کسی پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا دانشمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر مہذب معاشرے، ذمہ دار حکومتیں اور سنجیدہ سیاست استوار ہوتی ہے۔ افسوس کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ہمیشہ اس اصول کو نظر انداز کیا ہے۔ اپنے ملک کے اندرونی مسائل، سیاسی انتشار، معاشی ابتری اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے نظریں چرانے کے بجائے وہ ہر سال پانچ اگست کو بھارت کے خلاف بیانات کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔ اس سال بھی یہی ہوا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پانچ اگست کو ’’یومِ استحصال‘‘ قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا، لیکن ان بیانات کا سب سے مؤثر جواب خود جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دیا۔
عمر عبداللہ نے نہ صرف پاکستان کے الزامات کو مسترد کیا بلکہ دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ اگرچہ پانچ اگست ۲۰۱۹ء کے فیصلے کے حوالے سے ان کی اپنی سیاسی جماعت کے تحفظات ہیں، لیکن یہ مکمل طور پر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان کو اس میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو پہلے اپنے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے، جہاں حالیہ مہینوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور عوام ریاستی طاقت کا سامنا کر رہے ہیں۔
عمر عبداللہ کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ خود آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے ناقد رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے قومی معاملات اور بیرونی مداخلت کے درمیان واضح لکیر کھینچتے ہوئے پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ بھارت کے اندرونی سیاسی اختلافات کو بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلنے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا یہ مؤقف سیاسی اختلاف اور قومی خودمختاری کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر خود ایک سنگین سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران وہاں عوامی احتجاج، ہڑتالیں اور مظاہرے معمول بن چکے ہیں۔ اسلام آباد کے خلاف عوامی غصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ لوگ سڑکوں پر ہیں اور مختلف شہروں میں حکومت مخالف نعرے گونج رہے ہیں۔ احتجاج کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی، بے روزگاری، بنیادی سہولتوں کی کمی، صحت اور تعلیم کی ناقص صورتحال، آٹے سمیت ضروری اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتیں اور سب سے بڑھ کر قانون ساز اسمبلی کی بارہ مخصوص نشستوں پر جاری تنازع شامل ہیں۔
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ ان مخصوص نشستوں کے نظام میں تبدیلی کی جائے اور مقامی عوام کو حقیقی سیاسی نمائندگی دی جائے۔ ان کا الزام ہے کہ موجودہ انتظام کے ذریعے اسلام آباد علاقے کی سیاست پر غیر معمولی اثر و رسوخ برقرار رکھتا ہے۔ یہ مطالبات نئے نہیں بلکہ کئی برسوں سے موجود ہیں، تاہم اس مرتبہ ان میں شدت اس لیے آئی کہ حکومت نے اصلاحات کے بجائے انتخابی عمل آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ عوامی مطالبات کا جواب سیاسی مذاکرات یا آئینی اصلاحات کے ذریعے دینے کے بجائے طاقت کے استعمال سے دیا گیا۔ احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، گرفتاریاں عمل میں آئیں، متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں، انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئیں اور بین الاقوامی میڈیا کی رسائی بھی محدود کر دی گئی۔ جب کسی علاقے میں اظہارِ رائے پر قدغنیں لگائی جائیں اور اطلاعات کی آزادانہ ترسیل روک دی جائے تو لازماً سوالات جنم لیتے ہیں۔
ایسے حالات میں اگر پاکستان عالمی برادری کے سامنے انسانی حقوق کا علمبردار بننے کی کوشش کرے تو اس کے مؤقف کی اخلاقی حیثیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ دنیا آج پہلے سے کہیں زیادہ باخبر ہے۔ اطلاعات کو مکمل طور پر چھپانا آسان نہیں رہا۔ اگر ایک طرف پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بات کرے اور دوسری طرف اس کے زیرِ قبضہ علاقے میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال ہو، تو یہ تضاد خود اس کے بیانیے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے احتجاج کا تعلق کسی بیرونی ایجنڈے سے نہیں بلکہ مقامی عوام کے سیاسی، معاشی اور آئینی مطالبات سے ہے۔ یہ لوگ بہتر حکمرانی، شفاف نمائندگی اور بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسے مطالبات کا جواب گولی، گرفتاری یا انٹرنیٹ بندش نہیں بلکہ مکالمہ، اصلاحات اور اعتماد سازی ہونا چاہیے۔
پاکستان اگر واقعی کشمیری عوام کے حقوق کا داعی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے زیرِ قبضہ علاقے میں ان حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کے بجائے اسے جمہوری عمل کا حصہ تسلیم کرنا ہوگا۔ عوامی نمائندگی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دلیل اور قانون کے ذریعے دینا ہوگا، نہ کہ طاقت کے زور پر۔
دوسری جانب بھارت کےجموں و کشمیر کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو گزشتہ چند برسوں میں وہاں امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری، سیاحت میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام سیاسی اختلافات ختم ہو گئے ہیں، لیکن یہ ضرور حقیقت ہے کہ آج یہاں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ نہ بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چل رہی ہے، نہ طویل ہڑتالوں نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر رکھے ہیں اور نہ ہی وہ صورتحال موجود ہے جو اس وقت پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں دیکھی جا رہی ہے۔
اس حقیقت کا اعتراف خود عمر عبداللہ کے بیان سے بھی ہوتا ہے کہ بھارت کے اندرونی سیاسی معاملات کو بھارت کے آئینی اور جمہوری ادارے ہی طے کریں گے۔ بیرونی مداخلت نہ قابلِ قبول ہے اور نہ ہی اس سے کسی مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں اخلاقی برتری صرف نعروں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتی ہے۔ جو ملک اپنے قبضہ انتظام علاقے میں عوامی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو، اس کے لیے دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دینا آسان ضرور ہے مگر مؤثر نہیں۔ پاکستان کو اگر اپنے مؤقف کو معتبر بنانا ہے تو اسے پہلے اپنے گھر کی اصلاح کرنی ہوگی، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔





