نئی دہلی//
پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو چن چن کر مارنے کے حکومت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے ، ہندوستانی مسلح افواج نے منگل کی دیر رات پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں۲۵منٹ تک حملے کرکے دہشت گردوں کے۹ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ۔
خارجہ سکریٹری وکرم مسری، آرمی کرنل صوفیہ قریشی اور فضائیہ کے ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے بدھ کو یہاں نیشنل میڈیا سینٹر میں ملک کو۶؍اور۷مئی کی رات ایک بجکر ۵ منٹ سے دیڑھ بجے تک جاری رہے آپریشن سندورکے بارے میں بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردانہ حملوں کو بڑھاوا دے رہا ہے اور دہشت گردانہ حملوں میں اب تک۳۵۰عام لوگ اور۶۰۰سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔
آپریشن سندورمیں جن نو مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے چار پاکستان میں اور پانچ مقبوضہ کشمیر میں ہیں۔ ان مقامات پر دہشت گرد تنظیموں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ہیڈ کوارٹر، بھرتی کے مراکز، تربیتی مراکز اور لانچ پیڈ ہیں۔
مسری نے کہا کہ گزشتہ رات کی سرحد پار کی گئی کارروائی نپی تلی، غیر اشتعال انگیز اور ذمہ دارانہ تھی، جس کا مقصد دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نیس و نابود کرنا اور دہشت گردوں کو اس طرح کی مزید کارروائیوں سے معذور کرنا تھا۔ان کاکہنا تھا’’ اس کارروائی میں کسی پاکستانی فوجی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس میں کسی بے گناہ کی جان نہیں گئی اور نہ ہی ان کی املاک کو نقصان پہنچا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے ۲۵؍اپریل کو پہلگام حملے کے حوالے سے جاری کردہ بیان کی روح کے مطابق ہے ۔
سیکریٹری خارجہ نے کہا’’پاکستان میں مقیم دہشت گرد ماڈیولز پر ہماری انٹیلی جنس نگرانی نے اشارہ دیا ہے کہ ہندوستان پر آگے بھی حملے ہوسکتے ہیں اور اس لیے ان کو روکنا اور ان کا مقابلہ کرنا کافی ضروری سمجھا گیا۔ آج صبح ہندوستان نے اس طرح کے سرحد پار حملوں کو روکنے اور جواب دینے کا اپنا حق استعمال کیا ہے ‘‘۔
مسری نے کہا کہ۲۵؍اپریل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پریس بیان سے ٹی آر ایف (دی ریزسٹنس فرنٹ) کا حوالہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے دباؤ پر بھی توجہ دی جانی چاہیے ۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات سے دہشت گردوں کے پاکستان کے ساتھ روابط بے نقاب ہوئے ہیں۔
خارجہ سکریٹری نے پہلگام حملے کا مکمل پس منظر پیش کرتے ہوئے کہا ’’۲۲؍اپریل ۲۰۲۵کو، لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی اور پاکستان سے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے جموںکشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کیا اور۲۵ہندوستانی اور ایک نیپالی شہری کو قتل کردیا تھا۔انہوں نے ان لوگوں کو ان کے کنبے کے ارکان کے سامنے میں سروں میں گولی ماری۔ کنبے کے ارکان کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ واپس جاکر اس پیغام کو پہنچا دیں۔ یہ حملہ واضح طور پر جموں و کشمیر میں حالات کے معمول پر آنے کو متاثر کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا‘‘۔
مسری نے کہا کہ یہ حملہ واضح طور پر عام حالات کو بگاڑنے اور جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ اسے سیاحت کو متاثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جو یونین ٹیریٹری میں معیشت کی اہم بنیاد ہے ۔
خارجہ سکریٹری نے کہا کہ گزشتہ سال ریکارڈ ۵ء۲کروڑ سیاحوں نے وادی کا دورہ کیا تھا۔ اس کا مقصد یونین ٹیریٹری میں ترقی اور پیشرفت کو نقصان پہنچانا اور پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کو جاری رکھنے کے لیے زرخیز زمین بنانا بھی تھا۔
مسری نے کہا کہ یہ حملہ اس طرح کیا گیا ہے کہ اس سے جموں و کشمیر سمیت پورے ملک میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور اس کا کریڈٹ مرکزی حکومت اور عوام کو دیا جانا چاہئے جنہوں نے ان منصوبوں کو ناکام بنایا۔
خارجہ سکریٹری نے کہا کہ خود کو’مزاحمتی محاذ‘کہنے والے ایک گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ اس گروپ کا تعلق اقوام متحدہ کے کالعدم پاکستانی دہشت گرد گروپ لشکر طیبہ سے ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے مئی اور نومبر ۲۰۲۴میں اقوام متحدہ کی۱۲۶۷پابندیوں کی کمیٹی کی نگرانی کرنے والی ٹیم کو اپنی نیم سالانہ رپورٹوں میں ٹی آر ایف کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں، جس میں پاکستان میں مقیم دہشت گرد گروپوں کے لیے پاکستان کے کردار کو بے نقاب کیا گیا تھا۔
اس سے قبل دسمبر۲۰۲۳میں بھی ہندوستان نے مانیٹرنگ ٹیم کو لشکر اور جیش محمد کے بارے میں مطلع کیا تھا جو ٹی آر ایف جیسے چھوٹے دہشت گرد گروپوں کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔
خارجہ سکریٹری نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات سے دہشت گردوں کے پاکستان کے ساتھ روابط بے نقاب ہوئے ہیں۔ مزاحمتی محاذ کی طرف سے کیا گیا دعویٰ اور سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعہ اس کی دوبارہ پوسٹنگ جس سے لشکر طیبہ سے تعلق ہے اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔ حملہ آوروں کی شناخت بھی عینی شاہدین کے بیانات اور مختلف تفتیشی ایجنسیوں کو دستیاب دیگر معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ خفیہ ایجنسی نے اس ٹیم کے منصوبہ سازوں اور ان کے حامیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کی ہیں۔
مسری نے کہا کہ اس حملے کا طریقہ کار ہندوستان میں سرحد پار دہشت گردی کو انجام دینے کے پاکستان کے طویل ٹریک ریکارڈ سے بھی منسلک ہے ، جس کے لیے تحریری اور واضح دستاویزات دستیاب ہیں۔ پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر پہچانا جا چکا ہے ۔ مزید برآں، پاکستان نے اس معاملے پر عالمی اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے بین الاقوامی فورمز کو جان بوجھ کر گمراہ کیا ہے ۔ ساجد میر کا معاملہ جہاں پاکستان کی جانب سے دہشت گرد کو مردہ قرار دیا گیا اور پھر بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں اسے زندہ پایا گیا، اس کی واضح مثال ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ حملوں کے پندرہ دن گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین پر یا اس کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ۔ اس کے برعکس وہ تردید اور الزامات میں ملوث رہا ہے ، اس لیے یہ کارروائی ضروری تھی۔