سرینگر//(ویب ڈیسک )
خلائی مشن چندریان تھری کی کامیاب لینڈنگ کے بعد اس میں موجود چاند گاڑی یا روور ’پرگیان‘ نے چاند کی سطح پر چلنا شروع کر دیا ہے۔
سنسکرت لفظ ’پرگیان‘ کے معنی دانائی ہیں۔ پرگیان کے حوالے سے بھارت کے خلائی ادارے ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘ (آئی ایس آر او) نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں بتایا ہے کہ روور لینڈر سے باہر آ چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھارت نے چاند کی سطح پر قدم رکھ دیا ہے۔
خلائی مشن بدھ کو چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ میں کامیاب ہوا تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ چاند کے اس حصے میں کوئی خلائی مشن پہنچا ہے۔
چند دن قبل روس نے بھی اپنے خلائی مشن لونا۲۵کی قطب جنوبی میں لینڈنگ کی کوشش کی تھی۔ لیکن چاند کی سطح پر اترتے ہوئے یہ تباہ ہو گیا تھا۔
بھارت کے خلائی مشن میں موجود چھ پہیوں والی چاند گاڑی شمسی توانائی سے چلتی ہے۔یہ روور چاند کے قطب جنوبی میں اس علاقے کو دریافت کرے گا جس کا نقشہ آج تک نہیں بنایا جا سکا۔یہ چاند گاڑی ممکنہ طور پر آئندہ دو ہفتے تک چاند کے قطب جنوبی کی تصاویر اور سائنٹفک معلومات جمع کرے گی۔
بھارت نے قبل ازیں چار سال پہلے چاند کی سطح پر پہنچنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن چاند کی سطح پر لینڈر اترتے ہوئے اس کی چاند گاڑی تباہ ہو گئی تھی۔
بھارت نے خلا پر تحقیق جاری رکھی اور اب اس کا انسان کے بغیر مشن چاند کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔زمین سے چاند مشن چندریان تھری کا سفر چھ ہفتے قبل شروع ہوا تھا۔ بھارت میں اس مشن پر مسلسل تبصرے جاری تھے جب کہ کامیابی کی امید کی جا رہی تھی۔
مشن کی کامیابی پر بدھ کو بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ پوری انسانیت کی فتح ہے۔
واضح رہے کہ بھارت دنیا کا چوتھا ملک ہے جو اب تک چاند کی سطح پر اترنے میں کامیاب ہوا ہے۔ قبل ازیں یہ کارنامہ امریکہ، روس اور چین کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کے مشن کو چاند کی سطح پر پہنچنے میں۱۹۶۰؍اور۱۹۷۰کی دہائی میں چاند پر پہنچنے والے اپولو مشنز سے زیادہ وقت لگا۔
چندریان تھری کو ایک کم طاقت والے راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔ اس نے زمین کے مدار میں کئی چکر لگائے اور ہر چکر مکمل ہونے پر آہستہ آہستہ زمین سے دوری اختیار کی تھی۔ یہ سفر مکمل کرنے میں لگ بھگ چھ ہفتے لگے۔
بھارت کا اسپیس پروگرام دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم سرمائے سے چلایا جا رہا ہے۔ لیکن ۲۰۰۸میں چاند کے مدار میں مشن بھیجنے کے بعد سے یہ ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق چندریان تھری پر لگ بھگ سات کروڑ۴۶لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے جو دیگر ممالک کے چاند پر بھیجے گئے مشنز سے انتہائی کم ہے۔ تاہم اس سے بھارت کی کم لاگت کی اسپیس انجینئرنگ کی تصدیق ہوتی ہے۔
بھارت ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے مریخ کے مدار میں۲۰۱۴میں ہی خلائی جہاز منگل یان بھیج دیا تھا۔ یہ جہاز۳۰۰دن کے سفر کے بعد سرخ سیارے کے مدار میں داخل ہوا تھا۔
بھارت مستقبل میں خلا پر تحقیق کے کئی مشن بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آئندہ ماہ بھارت سورج پر تحقیق کے لیے مشن روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
بھارت میں آئندہ برس تین خلا بازوں پر مشتمل مشن زمین کے مدار میں روانہ کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اسی طرح بھارت اور جاپان ۲۰۲۵میں چاند پر مشترکہ مشن بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جب کہ سیارہ زہرہ پر تحقیق کے لیے بھی آئندہ دو برس میں مشن روانہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اس رپورٹ میں خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے معلومات لی گئی ہیں