تو صاحب، آج کی تازہ اور ایک دم تازہ خبر یہ ہے کہ اپنے ٹرمپ صاحب ……. ڈونالڈ ٹرمپ صاحب کے بھارت دیش میں نمائندے، سرجیو گور، اپنے کشمیر آئے تھے۔ نہیں صاحب، ہم نے کون سا ان سے ملنا تھا جو ہم ان کی آمد پر خوش ہوتے ……. خوش تو اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، ہوئے۔ گور صاحب سے بالمشافہ ملاقات کرکے، اللہ میاں کی قسم، ان کی خوشی دیکھ کر ہمیں لگا کہ یہ جناب یقین کرنا چاہتے تھے کہ کیا واقعی میں یہ ٹرمپ صاحب کے نمائندے سے مل رہے ہیں۔وہ کیا ہے کہ ایک زمانہ تھا، اور یہ زیادہ پرانا زمانہ نہیں تھا ……. یہ وہ زمانہ تھا جب اپنے کشمیر میں آئے دن کوئی نہ کوئی نمائندہ آ ہی جاتا تھا ……. کشمیر کے گلی کوچوں میں جاتا اور ……. اور ان گلی کوچوں میں جو امیرِ اعلیٰ، چیئرمین، نائب چیئرمین، صدر اور نائب صدر ہوا کرتے تھے، اور ہول سیل میں ہوا کرتے تھے ……. ان سے ملنے جاتا۔ ان سے ملنے کے بعد عمر عبداللہ جیسوں کی باری آتی اور یہ نمائندے، یہ سفراء، ان سے ملتے۔اور یہ زیادہ پرانا زمانہ نہیں تھا کہ اُس زمانے کے بعد ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب کوئی کشمیر کا رخ نہیں کرتا تھا۔ اور آج، ۱۵ برسوں بعد، ٹرمپ صاحب کے نمائندے نے کشمیر کا رخ کیا اور اپنے گورے گورے بانکے چھورے سے ملے …….کیوں ملے؟ ہم نہیں جانتے ہیں، بالکل بھی نہیں جانتے ہیں، سوائے اس ایک بات کے کہ ان سے ملنے کے بعد وزیر اعلیٰ صاحب واقعی خوش تھے اور خود کو خوش قسمت بھی سمجھ رہے تھے۔ہاں، یاد آیا! ایک اور بات جو ہم جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ گور صاحب نے باتوں باتوں میں جموں و کشمیر کو بھارت کا ’اہم‘ حصہ بھی قرار دیا۔ استغفراللہ! ہمیں کیوں اعتراض ہوگا؟ اللہ میاں کی قسم، ان کی اس بات پر ہمیں تو بالکل بھی اعتراض نہیں ہے ……. الٹا ہم تو کہہ رہے ہیں کہ انہیں ایسا کہنے کی ضرورت بھی نہیں تھی، کہ ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ جموں و کشمیر سچ میں اہم حصہ ہے ……. اپنے بھارت کا۔لیکن جہاں غور صاحب ……. معاف کیجیے، گور صاحب نے اتنی باتیں کیں، وہاں اگر ایک اور بات بھی کہتے تو ہمیں اچھا لگتا ……. یہ کہتے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہے اوریہاں کے لوگ بھی اہم ہیں تو ……. تو اللہ میاں کی قسم، ہم خوش ہوتے ……. اتنے ہی خوش، یا پھر اُس سے بھی زیادہ خوش، جتنے ٹرمپ صاحب کے نمائندے سے ملاقات پر اپنے وزیر اعلیٰ خوش ہیں۔ہے نا؟










