(ویب ڈیسک/ایجنسیز)
نئی دہلی//
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو سابرمتی ریور فرنٹ پر دوڑ سے لطف اندوز ہوتے اور اسٹیچوآف یونیٹی کا دورہ کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہیں۔
’’ ان کا دورہ اتحاد کا ایک اہم پیغام دیتا ہے اور ہمارے ساتھی ہندوستانیوں کو ہندوستان کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کی ترغیب دے گا‘‘۔
مودی نے سوشل میڈیا سائٹ’ایکس‘پر کہا’’ عمر عبداللہ جی کو سابرمتی ریور فرنٹ پر دوڑ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اور اسٹیچو آف یونیٹی کا دورہ کرتے ہوئے دیکھ کر اچھا لگا۔ ان کا دورہ اتحاد کا ایک اہم پیغام دیتا ہے اور ہمارے ساتھی ہندوستانیوں کو ہندوستان کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کی ترغیب دے گا‘‘۔
اس سے قبل، عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا’ایکس‘پر ایک پوسٹ میں اپنے کانوڑیوں کے یاتراکی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا’’جب میں احمد آباد میں سیاحتی پروگرام کے لیے مشہور سابرمتی ریور فرنٹ پر صبح کی دوڑ کے لیے جانے کے لیے یہاں آنے کا فائدہ اٹھایا۔ یہ سب سے خوبصورت جگہوں میں سے ایک ہے جہاں میں دوڑ سکا ہوں اور اسے بہت سے دوسرے پیدل چلنے والوں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے خوشی ہوئی۔‘‘
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے اپنے جواب میں کہا کہ سفر نہ صرف ذہنی افق کو وسیع کرتا ہے بلکہ معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس سوشل میڈیا تبصرے کا جواب دیا جس میں وزیر اعظم نے عمر عبداللہ کے ’اسٹیچو آف یونٹی‘ کے دورے کو’‘قومی یکجہتی کی علامت‘قرار دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو ایکس پر لکھا’’میں ہمیشہ سے یہ مانتا آیا ہوں کہ سفر ذہن اور سوچ کو وسعت دیتا ہے ۔ خاص طور پر جموں و کشمیر جیسے خطے کے لیے سیاحت نہایت اہم ہے کیونکہ یہ لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اسی لیے میں اور میری ٹیم ملک کے دیگر شہریوں کو جموں و کشمیر آنے کی دعوت دے رہے ہیں‘‘۔
عمر عبداللہ دو روزہ گجرات دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے آج احمد آباد میں واقع سبھاش چندر آشرم (سابر متی آشرم) کا دورہ کیا اور مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’احمد آباد کا میرا دورہ مکمل ہوا۔ مجھے مہاتما گاندھی کے سابرمتی آشرم کی سیر کرائی گئی، جس پر میں نہایت شکر گزار اور خود کو خوش نصیب محسوس کرتا ہوں۔ گاندھی جی کی تعلیمات آج بھی ہمیں صحیح راستے کی جانب رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اگرچہ ہم اکثر اس پر عمل نہیں کرتے ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے آشرم میں چرخے کا استعمال بھی سیکھنے کی کوشش کی۔میں نے چرخہ چلانے کی مشق کی، جیسا کہ گاندھی جی کیا کرتے تھے ۔ میرے ساتھ ایک صابر استاد تھے جنہوں نے مجھے روئی سے دھاگہ بنانے کا طریقہ سکھایا۔
جمعرات کو عمر عبداللہ نے کیواڑیہ میں سردار سروور ڈیم کا دورہ بھی کیا اور اسے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک انقلابی منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب جب کہ سندھ طاس معاہدہ معطل ہو چکا ہے ، ایسے منصوبے جموں و کشمیر میں بھی شروع کیے جا سکتے ہیں تاکہ بجلی اور پانی کی قلت کا ازالہ ممکن ہو سکے ۔
وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’یہ ڈیم ان علاقوں میں پانی لے کر آیا جہاں پہلے صرف قحط تھا۔ جموں کشمیر کیلئے یہ بدقسمتی رہی کہ ہم ایسے منصوبوں کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ ہمیں پانی روکنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ اب جب معاہدہ معطل ہو چکا ہے ، شاید ہمارے لیے بھی ایسی راہیں کھلیں گی‘‘۔
دورہ گجرات کے دوران عمر عبداللہ نے ’اسٹیچو آف یونٹی‘کا دورہ بھی کیا اور اسے’’نئے ہندوستان کی شان اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کو عظیم خراج عقیدت‘قرار دیا۔
اس سے قبل بدھ کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے گاندھی نگر میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپندر پٹیل سے خیر سگالی ملاقات بھی کی۔ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینا تھا۔
وزیر اعلیٰ کے اس دورے کو ایک علامتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، جس کا مقصد نہ صرف بین الریاستی تعلقات کو مستحکم کرنا ہے بلکہ وادی میں سیاحت کے شعبے میں نئی روح پھونکنا بھی ہے ۔










