کشمیر میں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ترقی کا منظرنامہ بلاشبہ تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ سڑکیں بن رہی ہیں، سرنگیں تعمیر ہو رہی ہیں، ریلوے کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، نئے پل اور بائی پاس سامنے آ رہے ہیں، بجلی اور مواصلاتی نظام میں توسیع ہو رہی ہے اور سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ بڑے بڑے منصوبوں کی خبریں اب روزمرہ کا حصہ بن چکی ہیں۔ بظاہر یہ سب ایک ایسے کشمیر کی تصویر پیش کرتا ہے جو تیزی سے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ لیکن اس تمام ترقی کے بیچ ایک سوال مسلسل اپنی جگہ موجود ہے: کیا ترقی کی یہ رفتار عام آدمی کی زندگی میں بھی اسی رفتار سے بہتری پیدا کر رہی ہے؟
یہ سوال ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت نہیں بلکہ ان کی اصل کامیابی جانچنے کا پیمانہ ہے۔ کسی بھی علاقے کی ترقی کا آخری مقصد خوب صورت سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں، سرنگیں اور بڑے پل نہیں ہوتے۔ یہ سب ترقی کے ذرائع ہیں، منزل نہیں۔ منزل اس وقت حاصل ہوتی ہے جب عام شہری کی آمدنی بڑھے، اس کے بچوں کے لیے بہتر تعلیم میسر ہو، علاج آسان اور سستا ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت ملے، نوجوان کو اپنے گھر سے دور ہوئے بغیر باعزت روزگار مل سکے اور متوسط طبقہ مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات کے بوجھ تلے دبنے کے بجائے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو۔
جموں و کشمیر کے حالیہ اقتصادی اعداد و شمار میں کئی حوصلہ افزا پہلو موجود ہیں۔ سرکاری اقتصادی جائزے کے مطابق 2025-26 میں جموں و کشمیر کی حقیقی مجموعی پیداوار میں 5.82 فیصد اضافے کا اندازہ ہے، جبکہ فی کس آمدنی تقریباً ایک لاکھ 68 ہزار 243 روپے تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
صنعتی شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھے ہیں۔ سرکاری اقتصادی جائزے کے مطابق مرکزی صنعتی اسکیم کے تحت 440 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں 386 یونٹس نے پیداوار شروع کر دی ہے اور ان منصوبوں سے 52 ہزار سے زیادہ نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران بھی ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے صنعتی یونٹس قائم ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار یقیناً نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ مگر اقتصادی اعداد و شمار اور عام آدمی کا تجربہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ مجموعی پیداوار بڑھ سکتی ہے، سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور بڑے منصوبوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر ایک نوجوان برسوں سے ملازمت کی تلاش میں ہے، ایک چھوٹا تاجر مہنگی بجلی، کرایوں اور کمزور خریداری کی شکایت کر رہا ہے، ایک کسان اپنی فصل کے لیے مناسب منڈی تلاش کر رہا ہے اور ایک متوسط گھرانہ تعلیم و علاج کے اخراجات سے پریشان ہے تو ترقی کے فوائد کی تقسیم پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت، باغبانی، سیاحت اور چھوٹے کاروباروں سے جڑا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 میں بنیادی شعبہ مجموعی ویلیو ایڈیشن کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے اور روزگار کے اعتبار سے اس کی اہمیت کہیں زیادہ ہے؛ 2023-24 کے اعداد و شمار میں تقریباً 43 فیصد افرادی قوت اسی شعبے سے وابستہ تھی۔ اس لیے کشمیر کی ترقی کا تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک باغبان، کسان، دستکار، دکاندار، ٹرانسپورٹر اور چھوٹا کاروباری شخص اس ترقی کو اپنی آمدنی میں محسوس نہ کرے۔
سیاحت اس کی ایک اچھی مثال ہے۔ کشمیر میں سیاحوں کی آمد سے ہوٹل، ریستوران، ٹرانسپورٹ، شکارہ، گھوڑے، دستکاری اور دیگر شعبوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ لیکن سیاحت کو صرف سیاحوں کی تعداد سے ناپنا کافی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک سیاح کشمیر میں جتنا خرچ کرتا ہے، اس رقم کا کتنا حصہ مقامی معیشت میں رہتا ہے؟ کتنے نوجوان مستقل روزگار حاصل کرتے ہیں؟ کتنے مقامی کاروبار اپنی خدمات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر پاتے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ سیاحتی موسم کے چند ماہ کے بعد عام خاندان کی آمدنی کا کیا ہوتا ہے؟
اسی طرح بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی انتہائی ضروری ہے۔ ایک نئی سڑک یا سرنگ فاصلے کم کرتی ہے، سفر کا وقت بچاتی ہے اور تجارت کے امکانات بڑھاتی ہے۔ لیکن اس کا حقیقی معاشی فائدہ اس وقت سامنے آتا ہے جب اس بہتر رابطے کے ساتھ پیداوار، صنعت، تجارت اور روزگار بھی بڑھیں۔ اگر سڑک بن جائے مگر مقامی پیداوار کے لیے مارکیٹ نہ ہو، نوجوان کے لیے روزگار نہ ہو اور چھوٹے کاروبار کو سرمایہ اور تربیت نہ ملے تو انفراسٹرکچر اپنے مکمل معاشی اثرات پیدا نہیں کر پاتا۔
کشمیر کے نوجوان اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ ایک طرف انہیں جدید تعلیم، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور دنیا بھر کے مواقع تک رسائی حاصل ہے، دوسری طرف مقامی سطح پر ان کے لیے مناسب اور مستقل روزگار کے مواقع ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ حکومت نے روزگار، خود روزگاری، ہنرمندی اور اسٹارٹ اپس کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان منصوبوں کا جائزہ صرف جاری ہونے والی رقوم یا منظور شدہ کیسوں سے نہیں بلکہ کتنے نوجوان مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے اس پیمانے سے لیا جائے۔
ترقی کا ایک اور اہم پہلو علاقائی توازن ہے۔ سری نگر اور بڑے شہری مراکز میں بنیادی سہولتوں کی رفتار اگرچہ قابل ذکر ہے، لیکن دور دراز پہاڑی علاقوں، سرحدی دیہات اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے ترقی کا مطلب آج بھی سڑک، پانی، بجلی، صحت مرکز، اسکول اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولتیں ہیں۔ ترقی اس وقت زیادہ بامعنی ہوگی جب اس کا فائدہ شہر کے ساتھ ساتھ آخری گاؤں تک بھی پہنچے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کی ترقی کا اگلا مرحلہ ’’بڑے منصوبوں‘‘ سے ’’بڑے معاشی مواقع‘‘ کی طرف منتقل ہو۔ سڑکیں اور سرنگیں ضروری ہیں، مگر ان کے ساتھ صنعتی کلسٹر، فوڈ پروسیسنگ یونٹس، جدید کولڈ اسٹوریج، زرعی منڈیاں، ہنرمندی کے مراکز، آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات، مقامی دستکاری کے عالمی بازار اور نوجوانوں کے لیے آسان قرض و سرمایہ کاری کے مواقع بھی ضروری ہیں۔ اس طرح بنیادی ڈھانچہ صرف تعمیراتی سرگرمی نہیں رہے گا بلکہ حقیقی معاشی نمو کا ذریعہ بنے گا۔
کشمیر آج ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں ترقی کے آثار ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔ اب اگلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے منصوبے مکمل ہوئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ان منصوبوں نے کتنے گھرانوں کی زندگی بدلی؟ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا؟ کتنے کسانوں کی آمدنی بڑھی؟ کتنے چھوٹے کاروبار مضبوط ہوئے؟ کتنے خاندانوں کو بہتر صحت اور تعلیم کی سہولت ملی؟
حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف سرکاری فائلوں، افتتاحی تختیوں یا بجٹ کے اعداد و شمار میں نظر آئے۔ حقیقی ترقی وہ ہے جو ایک عام شہری کے چہرے پر اطمینان، اس کے گھر میں بہتر آمدنی، اس کے بچے کے مستقبل میں امید اور اس کے کاروبار میں استحکام پیدا کرے۔






