کشمیر کی وادی اپنی دلکش وادیوں، بہتے چشموں اور برف پوش پہاڑوں کے ساتھ ساتھ ایک اور پہچان بھی رکھتی ہے، اور وہ ہے یہاں کے سیب۔ یہ سیب نہ صرف وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں بلکہ لاکھوں کسانوں اور مزدوروں کی روزی کا ذریعہ بھی ہیں۔ اندازہ ہے کہ کشمیر کی مجموعی معیشت کا ایک بڑا حصہ سیب کی پیداوار اور اس کی تجارت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں اس پیداوار کی بروقت ترسیل کسانوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن جاتی ہے۔
اب تک سیب کی نقل و حمل کا سب سے بڑا ذریعہ جموں،سرینگر قومی شاہراہ تھا، جو وادی کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہ شاہراہ اکثر لینڈ سلائیڈنگ، بارش، برف باری اور ٹریفک جام کے سبب طویل عرصے کے لیے بند رہتی ہے۔ کبھی دنوں کے لیے، کبھی ہفتوں کے لیے۔ اس دوران ہزاروں ٹرک جن میں سیب بھرا ہوتا ہے، پہاڑوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کا مال یا تو خراب ہو جاتا ہے یا اپنی تازگی کھو دیتا ہے، اور جب بالآخر منڈیوں تک پہنچتا ہے تو کسانوں کو محض اخراجات بھی پورے نہیں ہو پاتے۔
گزشتہ برسوں میں ایسے مناظر بار بار دیکھنے کو ملے۔ کسانوں کے آنکھوں میں بے بسی کے آنسو، اور بازاروں میں خریداروں کو مہنگے داموں کم معیار کا پھل۔ اس صورتحال نے وادی کے زرعی طبقے کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ وہ کسان جو سال بھر اپنے باغات میں محنت کرتے ہیں، فصل کی کٹائی کے وقت صرف اس لیے نقصان اٹھا لیتے ہیں کہ ان کا مال منزل تک بروقت نہیں پہنچ پاتا۔
ایسے پس منظر میں بھارتی ریلوے کی جانب سے نئی پارسل ٹرین کا اعلان کسی نویدِ صبح سے کم نہیں۔ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے حال ہی میں بڈگام سے دہلی تک روزانہ کی بنیاد پر پارسل ٹرین سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام محض ایک ٹرانسپورٹ پالیسی نہیں بلکہ کسانوں کے خوابوں اور ان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
اس ٹرین کی سب سے بڑی اہمیت وقت کی بچت ہے۔ جہاں شاہراہ کے ذریعے سفر کبھی ۳ دن میں مکمل ہوتا اور کبھی ۱۰ دن بھی ناکافی ثابت ہوتے، وہیں ریلوے کا یہ نیا نظام بدگام سے دہلی محض ۲۳ گھنٹے میں پھل پہنچا دے گا۔ اس تیزی کا مطلب ہے کہ سیب اپنی تازگی اور معیار کے ساتھ بڑی منڈیوں تک پہنچ سکیں گے، جس سے کسانوں کو اچھی قیمت ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
دوسری اہم بات اعتماد ہے۔ شاہراہ پر انحصار ہمیشہ غیر یقینی کا شکار رہا ہے۔ کوئی بھی کسان یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کا ٹرک کب دہلی یا جے پور پہنچے گا۔ اب ایک وقت مقرر ہوگا، ایک شیڈول ہوگا، اور کسان یہ جان سکیں گے کہ ان کا مال کب منزل تک پہنچے گا۔ اس اعتماد سے نہ صرف ان کا کاروبار بہتر ہوگا بلکہ خریدار اور تاجر بھی کشمیر کے سیب کو زیادہ سنجیدگی سے خریدیں گے۔
اس ٹرین کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف سیب تک محدود نہیں۔ وادی کے دوسرے زرعی اجناس جیسے اخروٹ، زعفران، اور یہاں کے مشہور ہنڈی کرافٹس بھی اسی کے ذریعے بڑے شہروں تک پہنچ سکیں گے۔ یوں یہ سروس مجموعی طور پر وادی کی معیشت کو تقویت دے گی۔ کشمیر کے کاریگر جو برسوں سے اپنی محنت کا پھل صحیح وقت پر مارکیٹ تک نہ پہنچنے کے باعث نقصان اٹھا رہے تھے، اب ان کے لیے بھی یہ ایک سنہری موقع ہوگا۔
سیب کے کسان اکثر شکایت کرتے تھے کہ وہ منڈیوں میں استحصالی دلالوں کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ جب ان کا مال دیر سے پہنچتا، تو انہیں مجبوری میں کم قیمت پر مال فروخت کرنا پڑتا۔ یہ ٹرین ان دلالوں کی اجارہ داری کو توڑ سکتی ہے۔ کیونکہ جب کسان کو یقین ہو جائے گا کہ اس کا مال وقت پر دہلی پہنچ رہا ہے، تو وہ بہتر دام کے لیے انتظار کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف اس کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
یہ اقدام مستقبل میں برآمدات کے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ جب سیب بہتر معیار کے ساتھ بروقت دہلی پہنچیں گے، تو انہیں ملک کے دیگر حصوں اور حتیٰ کہ بیرونِ ملک بھی بھیجنے کے مواقع بڑھیں گے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں تازگی اور وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ اگر ریلوے اس وعدے پر قائم رہا، تو کشمیر کا سیب دوبارہ دنیا بھر میں اپنی پہچان بنا سکتا ہے۔
اس اقدام کے معاشرتی اثرات بھی کم اہم نہیں۔ زرعی شعبے سے جڑے مزدوروں، پیکنگ ہاؤسز میں کام کرنے والے نوجوانوں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ کسان کو زیادہ منافع ملے گا تو وہ زیادہ مزدور رکھ سکے گا، اپنے باغات میں مزید سرمایہ لگا سکے گا، اور یوں روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے۔
یقیناً، ہر نئی سکیم کے ساتھ خدشات بھی جڑے ہوتے ہیں۔ کسانوں کو یہ فکر ہوگی کہ کیا یہ سروس واقعی مستقل بنیادوں پر چلے گی؟ کیا کرایہ ان کی پہنچ میں ہوگا؟ کیا وقت کی پابندی پر عمل ہوگا؟ یہ سوالات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اس وقت ضرورت ہے کہ اس سکیم کو موقع دیا جائے اور اس پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جائے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ شفاف طریقہ کار اپنائے، کسانوں کے لیے کرایہ مناسب رکھے اور کسی بھی شکایت کا فوری ازالہ کرے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ پارسل ٹرین صرف ایک ریل گاڑی نہیں بلکہ امید کی نئی لکیروں کا نام ہے۔ یہ کسان کے پسینے کی قدر ہے، یہ وادی کے باغات کی خوشبو کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ جموں،سرینگر شاہراہ کی بندش نے اگر وادی کے باغبانوں کے خوابوں کو بارہا توڑا ہے تو یہ ریل گاڑی ان خوابوں کو دوبارہ جوڑنے کا وعدہ رکھتی ہے۔
اگر یہ منصوبہ کامیابی سے چلتا رہا تو نہ صرف سیب کا کاروبار سنبھل جائے گا بلکہ یہ وادی کی مجموعی معیشت اور کسانوں کے اعتماد کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگا۔ کشمیر کے سیب اگلے برسوں میں شاید پھر وہی مقام حاصل کر لیں جو کبھی دنیا میں ان کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ اور اس سفر کا آغاز ایک پارسل ٹرین سے ہو رہا ہے، جو بدگام سے دہلی تک امید کی پٹری بچھا رہی ہے۔





