منگل, اگست 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جموںکشمیر اور نشہ مکت بھارت کا خواب

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-04
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

            جموں و کشمیر گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور سرحد پار سے درپیش مختلف خطرات کا سامنا کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ایک ایسا خاموش خطرہ بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے جو نہ صرف نوجوان نسل بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ یہ خطرہ منشیات کا ہے۔ منشیات صرف ایک طبی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو خاندانوں کو بکھیر دیتا ہے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو تباہ کر دیتا ہے، معیشت کو کمزور کرتا ہے اور امن و امان کے لیے بھی سنگین چیلنج بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس مسئلے کو صرف صحت عامہ کے دائرے میں نہیں بلکہ قومی سلامتی اور سماجی استحکام کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

            وزیر اعظم نریندر مودی نے’نشہ مکت یووا فار وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘کا آغاز کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ دشمن ممالک منشیات کی سپلائی کو اپنی دہشت گردانہ حکمت عملی کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب کسی خطے کے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کر دیا جائے تو اس کی قوت ارادی، تعلیمی استعداد، معاشی صلاحیت اور سماجی کردار سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے منشیات دشمن کے ہاتھ میں ایسا ہتھیار بن جاتی ہیں جو گولی چلائے بغیر پوری نسل کو کمزور کر سکتا ہے۔

متعلقہ

مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کا چہرہ بے نقاب

پیلٹ:انصاف کا ایک ہی معیار ہونا چاہیے

            جموں و کشمیر کی صورتحال اس تناظر میں اور بھی حساس ہے۔ بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول سے متصل اس خطے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران منشیات کی اسمگلنگ کے کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ منشیات کی تجارت کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس مسئلے کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک ہمہ گیر سماجی تحریک کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔

            لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سری نگر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جس انداز میں جموں و کشمیر میں منشیات مخالف مہم کی کامیابیوں کا ذکر کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے سخت اور منظم حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اپریل سے جولائی تک جاری سو روزہ ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم کے دوران تقریباً ۲۳۰۰ ؍ایف آئی آر درج ہونا، ۲۶۰۰ ؍افراد کی گرفتاری، پندرہ سو کلوگرام سے زائد منشیات کی ضبطی اور تقریباً دو سو کروڑ روپے مالیت کی ۳۳۱ جائیدادوں کو ضبط کیا جانا معمولی کامیابی نہیں ہے۔ اسی طرح سینکڑوں ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت صرف چھوٹے موٹے منشیات فروشوں تک محدود نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

            تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صرف گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں اس مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتیں۔ دنیا کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ جب تک طلب اور رسد دونوں پر بیک وقت قابو نہ پایا جائے، منشیات کی لعنت ختم نہیں ہوتی۔ اگر ایک طرف اسمگلروں اور سپلائرز کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے تو دوسری طرف نوجوانوں کو اس دلدل میں گرنے سے بچانا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے سو ہفتوں پر مشتمل عوامی شراکت داری کی مہم کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ہر اتوار کھیل، ثقافتی سرگرمیوں، یوگا، مراقبہ، مباحثوں، اسٹریٹ ڈراموں اور آگاہی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے گا۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے کیونکہ منشیات سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ نوجوانوں کو صحت مند مصروفیات اور روشن مقاصد فراہم کیے جائیں۔

            جموں و کشمیر میں اس مہم کی ایک اور اہم خصوصیت بحالی اور بازآبادکاری پر زور دینا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی منشیات سے متاثرہ افراد کی بحالی اور سماجی و معاشی انضمام کے لیے ایک نئی اسکیم شروع کی جائے گی جس کے تحت طبی علاج، نفسیاتی مشاورت، تعلیم، ہنر مندی، روزگار اور طویل مدتی نگرانی کا انتظام کیا جائے گا۔ یہ اقدام اس لیے قابل ستائش ہے کیونکہ نشے کے عادی افراد کو صرف مجرم سمجھ کر معاشرے سے الگ کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو غلط صحبت، ذہنی دباؤ، بے روزگاری یا دھوکے کا شکار ہو کر اس لعنت میں مبتلا ہوئے۔ انہیں عزت کے ساتھ نئی زندگی دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔

            اس پوری مہم میں والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، سماجی تنظیموں اور مقامی برادریوں کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ خاندان بدنامی کے خوف سے اپنے بچوں کی نشے کی عادت کو چھپاتے رہتے ہیں، جس سے مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

             وزیر اعظم نے بجا طور پر زور دیا کہ والدین خاموش رہنے کے بجائے اپنے بچوں سے کھل کر بات کریں اور ضرورت پڑنے پر ماہرین اور ڈاکٹروں سے رجوع کریں۔ بروقت علاج اور رہنمائی کئی زندگیوں کو تباہ ہونے سے بچا سکتی ہے۔

            تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کے نقصانات پر مستقل آگاہی پروگرام، کھیلوں کے مقابلے، ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور طلبہ کے لیے مثبت سرگرمیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مناسب مواقع میسر ہوں تو ان کے منفی راستوں پر چلنے کے امکانات خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

            یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات کے مسئلے کو بے روزگاری، سماجی بے چینی اور نفسیاتی مسائل سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایک ایسا نوجوان جس کے سامنے روشن مستقبل، باعزت روزگار اور تعمیری سرگرمیوں کے مواقع ہوں، اس کے نشے کی طرف مائل ہونے کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس لیے منشیات مخالف مہم کو ہنر مندی، روزگار، کھیلوں، ثقافتی سرگرمیوں اور ذہنی صحت کے پروگراموں کے ساتھ مربوط کرنا ناگزیر ہے۔

            آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جنگ کو صرف حکومت کی ذمہ داری نہ سمجھا جائے بلکہ ہر شہری اپنی ذمہ داری محسوس کرے۔ اگر ہر محلہ، ہر گاؤں، ہر تعلیمی ادارہ اور ہر خاندان اس عزم کے ساتھ آگے بڑھے کہ وہ اپنے ماحول کو منشیات سے پاک رکھے گا تو یقیناً اس لعنت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جموں و کشمیر نے دہشت گردی جیسے پیچیدہ چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے، اس لیے منشیات کے خلاف بھی اجتماعی قوت ارادی کے ساتھ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

            حکومت کی موجودہ مہم نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ جذبہ وقتی مہم تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل سماجی رویے کی شکل اختیار کرے۔ جب قانون کی سختی، عوامی شعور، خاندانی تعاون، معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع اور مؤثر بحالی کے اقدامات ایک دوسرے کے ساتھ چلیں گے تو ہی جموں و کشمیر واقعی ایک نشہ سے پاک معاشرہ بن سکے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف اس خطے کے نوجوانوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرے گا بلکہ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد بھی مستحکم کرے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

توسیع: آ بیل مجھے مار!

Next Post

جنتَر منتَر اب احتجاج کیلئے موزوں مقام نہیں؟ سپریم کورٹ کا عرضی پر مرکز سے جواب طلب

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کا چہرہ بے نقاب

2026-08-02
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

پیلٹ:انصاف کا ایک ہی معیار ہونا چاہیے

2026-08-01
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ایل جی سنہا کا ’غیر قانونی‘ ہوٹلوں کی تعمیر کا انکشافـ:

2026-07-30
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

کشمیر کی بیٹ انڈسٹری‘ایک مثبت کہانی

2026-07-29
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

 حج درخواستوں میں تشویشناک کمی:

2026-07-28
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

2026-07-26
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

2026-07-25
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
Next Post
جنتَر منتَر اب احتجاج کیلئے موزوں مقام نہیں؟ سپریم کورٹ کا عرضی پر مرکز سے جواب طلب

جنتَر منتَر اب احتجاج کیلئے موزوں مقام نہیں؟ سپریم کورٹ کا عرضی پر مرکز سے جواب طلب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.