منگل, اگست 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

سپریم کورٹ کو بتایا گیا‘۳۲۶ ارکان پارلیمان اور۱۴  وزرائے اعلیٰ کے خلاف فوجداری مقدمات

لوک سبھا کے۲۵۱ اور راجیہ سبھا کے۷۵؍ارکان پر مقدمات درج؛ ارکان پارلیمان و اسمبلی کے خلاف۴۱۹۲ مقدمات زیر التوا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-18
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
سپریم کورٹ ہولی کے بعد حجاب تنازعہ کی سماعت کرے گی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍۱۷؍اگست

                سیاست میں جرائم کے بڑھتے اثرات سے متعلق سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق لوک سبھا کے۵۴۳؍ارکان میں سے۲۵۱؍اور راجیہ سبھا کے۲۳۳ ارکان میں سے۷۵کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔

                سپریم کورٹ میں دائر ایک حلف نامے میں، جو سینئر وکیل وجے ہنساریہ نے پیش کیا، بتایا گیا ہے کہ ارکان پارلیمان (ایم پیز) اور ارکان اسمبلی (ایم ایل ایز) کے خلاف مجموعی طور پر۴ہزار سے زائد فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ وجے ہنساریہ کو ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کو جلد نمٹانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی میں عدالت کا معاون مقرر کیا گیا ہے۔

متعلقہ

’وندے ماترم پر کوئی تنازعہ نہیں ہو نا چاہئے ‘

سنہا کی بین المذاہب مکالمے اور ہم آہنگی پروگرام میں شرکت  

                حلف نامے کے مطابق۲۸ میں سے۱۴ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ظاہر کیے ہیں، جن میں سنگین نوعیت کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

                دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ انومولا ریونت ریڈی کے خلاف۸۹ مقدمات درج ہیں۔ اس کے بعد مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سُویندو ادھیکاری کے خلاف۲۹؍اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے خلاف۱۹ مقدمات ہیں۔

                ہنساریہ نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی جانب سے مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے باوجود۲۰۱۸ سے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف زیر التوا فوجداری مقدمات کی تعداد تقریباً ایک ہی سطح پر برقرار ہے۔

                مختلف ہائی کورٹس سے حاصل کردہ اعداد و شمار کو یکجا کرتے ہوئے عدالت کے معاون نے بتایا کہ۲۰۲۵ میں۱۲۴۳فوجداری مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ اسی سال۱۰۵۰نئے مقدمات درج ہوئے۔

                انہوں نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ اور سابق ارکان پارلیمان و اسمبلی کے خلاف زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد۴۱۹۴ ہے۔

                حلف نامے میں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے، ’’لوک سبھا کے۵۴۳؍ارکان میں سے۲۵۱ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، جن میں۱۷۰ مقدمات سنگین نوعیت کے ہیں، جن میں پانچ سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہوسکتی ہے۔‘‘

                حلف نامے کے مطابق، ’’راجیہ سبھا کے۲۳۳؍ارکان میں سے۷۵  یعنی۳۳ فیصد ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، جن میں۴۰ ، یعنی۱۸ فیصد، سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں، جن میں پانچ سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہوسکتی ہے۔‘‘

                سینئر وکیل نے مختلف ہائی کورٹس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس کا تجزیہ بھی عدالت میں پیش کیا، تاہم اتر پردیش کی رپورٹ اس میں شامل نہیں تھی کیونکہ الہ آباد ہائی کورٹ سے رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

                حلف نامے کے مطابق کیرالہ کے۲۰ میں سے۱۹؍ ارکان پارلیمان، یعنی۹۵ فیصد، فوجداری مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، جن میں۱۱کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں۔

                تلنگانہ کے۱۷ میں سے۱۴؍ارکان پارلیمان، یعنی۸۲ فیصد، فوجداری مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ اڑیسہ میں۲۱  میں سے۱۶ ارکان، یعنی۷۶ فیصد، جھارکھنڈ میں۱۴ میں سے ۱۰، یعنی۷۱ فیصد، اور تمل ناڈو میں۳۹ میں سے۲۶ ‘ یعنی۶۷ فیصد ارکان پارلیمان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔

                اتر پردیش، مہاراشٹر، مغربی بنگال، بہار، کرناٹک اور آندھرا پردیش جیسی دیگر بڑی ریاستوں میں بھی تقریباً نصف ارکان پارلیمان کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں۔

                ہریانہ کے۱۰ ؍ارکان پارلیمان میں سے ایک، چھتیس گڑھ کے ۱۱میں سے ایک، پنجاب کے۱۳ میں سے دو، آسام کے۱۴ میں سے تین، دہلی کے سات میں سے تین، راجستھان کے۲۵ میں سے چار، گجرات کے۲۵ میں سے پانچ اور مدھیہ پردیش کے۲۹ میں سے نو ارکان پارلیمان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔

                سپریم کورٹ سے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کی جلد سماعت اور نگرانی کی درخواست کرتے ہوئے عدالت کے معاون نے تجویز دی کہ ایم پی/ایم ایل اے کے لیے مخصوص خصوصی عدالتیں صرف انہی عوامی نمائندوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کریں اور ان مقدمات کے فیصلے تک دیگر مقدمات ان عدالتوں کے سامنے نہ لائے جائیں۔

                ہنساریہ نے کہا کہ تمام اضلاع کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالتوں کو معمول کے عدالتی کام اسی وقت تفویض کریں جب ارکان پارلیمان و اسمبلی کے خلاف مقدمات کی سماعت مکمل ہوجائے۔

                انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹس کو عدالتی جانب سے ماہانہ بنیاد پر مقدمات کی پیش رفت کی نگرانی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ زیر التوا تمام مقدمات چارج فریم ہونے کے ایک سال کے اندر جلد از جلد نمٹائے جائیں۔

سینئر وکیل نے یہ بھی درخواست کی کہ ہائی کورٹس تین سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا مقدمات کی باریک بینی سے نگرانی کریں اور ہر ایسے مقدمے میں مؤثر احکامات جاری کریں۔

                وجے ہنساریہ، اشونی اپادھیائے کی جانب سے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات جلد نمٹانے کے لیے دائر مفاد عامہ کی عرضی میں عدالت کی معاونت کررہے ہیں۔

                ۹ نومبر۲۰۲۳ کو سپریم کورٹ نے قانون سازوں کے خلاف۵ہزار سے زائد فوجداری مقدمات کی جلد سماعت کے مقصد سے ایک اہم فیصلے میں ہائی کورٹس کو ہدایت دی تھی کہ وہ مقدمات کی تیز رفتار تکمیل کی نگرانی کے لیے خصوصی بنچ قائم کریں۔

                سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ خصوصی عدالتیں ایسے مقدمات میں کارروائی ملتوی نہ کریں، سوائے ’’شاذ و نادر اور ناگزیر وجوہات‘‘ کے۔

                عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹس، ضلعی ججوں اور قانون سازوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالتوں کے لیے متعدد ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارکان پارلیمان، اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے خلاف فوجداری مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

(ویب ڈیسک)

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

نقشبند صاحب درگاہ پر سیکڑوں عقیدت مندوں نے ’خواجہ دگَر‘ کی نماز ادا کی

Next Post

بی جے پی کا جموں میں این سی حکومت کیخلاف احتجاج‘وعدے پورے نہ کرنے کا الزام

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

اقتدار کے لیے اپنے  اصولوں کا سودا نہیں  کریں گے:عمرعبداللہ
اہم ترین

’وندے ماترم پر کوئی تنازعہ نہیں ہو نا چاہئے ‘

2026-08-18
’جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا دور ختم ہو چکا ہے ‘
اہم ترین

سنہا کی بین المذاہب مکالمے اور ہم آہنگی پروگرام میں شرکت  

2026-08-18
سوشل میڈیا پر سرکارکی تنقید
اہم ترین

۷۳ برس بعد جموں کشمیر کو زمین کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم

2026-08-18
جموں میں آمنے سامنے آئے بی جے پی اور کانگریس کارکن، پولیس نے بیریکیڈ لگا کر ٹکراؤ ٹال دیا
اہم ترین

بی جے پی کا جموں میں این سی حکومت کیخلاف احتجاج‘وعدے پورے نہ کرنے کا الزام

2026-08-18
نقشبند صاحب درگاہ پر سیکڑوں  عقیدت مندوں نے ’خواجہ دگَر‘ کی نماز ادا کی
اہم ترین

نقشبند صاحب درگاہ پر سیکڑوں عقیدت مندوں نے ’خواجہ دگَر‘ کی نماز ادا کی

2026-08-18
’ ایل او پی آسام سے واپس آکر جموں  کشمیر کی سیاست بھول گئے ہیں‘
اہم ترین

بی جے پی پہلے ریاستی حیثیت بحال کرے، پھر منتخب حکومت  کی کارکردگی پر فیصلہ دے: این سی

2026-08-18
پونچھ میں در اندازی کی کوشش ناکام‘۲ملی ٹنٹ ہلاک:فوج
اہم ترین

فوج کی شمالی کمان کے  سربراہ کا پونچھ میں ایل او سی  کے اگلے مورچوں کا دورہ

2026-08-18
گاندربل میں موٹر سائیکل کی   ٹکر سے راہگیر جاں بحق، ایک زخمی
اہم ترین

راجوری میں سڑک حادثے  میں ایک ہلاک، ۱۲ زخمی

2026-08-18
Next Post
جموں میں آمنے سامنے آئے بی جے پی اور کانگریس کارکن، پولیس نے بیریکیڈ لگا کر ٹکراؤ ٹال دیا

بی جے پی کا جموں میں این سی حکومت کیخلاف احتجاج‘وعدے پورے نہ کرنے کا الزام

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.