وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اتحادی ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں وقف ترمیمی بل کیخلاف قرار داد بھی منظور
سرینگر/۴؍اپریل
جموں کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ کی صدارت میں نائب وزیر اعلیٰ کی فیئر ویو رہائش گاہ پر ایک اہم میٹنگ کے فوراً بعد حکمراں نیشنل کانفرنس (این سی) نے مرکزی حکومت کو سخت وارننگ جاری کی۔
پارٹی نے’ آخری‘ بار نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں عوام کے بھاری مینڈیٹ کو کمزور نہ کرے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو بغیر کسی مداخلت کے کام کرنے کی اجازت دے۔
یہ اجلاس لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ذریعہ جے کے اے ایس کے۴۸؍ افسروں کے حالیہ تبادلوں کے سیاسی اور انتظامی مضمرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے طلب کیا گیا تھا۔
قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ اتحاد ایل جی انتظامیہ کے فیصلے کے جواب میں اپنے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کرے گا۔
جمعہ کی سہ پہر میٹنگ ختم ہونے کے فوراً بعد نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان اور ایم ایل اے زڈی بل‘ تنویر صادق نے کانگریس لیڈر اور بانڈی پورہ کے ایم ایل اے نظام الدین بٹ کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں پارلیمنٹ میں منظور وقف بل سمیت اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔’’ یہ بل ملک میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف ہے اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایک اور اہم مسئلہ جموں و کشمیر کے عوام کی طرف سے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو دیا گیا مینڈیٹ تھا۔ ہم نے ایک بار پھر حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کا احترام کرے۔ یہ دونوں قراردادیں آج متفقہ طور پر منظور کی گئیں‘‘۔
گپکار میں نائب وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا’’عمر عبداللہ کی صدارت میں قانون ساز پارٹی کے اجلاس میں دو اہم قراردادیں منظور کی گئیں‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’ہم نے وقف ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ یہ اقلیتوں کے خلاف ہے۔ سب نے ایک آواز میں اس کی مخالفت کی۔ آج منظور کی گئی دوسری قرارداد میں ہم نے کہا ہے کہ منتخب حکومت کے مینڈیٹ کو پامال کرنے والا کوئی بھی شخص عوام اور ان کے مینڈیٹ کی توہین کر رہا ہے‘‘۔
تنویر نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اور نئی دہلی کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کو غلط نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا’’ہم حکمرانی میں وقار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اسے سیاسی کمزوری یا تابعداری کی علامت کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے‘‘۔
تنویر نے کہا کہ مرکز کو این سی کے تعاون کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے، ان کاکہنا تھا’’ہم آخری بار اس اپیل کو ایک درخواست کے طور پر نہیں بلکہ ایک پختہ انتباہ کے طور پر کر رہے ہیں:ہمیں دیوار کی طرف مت دھکیلیں‘‘۔
میٹنگ میں شریک کانگریس لیڈر نظام الدین بٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ طویل مدتی اور قلیل مدتی دونوں امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا’’کچھ سینئر رہنما شرکت نہیں کر سکے، لیکن مجھے دیگر رہنماؤں کے ساتھ کانگریس کی نمائندگی کرنے کا حکم دیا گیا تھا‘‘۔
بٹ نے کہا کہ حکومت کے تمام ایم ایل اے قائد ایوان کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ وقف بل اور عوامی مینڈیٹ جیسے حساس معاملوں پر متفقہ طور پر اتفاق رائے ہے کہ ان مسائل کو مرکز کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے۔‘‘