوں کے خلاف چھ مقدمات درج کیے ہیں۔
ایک اہلکار نے جمعہ کو بتایا کہ ضلع میں سڑے اور غیر معیاری گوشت کی فروخت کی اطلاعات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے، سرینگر پولیس نے سول انتظامیہ اور فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر اس وبا کو ختم کرنے کے لیے ایک خصوصی آپریشن شروع کیا ہے۔
یہ مقدمات شہر کے لال بازار، بمنہ، بٹہ ما لو، صفاکدل، رام منشی باغ اور زکورہ پولیس اسٹیشنوں میں درج کیے گئے۔
ضلعی پولیس، سول انتظامیہ اور فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ کے افسران پر مشتمل ایک فلائنگ اسکواڈ تشکیل دیا گیا ہے جو شہر بھر میں اچانک معائنے کرے گا۔
ان معائنوں کے دوران بڑی مقدار میں سڑا ہوا گوشت برآمد ہوا، جسے ضابطے کے مطابق تلف کر دیا گیا، ترجمان نے بتایا اور مزید کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام نے کشمیر بھر میں ہوٹلوں اور دکانداروں کے خلاف ایک وسیع مہم شروع کی ہے جو فوڈ سیفٹی کے اصولوں اور عوامی صحت کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر۵۰۰۰ کلوگرام سے زیادہ سڑا ہوا گوشت ضبط کیا جا چکا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق سڑے یا غیر معیاری گوشت کا استعمال ہیضہ، پیچش، فوڈ پوائزننگ اور دیگر متعدی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے ’’یہ مسئلہ صرف انفرادی صحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ کمیونٹی ہیلتھ کو بھی براہ راست متاثر کرتا ہے‘‘۔ کشمیر جیسے علاقے میں جہاں پہلے ہی صحت کی سہولیات پر دباؤ ہے، ایسے عوامل صورت حال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پولیس اور انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ہوٹلوں، ریستورانوں اور قصاب خانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب کئی علاقوں سے شکایات موصول ہوئیں کہ شہری غیر معیاری گوشت خریدنے پر مجبور ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن صرف وقتی کارروائی نہیں بلکہ ایک مستقل مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد فوڈ سیفٹی قوانین کو سختی سے لاگو کرنا اور عوامی صحت کو یقینی بنانا ہے۔
شہریوں نے پولیس اور انتظامیہ کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑا ہوا گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی عوام کی صحت سے کھیلنے کی جرأت نہ کرے۔
ایک شہری نے کہا’’ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قصاب من مانی کرتے ہیں، نہ معیار ہے نہ صفائی۔ اب اگر واقعی قانون سختی سے نافذ کیا جائے تو یہ عوام کے لیے بڑی راحت ہوگی۔‘‘










