سرینگر/۵اپریل
سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو نے جموں و کشمیر میں ریزرویشن سے متعلق ایک عرضی خارج کئے جانے پر عوام کو گمراہ کرنے پر پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد لون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایتو نے لون پر اس معاملے پر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حلف نامہ داخل کرنا اس معاملے پر حکومت کے حتمی موقف کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ حکومت عدالت میں نیا حلف نامہ داخل کر سکتی ہے کیونکہ موجودہ ریزرویشن پالیسی ’غیر منطقی ہے اور اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے‘۔
ایتو نے کہا کہ متوازن اور منطقی پالیسی وضع کرنے کےلئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔” سجاد لون بے چین کیوں ہیں؟ انہیں لوگوں کو گمراہ کرنے کے بجائے کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کا انتظار کرنے دیں“۔
ایتو نے واضح کیا کہ حکومت نے عرضی کو چیلنج کیا ہے ، لیکن یہ موجودہ ریزرویشن ڈھانچے کےلئے مکمل حمایت کے لئے نہیں ہے۔” ہم پالیسی میں اصلاحات کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی یہ حکومت جوں کی توں صورتحال کی حمایت نہیں کرتی۔ ہم ریزرویشن میں شفافیت اور معقولیت چاہتے ہیں“۔
اس سے قبل سجاد لون نے جموں و کشمیر میں ریزرویشن سے متعلق ایک عرضی کو خارج کرنے کی مانگ کرنے پر وزیر اعلی عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں پیپلز کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے ہائی کورٹ کے سامنے ایک حلف نامہ داخل کیا ہے ، جس میں درخواست کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن سے متعلق عرضی بے معنی ہے اور اسے خارج کردیا جانا چاہئے۔
سجاد لون نے اپنی پوسٹ میں کہا”جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ظہور احمد بٹ اور دیگر بمقابلہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے معاملے میں کل جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامہ میں جموں و کشمیر حکومت نے عرضی کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور اسے مکمل طور پر خارج کرنے کی مانگ کی ہے“۔
جموں کشمیر کے سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ نے ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رٹ پٹیشن شرارتی اور بے بنیاد نوعیت کی ہے اور اسے عدالتی عمل کا غلط استعمال کرنے کے ارادے سے دائر کیا گیا ہے۔
حکومت نے’ظہور احمد بٹ اور دیگر بمقابلہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور دیگر‘ کے عنوان سے دائر عرضی کو خارج کرنے کی مانگ کی ہے۔
یہ حلف نامہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے اس پالیسی پر احتجاج کے بعد ریزرویشن کے معاملے کو دیکھنے کے لئے سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
ادھرپلوامہ سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ایم ایل اے وحید پرہ نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کچھ اور نہیں بلکہ عوام کو گمراہ کرنے کا دکھاوا ہے۔
پرہ نے کہا”جموں کشمیر حکومت اب عدالت میں انتہائی ناقص ریزرویشن پالیسی کا دفاع کرتی ہے۔ نام نہاد کابینہ کمیٹی عوام کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ نہیں تھی۔ اب وہ رٹ پٹیشن کو بے بنیاد قرار دے کر خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جموں و کشمیر میں ہونہار طلباءکے مستقبل کو سبوتاڑ کیا جا سکے“۔
دریں اثنا، ایتو نے ہفتہ کو کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی اتوار کو کچھ وفود سے ملاقات کرے گی تاکہ اہم مسائل کو حل کیا جاسکے اور ریزرویشن پر رائے اکٹھی کی جاسکے۔
ریزرویشن سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کل ایس کے آئی سی سی میں کچھ وفود کے ساتھ میٹنگ کرے گی۔ ایتو نے ایکس ایکس (ایجنسیز) جموں ٹریول پر ایک پوسٹ میں کہا”میٹنگ میں اہم مسائل کو حل کرنے اور ریزرویشن سے متعلق امور پر رائے اکٹھا کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔“
قابل ذکر ہے کہ حکومت نے بھرتیوں میں ریزرویشن کے پیچیدہ معاملے کی جانچ کےلئے کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔کمیٹی کو ۶ ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے ۔