بھارتی پارلیمنٹ کو جمہوریت کا سب سے بڑا مندر کہا جاتا ہے۔ ملک کے کروڑوں عوام اس امید کے ساتھ پارلیمنٹ کی کارروائی پر نگاہ رکھتے ہیں کہ ان کے مسائل، مشکلات اور مطالبات ایوان میں اٹھائے جائیں گے، حکومت سے سوالات کیے جائیں گے اور ایسے فیصلے ہوں گے جو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہوں گے۔ لیکن افسوس کہ موجودہ مانسون اجلاس کا بیشتر حصہ ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور مسلسل تعطل کی نذر ہوچکا ہے۔ یہ صورت حال نہ حکومت کے حق میں ہے، نہ اپوزیشن کے اور نہ ہی جمہوری نظام کے لیے خوش آئند۔
پارلیمنٹ میں اختلاف رائے جمہوریت کا لازمی حصہ ہے۔ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا، سوال اٹھانا اور حکمرانوں کو جواب دہ بنانا اپوزیشن کا حق اور ذمہ داری ہے۔ لیکن اختلاف رائے اور ایوان کو مفلوج کردینے میں واضح فرق ہے۔ اگر ہر مسئلے کا نتیجہ کارروائی کے تعطل اور احتجاج کی صورت میں نکلے گا تو پارلیمنٹ میں بحث اور مکالمے کی گنجائش کہاں باقی رہ جائے گی؟
موجودہ تعطل کی بنیادی وجہ طلبہ کے احتجاج اور ان کے خلاف پولیس کارروائی کا معاملہ ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ایوان میں آکر اس معاملے پر جواب دیں۔ حکومت کی جانب سے واضح کیا جاچکا ہے کہ وزیر داخلہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ ایوان کو چلنے دیا جائے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا بھی بارہا اپیل کرچکے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن اتفاق رائے پیدا کرکے کارروائی کو معمول کے مطابق چلنے دیں۔ ایسے میں اگر بنیادی مطالبے پر حکومت رضامند ہے تو تعطل جاری رکھنے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔
اسپیکر نے بجا طور پر سوالیہ وقفے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اسی دوران ارکان حکومت سے براہ راست سوال کرتے اور انتظامیہ کو جواب دہ بناتے ہیں۔ جب سوالیہ وقفہ ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوجائے تو دراصل حکومت سے جواب طلب کرنے کا ایک اہم جمہوری راستہ بند ہوجاتا ہے۔ اس کا نقصان بالآخر عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔
عوام کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ پارلیمنٹ کے باہر کس جماعت نے زیادہ نعرے لگائے یا کس رکن نے دوسرے کو جواب دیا۔ عام شہری یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کا نمائندہ اس کے مسائل ایوان میں کب اٹھائے گا۔ اسے مہنگائی، روزگار، تعلیم، صحت، کسانوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق سوالات کے جواب درکار ہیں۔ وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جمہوری درس گاہ کا اجلاس ہو اور اس کی آواز وہاں پہنچے۔ لیکن اگر اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہوجائے تو عوام کی مایوسی فطری ہے۔
یہاں حکومت کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ پارلیمنٹ کو چلانا صرف اپوزیشن کا کام نہیں اور حکومت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی کہ اپوزیشن کارروائی نہیں چلنے دے رہی۔ حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا، اس کے جائز مطالبات سننا اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ عددی اکثریت قانون سازی کا اختیار ضرور دیتی ہے، لیکن ایوان کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے سیاسی دانش مندی اور تحمل بھی ضروری ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر حکومت سے جواب طلب کرنا ہے تو ایوان کو چلنے دینا ہوگا۔ حکومت کو گھیرنے کا مؤثر طریقہ یہی ہے کہ اس سے ایوان کے اندر سوالات کیے جائیں، اس کی پالیسیوں پر تنقید کی جائے اور دلائل کے ساتھ اس کے دعووں کو چیلنج کیا جائے۔ مسلسل احتجاج وقتی طور پر سیاسی پیغام تو دے سکتا ہے، لیکن اس سے وہ جواب حاصل نہیں ہوسکتا جس کے لیے احتجاج کیا جارہا ہے۔
حکمراں جماعت کی جانب سے جھارکھنڈ میں طلبہ پر لاٹھی چارج کے معاملے کو اٹھانا بھی اسی سیاسی کشمکش کا حصہ بن گیا ہے۔ اگر وہاں طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال ہوا ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ لیکن ایک ریاست میں ہونے والے واقعے کو دوسری طرف کے احتجاج کے جواب کے طور پر استعمال کرنا مسئلے کو حل نہیں کرے گا۔ طلبہ چاہے دہلی میں احتجاج کررہے ہوں یا جھارکھنڈ میں، ان کے مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ مکالمہ ہے۔
اسی طرح رام مندر سے متعلق عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی اگر اپوزیشن کے نزدیک اہم ہے تو اسے پارلیمنٹ میں مناسب طریقہ کار کے تحت اٹھایا جاسکتا ہے۔ ایک مسئلے پر اختلاف دوسرے تمام معاملات پر بحث کا راستہ بند کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا ہر منٹ عوام کے پیسے سے چلتا ہے۔ جب کارروائی مسلسل ملتوی ہوتی ہے تو صرف وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پارلیمنٹ کی اصل طاقت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب عوام کو یقین ہو کہ ان کے نمائندے ان کے مسائل پر سنجیدگی سے بحث کررہے ہیں۔
اب جبکہ مانسون اجلاس کے چند ہی دن باقی ہیں، حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سیاسی ضد سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اپوزیشن کے جائز خدشات کو سنے اور ضروری وضاحتیں دے، جبکہ اپوزیشن ایوان کو چلنے دے تاکہ تمام اہم معاملات پر کھل کر بحث ہوسکے۔ وزیر داخلہ اگر جواب دینے کے لیے تیار ہیں تو انہیں جواب دینے کا موقع دیا جائے اور اپوزیشن کو بھی اپنا مؤقف رکھنے کا پورا حق دیا جائے۔
جمہوریت کا حسن یہ نہیں کہ اختلاف ختم ہوجائے بلکہ یہ ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود مکالمہ جاری رہے۔ حکومت اور اپوزیشن سیاسی حریف ضرور ہیں، لیکن دونوں کی ذمہ داری عوام کے سامنے ہے۔ پارلیمنٹ کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ رواں اجلاس کے باقی دنوں کو مزید ہنگامہ آرائی کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ حکومت کو پہل کرنی ہوگی اور اپوزیشن کو تعاون کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ میں شور شرابے سے نہ طلبہ کے مسائل حل ہوں گے، نہ عوام کو جواب ملے گا اور نہ ملک کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ ضرورت ہے کہ ایوان میں نعرے نہیں، سوال ہوں؛ الزام نہیں، دلیل ہو؛ تصادم نہیں، مکالمہ ہو۔ یہی جمہوریت کا تقاضا اور عوام کی حقیقی توقع ہے۔






