سرینگر؍۱۷؍اگست
سیاست میں جرائم کے بڑھتے اثرات سے متعلق سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق لوک سبھا کے۵۴۳؍ارکان میں سے۲۵۱؍اور راجیہ سبھا کے۲۳۳ ارکان میں سے۷۵کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔
سپریم کورٹ میں دائر ایک حلف نامے میں، جو سینئر وکیل وجے ہنساریہ نے پیش کیا، بتایا گیا ہے کہ ارکان پارلیمان (ایم پیز) اور ارکان اسمبلی (ایم ایل ایز) کے خلاف مجموعی طور پر۴ہزار سے زائد فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ وجے ہنساریہ کو ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کو جلد نمٹانے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی میں عدالت کا معاون مقرر کیا گیا ہے۔
حلف نامے کے مطابق۲۸ میں سے۱۴ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ظاہر کیے ہیں، جن میں سنگین نوعیت کے مقدمات بھی شامل ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ انومولا ریونت ریڈی کے خلاف۸۹ مقدمات درج ہیں۔ اس کے بعد مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سُویندو ادھیکاری کے خلاف۲۹؍اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے خلاف۱۹ مقدمات ہیں۔
ہنساریہ نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی جانب سے مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے باوجود۲۰۱۸ سے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف زیر التوا فوجداری مقدمات کی تعداد تقریباً ایک ہی سطح پر برقرار ہے۔
مختلف ہائی کورٹس سے حاصل کردہ اعداد و شمار کو یکجا کرتے ہوئے عدالت کے معاون نے بتایا کہ۲۰۲۵ میں۱۲۴۳فوجداری مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ اسی سال۱۰۵۰نئے مقدمات درج ہوئے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ اور سابق ارکان پارلیمان و اسمبلی کے خلاف زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد۴۱۹۴ ہے۔
حلف نامے میں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے، ’’لوک سبھا کے۵۴۳؍ارکان میں سے۲۵۱ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، جن میں۱۷۰ مقدمات سنگین نوعیت کے ہیں، جن میں پانچ سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہوسکتی ہے۔‘‘
حلف نامے کے مطابق، ’’راجیہ سبھا کے۲۳۳؍ارکان میں سے۷۵ یعنی۳۳ فیصد ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، جن میں۴۰ ، یعنی۱۸ فیصد، سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں، جن میں پانچ سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہوسکتی ہے۔‘‘
سینئر وکیل نے مختلف ہائی کورٹس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس کا تجزیہ بھی عدالت میں پیش کیا، تاہم اتر پردیش کی رپورٹ اس میں شامل نہیں تھی کیونکہ الہ آباد ہائی کورٹ سے رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔
حلف نامے کے مطابق کیرالہ کے۲۰ میں سے۱۹؍ ارکان پارلیمان، یعنی۹۵ فیصد، فوجداری مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، جن میں۱۱کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں۔
تلنگانہ کے۱۷ میں سے۱۴؍ارکان پارلیمان، یعنی۸۲ فیصد، فوجداری مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ اڑیسہ میں۲۱ میں سے۱۶ ارکان، یعنی۷۶ فیصد، جھارکھنڈ میں۱۴ میں سے ۱۰، یعنی۷۱ فیصد، اور تمل ناڈو میں۳۹ میں سے۲۶ ‘ یعنی۶۷ فیصد ارکان پارلیمان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔
اتر پردیش، مہاراشٹر، مغربی بنگال، بہار، کرناٹک اور آندھرا پردیش جیسی دیگر بڑی ریاستوں میں بھی تقریباً نصف ارکان پارلیمان کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں۔
ہریانہ کے۱۰ ؍ارکان پارلیمان میں سے ایک، چھتیس گڑھ کے ۱۱میں سے ایک، پنجاب کے۱۳ میں سے دو، آسام کے۱۴ میں سے تین، دہلی کے سات میں سے تین، راجستھان کے۲۵ میں سے چار، گجرات کے۲۵ میں سے پانچ اور مدھیہ پردیش کے۲۹ میں سے نو ارکان پارلیمان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔
سپریم کورٹ سے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات کی جلد سماعت اور نگرانی کی درخواست کرتے ہوئے عدالت کے معاون نے تجویز دی کہ ایم پی/ایم ایل اے کے لیے مخصوص خصوصی عدالتیں صرف انہی عوامی نمائندوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کریں اور ان مقدمات کے فیصلے تک دیگر مقدمات ان عدالتوں کے سامنے نہ لائے جائیں۔
ہنساریہ نے کہا کہ تمام اضلاع کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالتوں کو معمول کے عدالتی کام اسی وقت تفویض کریں جب ارکان پارلیمان و اسمبلی کے خلاف مقدمات کی سماعت مکمل ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹس کو عدالتی جانب سے ماہانہ بنیاد پر مقدمات کی پیش رفت کی نگرانی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ زیر التوا تمام مقدمات چارج فریم ہونے کے ایک سال کے اندر جلد از جلد نمٹائے جائیں۔
سینئر وکیل نے یہ بھی درخواست کی کہ ہائی کورٹس تین سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا مقدمات کی باریک بینی سے نگرانی کریں اور ہر ایسے مقدمے میں مؤثر احکامات جاری کریں۔
وجے ہنساریہ، اشونی اپادھیائے کی جانب سے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات جلد نمٹانے کے لیے دائر مفاد عامہ کی عرضی میں عدالت کی معاونت کررہے ہیں۔
۹ نومبر۲۰۲۳ کو سپریم کورٹ نے قانون سازوں کے خلاف۵ہزار سے زائد فوجداری مقدمات کی جلد سماعت کے مقصد سے ایک اہم فیصلے میں ہائی کورٹس کو ہدایت دی تھی کہ وہ مقدمات کی تیز رفتار تکمیل کی نگرانی کے لیے خصوصی بنچ قائم کریں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ خصوصی عدالتیں ایسے مقدمات میں کارروائی ملتوی نہ کریں، سوائے ’’شاذ و نادر اور ناگزیر وجوہات‘‘ کے۔
عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹس، ضلعی ججوں اور قانون سازوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالتوں کے لیے متعدد ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارکان پارلیمان، اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے خلاف فوجداری مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










