جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

اعاصم منیر کے بعد شہباز شریف کی جنگ کی دھمکیاں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-08-14
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

پاکستانی فوج کے سربراہ‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بعد ہمسایہ ملک کے وزیر اعظم ‘ محمد شہباز شریف نے بھارت کو سبق سکھانے کی دھمکی دی ہے اگر سندھ طاس معاہدے کے تحت اس ملک کو پانی فراہم نہیں کیا گیا ۔
شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد نئی دہلی کو اپنے ملک کا پانی ’ایک قطرہ بھی‘ نہیں لینے دے گا۔ اس سے پہلے پاکستان نے بھارت پر زور دیاتھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے ۔
شریف نے کہا’میں آج دشمن کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ہمارے پانی کو روکنے کی دھمکی دیتے ہیں تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ پاکستان سے ایک قطرہ بھی نہیں چھین سکتے‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا’’آپ ہمارے پانی کو روکنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اگر آپ اس طرح کی کوشش کرتے ہیں تو پاکستان آپ کو ایک ایسا سبق سکھائے گا جسے آپ کبھی نہیں بھولیں گے‘‘ ۔
اپریل میں بائسرن پہلگام میں دہشت گردوں کے ۲۶؍افرا د کے قتل عام کے بعد مرکزی حکومت نے ۱۹۶۰ کی دہائی میں پاکستان کے ساتھ ہوئے سندھ طاس معاہدہ کو غیرفعال رکھنے کا فیصلہ یہ کہہ کر لیا کہ دہشت گردی اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے ہیں ۔
اس کے بعد دونوں ممالک میں ۴ دنوں تک مسلح ٹکراؤ بھی ہوا جو ۱۰ مئی کو اس وقت رک گیا جب پاکستان کے ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے یقین دلایا کہ مستقبل میںجنگ بندی معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو گی ‘ لیکن اس کے بعد سے پاکستان کی سویلین اور ملٹری قیادت دھمکیاں دیتی رہی ہے ۔
حالیہ دنوں میں پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھارت کو ایٹمی دھمکی دینے کی کوشش کی، جبکہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے کھلے عام جنگ کے امکان کی بات کی۔ یہ دونوں بیانات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ پاکستان کے اپنے قومی مفاد، سفارتی ساکھ اور معاشی بحالی کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔
یہ خیال کہ بھارت کو فوجی یا ایٹمی دھمکیاں دے کر پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے، ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ اس بات کا گواہ ہے کہ اس رویے نے نہ کشمیر کے مسئلے کو حل کیا، نہ خطے میں امن لایا، بلکہ صرف بیاعتمادی اور عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی میں اضافہ کیا۔ آج بھارت ہر لحاظ سے مضبوط ہے ۔ اس کی معیشت مستحکم ہے، فوج جدید ہتھیاروں سے لیس ہے، اور دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہیں۔ ایسی صورت میں اسلام آباد کی محض زبانی دھمکیاں دہلی کو مرعوب نہیں کر سکتیں۔
جنرل منیر کی ایٹمی دھمکی خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ایٹمی ہتھیار ذمہ دار ریاستوں کے لیے آخری دفاعی آپشن ہوتے ہیں، سیاسی بیانات میں استعمال کرنے کا کھلونا نہیں۔ اس قسم کی زبان پاکستان کو ایک غیر ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، جس سے عالمی برادری میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور معاشی و سفارتی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح وزیرِاعظم شہباز شریف کی جنگ کی بات، پاکستان کے اس مؤقف کو کمزور کر دیتی ہے کہ وہ پرامن مذاکرات کا خواہاں ہے۔
ایسے جارحانہ بیانات نہ صرف بھارت کو مزید سخت مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ان ملکوں کو بھی بدظن کرتے ہیں جو پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر سکتے تھے۔ جب ملک مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بحران میں پھنسا ہو، تو دشمن کے خلاف دھمکی آمیز بیانات محض عوام کی توجہ ہٹانے کا ایک آسان ذریعہ ہوتے ہیں، مگر یہ ملک کے حقیقی مسائل کا حل نہیں۔
بھارت کی پالیسی واضح ہے: وہ سرحد پار دہشتگردی یا ایٹمی بلیک میلنگ کو برداشت نہیں کرے گا، اور کسی بھی اشتعال کا منہ توڑ جواب دے گا۔ دہلی کا پیغام بھی صاف ہے ‘ مذاکرات ممکن ہیں، مگر صرف اس ماحول میں جہاں دھمکیاں اور تشدد نہ ہوں۔
پاکستان کے لیے فیصلہ سیدھا ہے یا تو دھمکیوں کی سیاست ترک کر کے ترقی، استحکام اور امن کی طرف بڑھے، یا پھر دنیا میں مزید تنہائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرے۔ جذباتی تقریریں سیاسی جلسوں میں داد تو لا سکتی ہیں، لیکن بین الاقوامی تعلقات میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب تک اسلام آباد اس حقیقت کو نہیں سمجھتا، اس کی جنگی اور ایٹمی دھمکیاں صرف الفاظ رہیں گی ‘ جن سے حقیقت میں کچھ نہیں بدلے گا۔
پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کو غیر فعال رکھنے سے یقینا شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اس کی تقریباً ۸۰ فیصد نہری زراعت انڈس ریور سسٹم پر منحصر ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کا حق حاصل ہے، جو خوراک پیدا کرنے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔چونکہ بھارت ان دریاؤں کا بالائی ملک ہے، اس لیے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی رکاوٹ یا تبدیلی کا خطرہ پاکستان کے لیے ایک فطری کمزوری ہے، چاہے معاہدہ قانونی طور پر پاکستان کے حقوق کی ضمانت دیتا ہو۔
مختصر یہ کہ انڈس واٹر ٹریٹی پاکستان کے لیے پانی کی شہ رگ ہے۔ اس کے بغیر پنجاب اور سندھ کا زرعی مرکز شدید قلتِ آب کا شکار ہو جائے گا، معیشت کو کاری ضرب لگے گی اور خوراک کا بحران جنم لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس معاہدے کو عالمی فورمز پر ہر قیمت پر بچانے کی کوشش کرتا ہے‘لیکن وہ اس پر غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہتے کہ اگر اس نے بھارت کے تئیں مخاصمت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اپنا یا ہوتا تو آج اسے یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا… المیہ یہ ہے کہ وہ اب بھی باز نہیں آرہاہے اور جنگ کی دھمکیاں مسلسل دے رہاہے یہ سوچے بغیر کہ اگر جنگ ہو ئی تو اس کا حشر نشر کیا ہو گا۔
۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

یہ سچ میں Too Much ہوگیا !

Next Post

پونچھ میں ۵۲ ممنوعہ کتابوں کی تلاش میںپولیس کا متعدد دکانوں کا معائنہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post

پونچھ میں ۵۲ ممنوعہ کتابوں کی تلاش میںپولیس کا متعدد دکانوں کا معائنہ

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.