کانگریس پر قومی گیت کی بے حرمتی کے الزام کو بھی مسترد کیا ‘کہاسارے اشعار گائے گئے تھے پھر تنازعہ کس بات کا
سرینگر؍۱۷اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ لوگوں کو قومی گیت ’وندے ماترم‘ گانے کا عادی ہونے میں کچھ وقت لگے گا، کیونکہ اسے سرکاری تقریبات میں صرف اسی سال شامل کیا گیا ہے۔
کانگریس رہنماؤں کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کی مبینہ بے حرمتی سے متعلق تنازعے پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ قومی گیت کے تمام اشعار گائے گئے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس نے بھی اپنی جانب سے وضاحت دی ہے۔ اس نے کہا کہ ویڈیو دیکھیں، وہاں وندے ماترم کے تینوں اشعار گائے گئے تھے۔ تو پھر تنازعہ کیا ہے؟ وہ گائے گئے تھے۔ ہمیں اس کا عادی ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسے شامل کیا گیا ہے۔ ہم بھی تھوڑا سا خود کو اس کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔‘‘
حالیہ دنوں میں دہلی پولیس میں ایک شکایت دائر کرکے کانگریس رہنماؤں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹرز میں پارٹی کی یوم آزادی تقریب کے دوران ’وندے ماترم‘ کی ادائیگی میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالی گئی۔
کانگریس نے کہا ہے کہ مکمل ’وندے ماترم‘ گانے کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پارٹی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ۱۹۳۷ میں کولکاتا میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کانگریس کے اجلاسوں میں ’وندے ماترم‘ کے ابتدائی اشعار گائے جائیں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والی یوم آزادی پریڈ بطور وزیر اعلیٰ ان کی آٹھویں پریڈ تھی، لیکن پہلی مرتبہ قومی گیت کو اس تقریب کا حصہ بنایا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ میری آٹھویں یوم آزادی پریڈ تھی، لیکن اس میں پہلی بار وندے ماترم شامل کیا گیا۔ مجھے یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ پہلے میں کھڑا ہوں گا، پھر وندے ماترم بجایا جائے گا، اس کے بعد میں پرچم لہراؤں گا اور پھر قومی ترانہ بجایا جائے گا۔ شاید کانگریس کو بھی اس کے مطابق خود کو ڈھالنے میں کچھ وقت لگا، ایسا ہوتا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی ایکس پر پوسٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا، جس میں سابق وزیر اعلیٰ نے آرٹیکل ۳۷۰ کی بحالی کی حمایت کرنے پر خود کو ’’دماغی نکسل‘‘ قرار دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آپ مجھ سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں ان کے ٹویٹ کی وضاحت دوں یا اس پر بات کروں؟ یہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے، ان کی بیٹی اسے چلاتی ہے، وہ جو چاہیں ٹویٹ کریں۔‘‘
جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات میں کسی نہ کسی حد تک حقیقت ضرور ہونی چاہیے، کیونکہ وہاں کی حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور کرچکی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’اگر طلبہ کے مطالبات جائز اور درست ہیں تو کہیں نہ کہیں انہیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ اگر وہ درست نہیں ہیں تو صاف کہہ دینا چاہیے کہ ان کے مطالبات میں کوئی وزن نہیں۔ اگر مذاکرات کا ایک دور ہوچکا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ دوسرا دور بھی ہوگا تو کہیں نہ کہیں ان کے مطالبات میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔ جو کچھ کرسکتے ہیں، کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے مطابق تعلیم اور صحت جیسے معاملات ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’یہ غلطی صرف بی جے پی کی نہیں ہے؛ مختلف مرکزی حکومتوں نے بھی ریاستوں کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ جو ایجنسیاں بنائی گئی ہیں اور انہیں جو اختیارات دیے گئے ہیں، یہ صرف بی جے پی کی وجہ سے نہیں ہوا۔ بدقسمتی سے یو پی اے حکومت کا بھی اس میں کردار رہا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر نیٹ جیسے امتحانات کو مرکزیت حاصل نہ ہوئی ہوتی تو بی جے پی رہنما دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ نہ دینا پڑتا، کیونکہ امتحانات ریاستی سطح پر منعقد ہوتے تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر کسی ریاست میں کوئی خامی ہوتی تو اس ریاست کا وزیر ذمہ دار ہوتا، لیکن امتحانات کو مرکز کے تحت لانے کے نتیجے میں کہیں کوئی خامی ہوئی اور مرکزی وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔ جو معاملات ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں ریاستوں کے پاس ہی رہنے دینا چاہیے اور جو مرکز کے دائرہ اختیار میں ہیں انہیں مرکز کو سنبھالنا چاہیے۔ مرکز کی ریاستوں کے معاملات میں مداخلت کی یہی عادت ہے جس کی وجہ سے دھرمیندر پردھان کو اپنا عہدہ کھونا پڑا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک )









