سرینگر//
نامعلوم عسکریت پسندوں کی جانب سے کولگام میں سانبہ ضلع سے تعلق رکھنے والی استانی کی ہلاکت کے فوراً بعد وادی کی صوبائی انتظامیہ نے تمام محکموں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ان تمام ملازمین کی فہرست پیش کرے جو صوبہ جموں کے رہنے والے ہیں اور وادی میں تعینات ہیں۔
صوبائی کمشنر کے دفتر سے جاری اس حکمنامے میں تمام سرکاری محکموں کے عہدیداروں سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جموں صوبے، مائیگرنٹ ملازمین جو وادی میں تعینات ہے کی فہرست اور تفصیل جلد سے جلد فراہم کرے۔
غور طلب ہے کہ کولگام میں آج نامعلوم عسکریت پسندوں نے ضلع سانبہ سے تعلق رکھنے والی استانی کی گولی مار کر ہلاک کیا۔
مقتولہ استانی رجنی کماری بالا‘جس کو اسکول کے احاطے میں ہلاک کیا گیا ہے‘ضلع سانبہ سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن درجہ فہرست ذات کے زمرے میں ضلع کولگام میں استانی تعینات ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ درجہ فہرست ذات زمرے کے افراد کیلئے سرکار نے جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں سرکاری نوکریوں میں آٹھ فیصد رعایت رکھی ہے۔
اس سے قبل بھی گزشتہ برس اکتوبر میں جموں ضلع سے تعلق رکھنے والے دیپک چاند بھی اسی ذمرے میں ضلع سرینگر میں عیدگاہ کے ایک سرکاری اسکول میں استاد کے عہدے پر تعینات تھا جہاں ان کو نامعلوم عسکریت پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔
اس کے علاوہ اسی اسکول کی پرنسپل سپندر کور کو بھی ہلاک کیا تھا جو سرینگر کے آلوچی باغ کی رہنے والی تھیں۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس سے وادی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کے تحت اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو ہلاک کیا جارہا ہے جو انتظامیہ اور عوام کے لیے باعث تشویش ہے۔
واضح رہے کہ امسال ابھی تک۱۷ عام شہریوں کو وادی میں ہلاک کیا گیا ہے۔