نئی دہلی؍۱۷؍اگست
سپریم کورٹ نے پیر کے روز جموں و کشمیر انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ ان کسانوں کے ایک وارث کو معاوضہ اور کرایہ ادا کرے، جن کی زمین۷۳ برس سے زیادہ عرصہ قبل گاندربل کے کنگن میں پولیس تھانہ قائم کرنے کے لیے بغیر کسی حصول اراضی کی کارروائی کے زبردستی قبضے میں لے لی گئی تھی۔
کنگن میں سات کنال۱۸ مرلہ اراضی پر۱۹۵۳ میں پولیس تھانہ تعمیر کرنے کے لیے زبردستی قبضہ کرلیا گیا تھا، تاہم نہ تو اس زمین کو باضابطہ طور پر حاصل کیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی معاوضہ ادا کیا گیا۔
چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے عبدالرشید وانی کی درخواست کا نوٹس لیا، جنہوں نے وکیل محفوظ احسن نازکی کے توسط سے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرکے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے۲۰۲۲ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے گاندربل ضلع میں۱۹۵۳میں پولیس تھانے کے لیے قبضے میں لی گئی زمین کا قبضہ واپس دلانے کی درخواست پر دائر رٹ پٹیشن خارج کردی تھی اور کہا تھا کہ اس دعوے میں۶۸ برس کی انتہائی تاخیر ہوئی ہے جس کی کوئی قابل قبول وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
پیر کے روز سپریم کورٹ نے وانی کی پرزور استدعا کو پیش نظر رکھا کہ اگرچہ درخواست دائر کرنے میں تاخیر ہوئی، لیکن ریاست کے غیر قانونی اقدام کی وجہ سے انہیں نقصان نہیں اٹھانا چاہیے۔اعلیٰ عدالت نے کہا کہ تقریباً سات دہائیوں کی تاخیر کے باعث وہ موجودہ وقت سے حصول اراضی کی نئی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی۔
تاہم بنچ نے کہا کہ وہ لینڈ ایکوزیشن افسر کو ہدایت دے گی کہ وانی کی جانب سے۲۰۲۱ میں ہائی کورٹ سے رجوع کیے جانے کی تاریخ سے حصول اراضی کی کارروائی شروع کی جائے۔
سپریم کورٹ نے وانی کو ریلیف دیتے ہوئے لینڈ ایکوزیشن افسر کو ہدایت دی کہ وہ۱۹۵۳ سے، جب پولیس تھانہ قائم کرنے کے لیے زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا تھا، وانی کو زمین کے استعمال کے عوض کرایے کا حساب لگائے اور ادا کرے۔
بنچ نے کہا کہ حصول اراضی اور کرایے کی مد میں ادا کی جانے والی رقم کا حتمی فیصلہ ہائی کورٹ کرے گی۔
۲۸ جون۲۰۲۲ کو ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے معاملے میں اپنے غیر معمولی اختیارات استعمال کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ اتنے طویل عرصے کے بعد درخواست گزار کو ایسے دعوے کو دوبارہ زندہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو مؤثر طور پر ’’مردہ قضیہ‘‘ بن چکا ہو۔
وانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے آباؤ اجداد گاندربل ضلع کے موضع کنگن میں سروے نمبر۵۲۵ کی سات کنال۱۸ مرلہ اراضی کے مالک تھے۔درخواست کے مطابق یہ زمین۱۹۵۳میں پولیس تھانہ قائم کرنے کے لیے بغیر کسی باضابطہ حصول اراضی کارروائی اور معاوضے کی ادائیگی کے قبضے میں لے لی گئی تھی۔
انہوں نے یا تو زمین کا قبضہ واپس دلانے یا حصول اراضی کی کارروائی شروع کرکے معاوضہ ادا کرنے یا۱۹۵۳ سے زمین کے استعمال اور قبضے کے عوض کرایہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے نوٹ کیا تھا کہ مبینہ قبضہ درخواست دائر کیے جانے سے تقریباً۶۸ برس قبل ہوا تھا اور درخواست گزار، جو اس وقت تقریباً۴۲برس کے تھے، یہ وضاحت نہیں کرسکے کہ اتنی غیر معمولی تاخیر کے بعد عدالت سے رجوع کیوں کیا گیا۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے والد ناخواندہ تھے، اس لیے وہ پہلے عدالت سے رجوع نہیں کرسکے۔تاہم ہائی کورٹ نے اس وضاحت کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ درخواست گزار خود دو دہائیاں قبل بالغ ہوچکے تھے، اس کے باوجود انہوں نے قانونی چارہ جوئی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ۲۰برس کے دوران حکام سے رابطہ کیا تھا، تاہم وہ اس سلسلے میں کوئی معاون دستاویز پیش نہیں کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ۲۰۱۴ کے سیلاب میں سرکاری ریکارڈ تباہ ہوگیا تھا۔
مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ نے درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے انتہائی تاخیر سے دائر کی گئی قرار دیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پولیس محکمہ۱۹۵۳ سے زمین پر پُرامن قبضے میں ہے اور اتنے طویل عرصے کے بعد جائیداد سے متعلق ریکارڈ پیش کرنا مشکل ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا تھا، ’’ہر دعوے یا قانونی سبب کا ایک مقررہ مدت کے اندر اختتام ہوجانا چاہیے اور اسے لامحدود مدت تک زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں










