نئی دہلی/۲اپریل
پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے آج لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پیش کیا، جس کا مقصد وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کرنا ہے۔
بل کو غور و خوض اور منظوری کے لئے آج وقفہ سوالات کے بعد پیش کیا جائے گا۔ بل پر آٹھ گھنٹے کی بحث طے ہے، جس میں اضافہ کیا جائے گا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس نے اپنے ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ ایوان میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔
لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل پیش کرنے سے پہلے کرن رجیجو نے کہا کہ یہ ’تاریخی دن‘۔ رجیجو نے اسے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل ملک کے مفاد میں پیش کیا جارہا ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں وہ سیاسی وجوہات کی بناپر ایسا کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا”آج ایک تاریخی دن ہے اور آج وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا اور یہ بل ملک کے مفاد میں پیش کیا جارہا ہے۔ نہ صرف کروڑوں مسلمان بلکہ پورا ملک اس کی حمایت کرے گا۔ جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں۔ میں ایوان میں حقائق پیش کروں گا۔ اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ اگر کوئی مخالفت کرتا ہے تو وہ منطق کی بنیاد پر مخالفت کرے اور ہم اس کا جواب بھی دیں گے۔ کیونکہ جب ہم اس طرح کا بل لا رہے ہیں تو ہم بہت سوچ بچار اور تیاری کے بعد آئے ہیں“۔
ادھرمرکزی وزیر گری راج سنگھ کا کہنا ہے”یہ بل آئینی ہے، مسلمانوں کے مفاد میں ہے، غریبوں کے مفاد میں ہے۔ جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ مسلم مخالف ہیں“۔
دوسری جان سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ‘ رام گوپال یادو نے وقف بل میں مجوزہ ترامیم کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں ‘آمرانہ’ اور ‘غیر آئینی’ قرار دیا۔
یادو نے کہا کہ ہماری پارٹی شروع سے ہی اس بل کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ بل میں کی گئی ترامیم آمرانہ اور غیر آئینی ہیں۔ وہ اکثریت میں ہیں، اور وہ کسی نہ کسی طرح اسے منظور کروا لیں گے، لیکن ہم اس پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کو پتہ چلے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
یادو نے مزید کہا کہ آرٹیکل 26 میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو بغیر کسی مداخلت کے آزادانہ طور پر اپنے مذہبی معاملات چلانے کا حق حاصل ہوگا۔