نئی دہلی، 24 اکتوبر (یو این آئی) ڈیجیٹل زراعت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 11 کروڑ فارمر آئی ڈی بنانے کا ہدف مقررہ وقت سے پانچ ماہ پہلے ہی پورا کر لیا گیا ہے۔
زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کےمرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اس کامیابی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے خوشحال کسانوں اوروکست بھارت کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
یہ اطلاع ہفتہ کو یہاں جاری ایک سرکاری پریس ریلیز میں دی گئی۔ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کے مطابق، 23 اکتوبر کی رات تک 11 کروڑ فارمر آئی ڈی بنانے کا کام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 31 مارچ 2027 کی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی، لیکن بہتر تال میل کے ذریعے یہ ہدف پانچ ماہ پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔ انہوں نے اس کامیابی پر ملک بھر کے کسانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے فارمر آئی ڈی کو ان کی اپنی ڈیجیٹل شناخت قرار دیا۔
فارمر آئی ڈی پہل کا مقصد کسانوں کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت فراہم کرنا ہے، جس کے ذریعے کاغذی کارروائی اور بار بار تصدیق کے عمل کو کم کرکے سرکاری اسکیموں، بینک قرضوں، فصلوں کی بیمہ اور قدرتی آفات کے دوران امداد تک شفاف، مؤثر اور تیز رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
مسٹر چوہان نے کہا کہ فارمر آئی ڈی نظام سے کسانوں کو مختلف اسکیموں کے لیے سرکاری دفاتر اور بینکوں کے بار بار چکر لگانے یا ایک ہی دستاویز بار بار جمع کرنے کی ضرورت بڑی حد تک ختم ہو جائے گی۔ فارمر آئی ڈی کے ذریعے کئی اہم خدمات تک رسائی آسان اور شفاف ہو جائے گی۔
اس سے بینک قرضوں اور کسان کریڈٹ کارڈ سے متعلق کاموں میں آسانی ہوگی اور بار بار دستاویزات کی تصدیق کی ضرورت کم ہونے سے قرض حاصل کرنے کا عمل زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات یا فصلوں کے نقصان کی صورت میں معاوضے کا تخمینہ اور تقسیم زیادہ شفاف طریقے سے براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں کی جائے گی۔ فارمر آئی ڈی کے ذریعے ہنگامی حالات میں حقیقی اور اہل کسانوں تک امدادی رقم تیزی سے پہنچ سکے گی۔ ڈیجیٹل نظام خریداری کے عمل میں درمیانی افراد کے کردار کو ختم کرنے میں مدد دے گا اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی پوری قیمت مل سکے گی۔
مرکزی حکومت نے 2 ستمبر 2024 کو ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن شروع کیا تھا۔ وزیر زراعت نے اس کامیابی کا سہرا مرکز اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں کو دیتے ہوئے اسے ‘تعاون پر مبنی وفاقیت’ کی ایک بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بٹائی پر کھیتی کرنے والوں اور حقیقی طور پر کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے جوڑنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ کوئی بھی اہل کسان سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم نہ رہے۔







