’یہ نا مناسب بات ہے ‘اپوزیشن کو اپنے کردار کا خیال رکھنا چاہیے ‘اس کے رویے کو پورا ملک دیکھ رہا ہے‘
نئی دہلی//
اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بدھ کو بھی اپنے مطالبات کے حق میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ آرائی کی، جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر دی گئی۔
جیسے ہی پریزائیڈنگ آفیسر کرشنا پرساد تینیٹی نے دو بار کارروائی ملتوی کرنے کے بعدایوان کی کارروائی دوبارہ شروع کی تو اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے ۔
ہنگامہ کے دوران پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ آج گوا کے قبائل سے متعلق ایک بہت اہم بل پر بحث ہونی ہے ۔یہ قبائلیوں سے متعلق معاملہ ہے اس لیے تمام ممبران کو تعاون کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پہلے ہی دو دن ضائع ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ہنگامہ برپا کرنے والے اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان سے کہا’’آپ تختیاں لے کر آئے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ آپ گوا کے قبائل سے متعلق بل پر بحث نہیں کرنا چاہتے ‘‘۔
تینیٹی کے بار بار کہنے پر بھی جب ہنگامہ نہیں رکا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔اس سے پہلے ، اپوزیشن نے بہار میں خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ آرائی کی۔
اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی ہنگامہ آرائی کے باعث صبح ۱۱بجے وقفۂ سوالات شروع نہ ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دوپہر ۱۲بجے تک ملتوی کردی گئی۔
دوپہر ۱۲بجے جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ایس آئی آر کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا۔
پریزئیڈنگ آفیسر سندھیا رائے نے ہنگامہ آرائی کے دوران ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھیں۔ مسز رائے نے ہنگامہ آرائی کرنے والے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ ان میں سے بہت سے سینئر ممبر ہیں، تجربہ کار ہیں، انہیں ایوان کے وقار اورنظم و ضبط کا خیال رکھنا چاہئے ۔
آج مسلسل تیسرے دن ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالا جا رہا ہے جو کہ انتہائی نامناسب ہے ۔ اپوزیشن کو اپنے کردار کا خیال رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اپوزیشن کے رویے کو دیکھ رہا ہے ۔
مسز رائے کی اپیل کا اپوزیشن ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ ہنگامہ برپا کرتے رہے ۔ اس پر پریسائیڈنگ افسر نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی۔
دوسری جانب بہار میں انتخابی کمیشن کی ووٹر لسٹ پر خصوصی جامع نظر ثانی (ایس آئی آر) کے خلاف متحد اپوزیشن نے بدھ کو مسلسل دوسرے دن راجیہ سبھا میں ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے دو اجلاسوں کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی گئی۔
مانسون اجلاس کا آج تیسرا دن ہے اور بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے راجیہ سبھا میں گزشتہ دو دنوں سے کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہوسکا ہے ۔
پریزائڈنگ ڈپٹی چیرمین بھونیشور کلیتَا نے دوپہر ۲بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع کرتے ہوئے بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر سربانند سونووال سے کہا کہ وہ ’کیریج آف کارگو بائی سی بل۲۰۲۵‘ کو بحث اور منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں۔
اسی دوران اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر ڈپٹی چیئر مین کی نشست کے قریب آگئے ۔ انہوں نے بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ‘ایس آئی آرواپس لے لو’ کے نعرے لگانے شروع کردیئے ۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان مسٹر سونووال نے بل پیش کردیا۔
ڈپٹی چیئرمین نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایم تمبی دورے سے بل پر بحث شروع کرنے کے لیے کہا۔ جیسے ہی مسٹر دُرے تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی تیز کردی۔
ڈپٹی چیئرمین نے ارکان سے خاموش رہنے اور اپنی نشستوں پر واپس جانے کی اپیل کی لیکن جب اس کا کوئی اثر نہ ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔
اس سے پہلے بھی اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی پہلے ۱۲بجے اور پھر۲بجے تک ملتوی کرنا پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔










