دہرادون، 29 اگست (یو این آئی) اتراکھنڈ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اُن کی والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے والے کانگریس رہنماؤں کے خلاف جمعہ کے روز دہرادون میں بھی ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اس پروگرام میں موجود راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور اسٹیج پر بیٹھے دیگر تمام رہنماؤں کے خلاف سخت دفعات کے تحت کارروائی کی مانگ کی گئی ہے ۔
پارٹی کی ریاستی ترجمان ہنی پاٹھک کی قیادت میں بی جے پی کی خواتین کارکنان نے دہرادون کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اجے سنگھ سے ملاقات کر کے شکایت درج کرائی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ جمعرات 28 اگست کو بہار کے ضلع دربھنگہ کے انتربیل میں کانگریس کی ‘‘ووٹ ادھیکار ریلی’’ کے دوران اسٹیج سے وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘‘چور’’ کہا گیا اور اُن کی والدہ کو گالیاں دی گئیں۔
شکایت میں کہا گیا کہ اسٹیج سے ‘نوشاد’ نامی شخص کی آواز سنائی دی، جو کہ یوتھ کانگریس کے لیڈر بتائے جا رہے ہیں اور وہی وزیر اعظم کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کر رہے تھے ۔ اسی اسٹیج سے مودی جی کو گالیاں بھی دی گئیں۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ راہل گاندھی اور ان کے ساتھی پہلے بھی وزیر اعظم کے لیے غیر مہذب زبان استعمال کر چکے ہیں، لیکن اس بار جو کچھ ہوا وہ بدتمیزی کی انتہا ہے ۔
بی جے پی لیڈران نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں صاف طور پر سنا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور محمد نوشاد نے جان بوجھ کر یہ سب کچھ منصوبہ بند طریقے سے کروایا۔ محمد نوشاد جالے اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ممکنہ امیدوار بتائے جا رہے ہیں۔
شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس پورے پروگرام کے منتظمین اور گالی دینے والے شخص کے خلاف مناسب دفعات میں سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔ اس پروگرام میں اسٹیج پر بیٹھے تمام لیڈروں کے خلاف بھی سخت سے سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے ۔








