صدر دروپدی مرمو نے جمعرات کو ملک کے باشندوں سے دیسی مصنوعات کو اپنانے اور بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عہد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو صحت اور تعلیم کی سہولیات تک مساوی رسائی ملنی چاہئے ۔
آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن پر ۷۹ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے اپنے روایتی خطاب میں آپریشن سندور کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ کشمیر کا دورہ کرنے والے معصوم شہریوں کا قتل بزدلانہ اور بالکل غیر انسانی تھا، ہندوستان نے اس کا فیصلہ کن انداز میں جواب دیا۔” مجھے یقین ہے کہ آپریشن سندور دہشت گردی کے خلاف انسانیت کی جنگ کی ایک مثال کے طور پر تاریخ میں لکھا جائے گا“۔
ہندوستانی عوام کے اتحاد کو دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی کی سب سے بڑی خصوصیت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا ”یہ اتحاد ان تمام عناصر کے لیے بھی سب سے موزوں جواب ہے جو ہمیں منقسم دیکھنا چاہتے ہیں“۔انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے ثابت کر دیا ہے کہ قومی سلامتی کی بات کی جائے تو ہماری مسلح افواج کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری نے ہندوستان کی اس پالیسی کا نوٹس لیا ہے کہ ہم جارح نہیں بنیں گے ، لیکن اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے جوابی کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے ۔
مرمو نے کہاکہ ”آپریشن سندور دفاع کے میدان میںآتمنر بھر بھارت مشن کو جانچنے کا ایک موقع بھی تھا۔ اب ثابت ہوا کہ ہم سیدھے راستے پر ہیں“۔ ہماری مقامی پیداوار ایک اہم مرحلے پر پہنچ گئی ہے جہاں ہم اپنی بہت سی حفاظتی ضروریات کو پورا کرنے میں خود انحصار ہو گئے ہیں، انہوں نے ان کامیابیوں کو آزاد ہندوستان کی دفاعی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا۔
صدر جمہوریہ نے اقتصادی ترقی کو سماجی ترقی اور غربت کے خاتمے جیسے اہداف کے نقطہ نظر سے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے آزادی کے بعد خود کفیل ملک بننے کی طرف بہت ترقی کی ہے اور ملک اس وقت مضبوط گھریلو مانگ کے ساتھ دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور افراط زر کی شرح کم ہے ۔
اپنے خطاب میں محترمہ مرمو نے آپریشن سندور کو ہندوستان کے’پختہ عزم‘کا ایک تعارف قرار دیا اور کہا کہ اسے دہشت گردی کے خلاف انسانیت کی جدوجہد کی ایک مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور دنیا کے لیے ایک پیغام ہے ”ہم جارح نہیں بنیں گے لیکن اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے جوابی کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے “۔
اس موقع پر انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات اور حیوانات کے تحفظ اور ملک کو۷۴۰۲تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں۔ تقسیم ہند کی ہولناکی کا شکار ہونے والے مجاہدین آزادی اور ہمارے آبا واجداد کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ’انصاف، آزادی، مساوات اور یہ وہ اصول ہیں جو ہم نے آزادی کی جدوجہد کے دوران دیے تھے ‘۔اس موقع پر انہوں نے خلائی اور کھیلوں کی دنیا میں ملک کے ٹیلنٹ کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔
سودیشی کے جذبے کو بیدار کرنے پر زور دیتے ہوئے صدر نے کہا”سودیشی کا نظریہ میک ان انڈیااور آتمنر بھر بھارت ابھیان جیسی قومی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے ۔ ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے ملک میں بنی مصنوعات خریدیں گے اور استعمال کریں گے “۔
مرمو نے کہا کہ ہینڈلوم ڈے۲۰۱۵سے ہر سال۷اگست کو جدوجہد آزادی کے دوران۱۹۰۵میں شروع کی گئی سودیشی تحریک کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے سودیشی کے جذبے کو مزید مضبوط کیا تاکہ ہندوستانی کاریگروں کے خون اور پسینے سے تیار کردہ مصنوعات اور ان کی بے مثال مہارتوں کو فروغ دیا جا سکے ۔
بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محترمہ مرمو نے گاندھی جی کے اس بیان کو یاد کیا کہ ’بدعنوانی اور تکبر جمہوریت کے ناگزیر نتائج نہیں ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا’آئیے ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم گاندھی جی کے آئیڈیل کو عملی جامہ پہنائیں گے اور بدعنوانی کا مکمل خاتمہ کریں گے ‘۔انہوں نے کہا”ہماری اصلاحات اور پالیسیوں نے ترقی کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم بنایا ہے ۔ اس تیاری کے ساتھ میں ایک روشن مستقبل دیکھ سکتی ہوں جہاں ہم سب اپنی اجتماعی خوشحالی اور بہبود کے لیے جوش و خروش سے اپنا حصہ ڈالیں گے ۔ اس مستقبل کی طرف ہم بدعنوانی کے لیے زیرو ٹالرنس کے ساتھ غیر متزلزل گڈ گورننس کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں“۔
صدر مملکت نے بنیادی ڈھانچے ، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تیز رفتار ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستانی معیشت کی مضبوطی کو اجاگر کیا۔
صدر نے کہا”ہندوستان نے ایک خود انحصار ملک بننے کی راہ پر ایک طویل سفر طے کیا ہے اور بڑے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ اقتصادی شعبے میں ہماری کامیابیوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے “۔
مرمونے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو۵ئ۶فیصد کے ساتھ ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت میں مسائل کے باوجود ملکی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ مہنگائی کنٹرول میں ہے ۔ برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ تمام اہم اشارے معیشت کی مضبوط حالت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے مزدور اور کسان بھائیوں اور بہنوں کی محنت اور لگن کے ساتھ سوچی سمجھی اصلاحات اور موثر معاشی انتظام کا نتیجہ ہے ۔
صدر مملکت نے کہا کہ گڈ گورننس سے لوگوں کی بڑی تعداد کو غربت سے نکالا گیا ہے ۔ حکومت غریبوں کے لیے بہت سی فلاحی اسکیمیں چلا رہی ہے ۔ جو لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آ چکے ہیں لیکن مضبوط پوزیشن میں نہیں ہیں ان کے پاس بھی ایسی سکیموں کا تحفظ ہے تاکہ وہ دوبارہ خط غربت سے نیچے نہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی فلاحی کوششیں سماجی خدمات پر بڑھتے ہوئے اخراجات سے ظاہر ہوتی ہیں۔
مرمو نے کہا کہ آمدنی میں عدم مساوات اور علاقائی تفاوت بھی کم ہو رہے ہیں۔ وہ ریاستیں اور علاقے جو پہلے کمزور تھے اب اپنی حقیقی صلاحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور سرکردہ ریاستوں کے صف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہماری آزادی کی جدوجہد مایوسی سے نہیں بلکہ امید کے مضبوط احساس سے نشان زد ہے ۔ امید کا یہی احساس آزادی کے بعد ہماری ترقی کو تقویت بخش رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے ہمارا آئین اور ہماری جمہوریت سب سے اہم ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی کو دیکھتے ہوئے ہمیں ملک کی تقسیم سے ہونے والے درد کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے ۔
صدر مملکت نے اہل وطن سے ملک کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ معاشرے کے تین طبقے ہیں جو ہمیں ترقی کی اس راہ پر آگے لے جائیں گے ، یہ تین طبقے ہیں ہمارے نوجوان، خواتین اور وہ کمیونٹیز جو عرصہ دراز سے پسماندہ ہیں، آخر کار ہمارے نوجوانوں کو سازگار حالات مل گئے ہیں تاکہ تعلیم کے ذریعے ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے ۔
مرمو نے کہا کہ نوجوان ٹیلنٹ کی توانائی سے بااختیار ہو کر ہمارے خلائی پروگرام میں بے مثال توسیع ہوئی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ شبھانشو شکلا کے بین الاقوامی خلائی مرکز کے دورے نے پوری نسل کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دی ہے ۔ یہ خلائی سفر ہندوستان کے آنے والے انسانی خلائی پروگرام ’گگنیان‘کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کھیلوں کے میدان میں ملک کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پراعتماد نوجوان کھیلوں کی دنیا میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے نوجوان اب شطرنج پر حاوی ہیں جیسا کہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ قومی کھیل پالیسی۵۲۰۲میں شامل خواب کے مطابق ہم ایسی بنیادی تبدیلیوں کا تصور کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر ہندوستان عالمی کھیلوں کی سپر پاور بن کر ابھرے گا۔ لڑکیاں ہمارا فخر ہیں۔ دفاع اور سلامتی سمیت ہر میدان میں رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے شطرنج کی عالمی چیمپئن شپ کےلئے’ایف آئی ڈی ای ویمنز ورلڈ کپ‘کے فائنل میچ کا ذکر کیا۔
ماحولیاتی تحفظ کے معاملے پر صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں اپنی عادات اور اپنے عالمی نظریے کو بدلنا ہو گا، ہمیں اپنی زمین، دریائوں، پہاڑوں، پودوں اور جانوروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی بدلنا ہو گا۔
اس موقع پر محترمہ مرمو نے ملک کے سپاہیوں، پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز، عدلیہ اور انتظامی خدمات کے ارکان کو یوم آزادی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے بیرون ملک ہندوستانی سفارت خانوں میں کام کرنے والے ہندوستانی عہدیداروں اور این آر آئیز کو بھی یوم آزادی کی مبارکباد دی










