جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ۲۵معروف قومی و بین الاقوامی مصنفین کی کتابوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پولیس نے پونچھ میں ان کتابوں کی ضبطی کے لیے وسیع پیمانے پر چھاپہ ماری کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
یہ کارروائیاں۵اگست کو جاری کردہ محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری کے ایک حکم نامے کے بعد عمل میں آئیں، جس میں کہا گیا کہ ان کتابوں میں ایسی مواد موجود ہے جو ملک کی خودمختاری، سالمیت اور یکجہتی کے لیے خطرہ ہے۔
حکم نامے میں بھارتیہ نیایہ سنہیتا۲۰۲۳ کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تلاشی مہم کے دوران ضلع کے مختلف مقامات پر کتابوں کی دکانوں کا معائنہ کیا گیا، تاہم کسی بھی دکان سے یہ کتابیں برآمد نہیں ہوئیں۔
افسر نے مزید کہا کہ تمام کتاب فروشوں کو اس حکم سے باخبر کیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ اس نوعیت کا مواد کسی بھی شکل میں اسٹاک یا فروخت نہ کیا جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ ممنوعہ مواد کی فروخت یا تقسیم کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ پابندی عائد کی گئی کتابوں میں مشہور ماہرِ آئین اے جی نورانی کی’دی کشمیر ڈسپیوٹ‘ سمنترہ بوس کی’کشمیر ایٹ دی کراس روڈ’، دیو دت دیو داس کی’ان سرچ آف آ فیوچر‘، ارون دھتی رائے کی ’آزادی‘، انورادھا بھاسن کی’اے ڈسمینٹلڈ اسٹیٹ‘، طارق علی، پنکج مشرا و دیگر کی’کشمیر: دی کیس فار فریڈم‘، کرسٹوفر سنڈن کی ’انڈیپینڈنٹ کشمیر‘اور امام حسن البنا کی’مجاہد کی اذان‘شامل ہیں







