بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو نے صوبے میں بڑھتی انتخابی سرگرمیوں کے درمیان این ڈی اے کی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے بیس سال میں حکومت نے ریاست کی دو نسلوں کو برباد کر دیا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے دس سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
مسٹر یادو نے این ڈی اے پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کے 20 برسوں کے دورِ اقتدار اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ 11 برس کی ‘ڈبل انجن’ حکومت نے بہار کی دو نسلوں کی زندگیاں برباد کر دی ہیں۔
موصوف تیجسوی یادو نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر دس سوالوں کی فہرست جاری کی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ جب این ڈی اے کے لیڈر ووٹ مانگنے آئیں تو ان سے غریبی، بیروزگاری، امن و امان، بدعنوانی اور ریاست کی خستہ حالی جیسے بنیادی مسائل پر سوال کیے جائیں۔
آر جے ڈی رہنما نے کہا کہ عوام کو پوچھنا چاہیے کہ بہار آج بھی ملک کی سب سے غریب ریاست کیوں ہے ؟ خواتین غیر محفوظ کیوں ہیں؟ صحت کے نظام کی حالت اتنی خراب کیوں ہے ؟ اور جرائم پر قابو کیوں نہیں پایا جا رہا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ این ڈی اے کے دورِ حکومت میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، ریکارڈ سطح کی بیروزگاری اور روزگار کی تلاش میں نوجوانوں کی نقل مکانی پر این ڈی اے حکومت سے سوال کرنا ضروری ہے ۔
مسٹر یادو نے کہا کہ اسکولوں میں مناسب عمارتوں کی کمی، نئی صنعتیں شروع کرنے میں ناکامی اور گرتے تعلیمی نظام پر حکومت کو جواب دینا چاہیے ۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ کئی دہائیوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود نتیش کمار اور بی جے پی کے ساتھ ان کا اتحاد بامعنی پیش رفت کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ ان کے مطابق، حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بہار کی دو نسلیں ترقی کے مواقع سے محروم رہ گئیں۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ یہی وہ مسائل ہیں جنہیں این ڈی اے کے لیڈر ماضی میں تیجسوی کے والدین اور سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے دورِ حکومت پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کرتے تھے ۔ آج تیجسوی یادو نے انہی نکات کو این ڈی اے کی حکومت کے سامنے پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ بی جے پی اور جے ڈی یو لیڈر ان میں سے کسی ایک سوال کا بھی ٹھوس جواب نہیں دے پائیں گے ۔








