جموں//
جموں کشمیر کے ضلع ریاسی کے ماہورعلاقے میں دوران شب بھاری بارشوں کی وجہ سے مٹی کے تودے کی زد میں آنے سے دو افراد کی بر سر موقع ہی موت واقع ہوگئی۔
ذرائع نے بتایا کہ ریاسی کے ماہور علاقے میں شیو گھپا کے نزدیک لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دو افراد کی موت واقع ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ افراد ایک ٹینٹ میں سوئے ہوئے تھے ۔
متوفین کی شناخت۲۶سالہ رشپال سنگھ ولد سوبا رام ساکن تولی کلوان ریاسی اور۲۳سالہ روی کمار ولد پروشتم کمار سکن چننی اودھم پور کے طور پر ہوئی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ رشپال جی سی بی آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔
دریں اثنا پولیس نے اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔
اس دوران لیفٹیننٹ گورنر منو ج سِنہانے ضلع ریاسی کے بادورا علاقے میں پیش آئے افسوسناک لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دُکھ کا اِظہار کیا ہے۔
سنہا نے کہا’’ریاسی کے بادورا علاقے میں لینڈ سلائیڈ کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔اِس غم کی گھڑی میں میری تمام تر ہمدردیاں اُن سوگوارکنبوںکے ساتھ ہیں جنہوں نے اَپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی و شفایابی کے لئے دعا گوں ہوں۔‘‘
دریں اثنانا ساز گار موسمی صورتحال کے پیش نظر ضلع انتظامیہ رام بن نے چار تعلیمی زونز میں تمام سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کو بدھ کے روز بنا بر احتیاط بند رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔
چیف ایجوکیشن افسر رام بن کی طرف سے جاری ایک حکمنامے میں کہا گیا کہ موجودہ خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر بانہال، کھاری، اوکھرال اور گول تعلیمی زونز میں بدھ کے روز تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے بند رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ تاہم بٹوٹ اور رام بن تعلیمی زونز کے دائرے میں آنے والے تعلیمی ادارے حسب معمول کھلے رہیں گے ۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی طور پر کیا گیا تاہم بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق جموں وکشمیر میں ۲۴جولائی تک بارشوں کا امکان ہے اور اس دوران کچھ علاقوں میں سیلابی ریلے ، مٹی کے تودے گر آںے اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ جانے کے بھی خطرات ہیں۔










