پیر, اکتوبر 12, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’وندے ماترم پر کوئی تنازعہ نہیں ہو نا چاہئے ‘

 اسی سال سرکاری تقریبات میں ’وندے ماترم‘ شامل کیا گیا، لوگوں کو عادی ہونے میں کچھ وقت لگے گا: وزیرا علیٰ عمر عبداللہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-18
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
اقتدار کے لیے اپنے  اصولوں کا سودا نہیں  کریں گے:عمرعبداللہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

جموں کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز کے قیام کیلئےتیار

وزیر اعلیٰ کی امتحانات سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی وکالت

کانگریس پر قومی گیت کی بے حرمتی کے الزام کو بھی مسترد کیا ‘کہاسارے اشعار گائے گئے تھے پھر تنازعہ کس بات کا

سرینگر؍۱۷اگست

                جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ لوگوں کو قومی گیت ’وندے ماترم‘ گانے کا عادی ہونے میں کچھ وقت لگے گا، کیونکہ اسے سرکاری تقریبات میں صرف اسی سال شامل کیا گیا ہے۔

                کانگریس رہنماؤں کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کی مبینہ بے حرمتی سے متعلق تنازعے پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ قومی گیت کے تمام اشعار گائے گئے تھے۔

                وزیر اعلیٰ نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس نے بھی اپنی جانب سے وضاحت دی ہے۔ اس نے کہا کہ ویڈیو دیکھیں، وہاں وندے ماترم کے تینوں اشعار گائے گئے تھے۔ تو پھر تنازعہ کیا ہے؟ وہ گائے گئے تھے۔ ہمیں اس کا عادی ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسے شامل کیا گیا ہے۔ ہم بھی تھوڑا سا خود کو اس کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔‘‘

                حالیہ دنوں میں دہلی پولیس میں ایک شکایت دائر کرکے کانگریس رہنماؤں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹرز میں پارٹی کی یوم آزادی تقریب کے دوران ’وندے ماترم‘ کی ادائیگی میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالی گئی۔

                کانگریس نے کہا ہے کہ مکمل ’وندے ماترم‘ گانے کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پارٹی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ۱۹۳۷ میں کولکاتا میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کانگریس کے اجلاسوں میں ’وندے ماترم‘ کے ابتدائی اشعار گائے جائیں گے۔

                عمر عبداللہ نے کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والی یوم آزادی پریڈ بطور وزیر اعلیٰ ان کی آٹھویں پریڈ تھی، لیکن پہلی مرتبہ قومی گیت کو اس تقریب کا حصہ بنایا گیا۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ میری آٹھویں یوم آزادی پریڈ تھی، لیکن اس میں پہلی بار وندے ماترم شامل کیا گیا۔ مجھے یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ پہلے میں کھڑا ہوں گا، پھر وندے ماترم بجایا جائے گا، اس کے بعد میں پرچم لہراؤں گا اور پھر قومی ترانہ بجایا جائے گا۔ شاید کانگریس کو بھی اس کے مطابق خود کو ڈھالنے میں کچھ وقت لگا، ایسا ہوتا ہے۔‘‘

                عمر عبداللہ نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی ایکس پر پوسٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا، جس میں سابق وزیر اعلیٰ نے آرٹیکل ۳۷۰ کی بحالی کی حمایت کرنے پر خود کو ’’دماغی نکسل‘‘ قرار دیا تھا۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آپ مجھ سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں ان کے ٹویٹ کی وضاحت دوں یا اس پر بات کروں؟ یہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے، ان کی بیٹی اسے چلاتی ہے، وہ جو چاہیں ٹویٹ کریں۔‘‘

                جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات میں کسی نہ کسی حد تک حقیقت ضرور ہونی چاہیے، کیونکہ وہاں کی حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور کرچکی ہے۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’اگر طلبہ کے مطالبات جائز اور درست ہیں تو کہیں نہ کہیں انہیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ اگر وہ درست نہیں ہیں تو صاف کہہ دینا چاہیے کہ ان کے مطالبات میں کوئی وزن نہیں۔ اگر مذاکرات کا ایک دور ہوچکا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ دوسرا دور بھی ہوگا تو کہیں نہ کہیں ان کے مطالبات میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔ جو کچھ کرسکتے ہیں، کریں۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے ایک بار پھر کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے مطابق تعلیم اور صحت جیسے معاملات ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’یہ غلطی صرف بی جے پی کی نہیں ہے؛ مختلف مرکزی حکومتوں نے بھی ریاستوں کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ جو ایجنسیاں بنائی گئی ہیں اور انہیں جو اختیارات دیے گئے ہیں، یہ صرف بی جے پی کی وجہ سے نہیں ہوا۔ بدقسمتی سے یو پی اے حکومت کا بھی اس میں کردار رہا ہے۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر نیٹ جیسے امتحانات کو مرکزیت حاصل نہ ہوئی ہوتی تو بی جے پی رہنما دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ نہ دینا پڑتا، کیونکہ امتحانات ریاستی سطح پر منعقد ہوتے تھے۔

                عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر کسی ریاست میں کوئی خامی ہوتی تو اس ریاست کا وزیر ذمہ دار ہوتا، لیکن امتحانات کو مرکز کے تحت لانے کے نتیجے میں کہیں کوئی خامی ہوئی اور مرکزی وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔ جو معاملات ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں انہیں ریاستوں کے پاس ہی رہنے دینا چاہیے اور جو مرکز کے دائرہ اختیار میں ہیں انہیں مرکز کو سنبھالنا چاہیے۔ مرکز کی ریاستوں کے معاملات میں مداخلت کی یہی عادت ہے جس کی وجہ سے دھرمیندر پردھان کو اپنا عہدہ کھونا پڑا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک )

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سنہا کی بین المذاہب مکالمے اور ہم آہنگی پروگرام میں شرکت  

Next Post

کولار اوپن کا دوسرا ایڈیشن 18 اگست سے شروع ہوگا

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

زوجیلا سرنگ کی آخری ۲ء۵میٹر کی رکاوٹ بھی ختم، کشمیر اور لداخ سرنگ کے ذریعے جڑ گئے
اہم ترین

جموں کشمیر عالمی صلاحیتی مراکز کے قیام کیلئےتیار

2026-10-11
جنتر منتر پر احتجاج :’اجازت کے منتظر ہیں‘
اہم ترین

وزیر اعلیٰ کی امتحانات سے آگے بڑھ کر مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی وکالت

2026-10-11
سلامتی کونسل کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی سخت مذمت، فوجی کشیدگی فوری روکنے کا مطالبہ
اہم ترین

’جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے‘

2026-10-11
سنتور ہوٹل ملازموں کا سرینگر میں احتجاج
اہم ترین

وادی بھر میں انڈیا بلاک کے احتجاجی مارچ‘سی ای سی گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

2026-10-11
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح
اہم ترین

’بی جے پی عمر سرکار کے خلاف ضلع سطح پر احتجاجی مہم چلائے گی‘

2026-10-11
پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے   قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد
اہم ترین

سوپور کے جنگلات سے اسلحہ گولہ بارود اور دھماکہ  خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

2026-10-11
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

پی او کے میں مقیم دو ملزمان کی  ایک کروڑ روپے مالیت کی  جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی

2026-10-11
پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے   قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد
اہم ترین

پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے  قریب پانچ بارودی سرنگیں برآمد

2026-10-11
Next Post

کولار اوپن کا دوسرا ایڈیشن 18 اگست سے شروع ہوگا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.