متبادل مقام فراہم کرنے کا مطالبہ؛ چیف جسٹس نے کہا، عوامی آمد و رفت اور ضروری اشیا کی فراہمی سے متعلق معاملہ اہم ہے
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر؍۳؍اگست
سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی کا جنتَر منتَر اب احتجاجی مظاہروں کے لیے موزوں مقام نہیں رہا کیونکہ وہاں ہونے والے احتجاج سے مقامی رہائشیوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ضروری اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس درخواست پر مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔
بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو ہدایت دی کہ وہ اس مفادِ عامہ کی عرضی پر حکومت کی ہدایات حاصل کر کے جواب داخل کریں، جس میں احتجاجی مظاہروں کے لیے متبادل انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ درخواست میں احتجاجی مقام کے متبادل انتظام سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں، خاص طور پر اس علاقے میں آمد و رفت اور رسائی کے مسائل کے حوالے سے۔
انہوں نے کہا، ’’درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنتَر منتَر اب احتجاج کے لیے مناسب مقام نہیں رہا کیونکہ وہاں داخلے اور اخراج کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور طبی ضروریات سمیت دیگر لازمی اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ مسٹر سالیسٹر، براہِ کرم ہدایات حاصل کریں۔ نوٹس جاری کیا جاتا ہے اور اس معاملے کو الگ سے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔‘‘
درخواست گزار کے وکیل نے دورانِ سماعت ایک مجوزہ سیاسی مارچ کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے ’’ٹاؤن ہال‘‘ اجلاس میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ ’’۲۰ جولائی جیسا ایک اور واقعہ رونما ہونے سے بچایا جانا چاہیے۔‘‘
سپریم کورٹ نے مجوزہ احتجاج پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم چیف جسٹس نے کہا، ’’انتظامیہ جانتی ہے کہ ایسے معاملات سے کیسے نمٹنا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو پھر ہمارے پاس آئیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس صورتحال کو سنبھال لے گی۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں قومی دارالحکومت کے وسط میں واقع جنتَر منتَر، نیٹ۔یو جی امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کا مرکز بنا رہا۔
یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی قیادت میں ہوا، جس میں ہزاروں طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ نے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نیٹ پرچہ لیک کے خلاف مظاہرے کیے۔
سونم وانگچک نے کئی روز تک بھوک ہڑتال بھی کی، بعد ازاں طبیعت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
اس عوامی تحریک میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے، ترجمان سوربھ داس، آشوتوش رانکا اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی نوحہ بورا بھی نمایاں چہرے رہے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مرکزی وزیرِ تعلیم استعفیٰ دیں۔
۲۰ جولائی کو سی جے پی کی جانب سے پارلیمنٹ کی طرف نکالے جانے والے احتجاجی مارچ کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں کئی مظاہرین شدید زخمی بھی ہوئے۔
بعد ازاں ۲۵ جولائی کو ابھیجیت ڈپکے نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا، جب مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا اور مرکزی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
اگلے روز نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے خالی پڑے جنتَر منتَر کی صفائی کا کام انجام دیا۔










