کولگام حملے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر سنہا کی وادی میں غیر مقامی مزدوروں کی حفاظت کے انتظامات کا ازسرِنو جائزہ
اعلیٰ سطحی اجلاس میں انشورنس اور پولیس رجسٹریشن کو یقینی بنانے کی ہدایت؛ جاری امرناتھ یاترا کی سیکورٹی صورتحال کا بھی جائزہ
(ندائے مشرق خبر )
سرینگر؍ یکم اگست
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں وادی میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں، جاری شری امرناتھ یاترا کے سیکورٹی انتظامات اور مجموعی سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے تمام ڈپٹی کمشنروں اور سینئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ایس ایس پیز) کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر سے باہر کے مزدوروں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کا جامع جائزہ لیا جائے۔
سنہا نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمام آجر اس بات کو یقینی بنائیں کہ دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے تمام مزدوروں کا بیمہ (انشورنس) کیا جائے، جبکہ ان کی مکمل تفصیلات مقامی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے پاس رجسٹر ہوں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ہمیں دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے ہدفی، مؤثر اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں مزید شدت لانی ہوگی۔‘‘
ایل جی نے حکام کو ہدایت دی کہ ضلع کُلگام میں دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق افراد کی باوقار آخری رسومات کو یقینی بنایا جائے اور سوگوار خاندانوں کو ہر ممکن امداد اور تعاون فراہم کیا جائے۔
اجلاس میں جاری شری امرناتھ جی یاترا کے سیکورٹی انتظامات اور سیکورٹی گرڈ کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ اجلاس کشمیر میں گزشتہ دس دنوں کے دوران پیش آنے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں منعقد ہوا۔ جمعہ کے روز ضلع کُلگام کے کیلام گاؤں میں دہشت گردوں کے حملے میں دو غیر مقامی مزدور ہلاک ہوئے تھے، جبکہ۲۲ جولائی کو ضلع اننت ناگ کے لال چوک علاقے میں جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
دریں اثناجموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز کولگام حملے کی سخت مذمت کی اور اس واقعے کی مکمل تفتیش کا مطالبہ کیا۔ جہاں محبوبہ مفتی نے اسے سکیورٹی کی چوک قرار دیا، وہاں فاروق عبد اللہ نے حملے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھائے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے تفتیش کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ابھی تک یہ صاف نہیں ہے کہ ان قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا ’’ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ انہیں کس نے مارا اور اس کے پیچھے کون مجرم ہیں۔ اس کی پوری ایمانداری سے جانچ ہونی چاہیے‘‘۔
این سی صدر نے ایسے واقعات کے وقت پر بھی سوال اٹھایا، خاص طور پر جب جموں و کشمیر کے لیے مکمل ریاست کے درجے کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’میں نہیں جانتا کہ جب بھی ہم اسٹیٹ ہڈ کی مانگ کرتے ہیں، تو ایسی چیزیں کیوں ہونے لگتی ہیں‘‘۔
محبوبہ نے کہا کہ اس واقعے کی مذمت کے لیے الفاظ کم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی ریاستوں کے لوگ جموں و کشمیر میں روزی روٹی کمانے اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’لوگ یہاں کام کرنے اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے آتے ہیں۔ وہ ہماری ہی طرح ہیں جو اتنی دور آکر کام کرتے ہیں۔ وہ اس لیے آتے ہیں کیونکہ انہیں وہاں روزگار نہیں ملتا، بلکہ یہاں کشمیر میں ملتا ہے‘‘۔
موصوفہ نے کہا کہ اس واقعے نے وادی میں سکیورٹی کے انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر امرناتھ یاترا کے لیے بڑے پیمانے پر کی گئی فورسز کی تعیناتی کے پیشِ نظر۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’’یہاں اتنی سکیورٹی کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا۔ مجھے لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سکیورٹی میں چوک (لاپرواہی) ہوئی ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات کی تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا کہ سکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود حملہ آور حملہ کرنے میں کیسے کامیاب رہے۔
محبوبہ نے سوال اٹھایا کہ فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کی موجودگی کے باوجود دہشت گرد اس حملے کو انجام دینے میں کیسے کامیاب رہے۔انہوں نے کہا’’اتنی سخت سکیورٹی، فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے ہوتے ہوئے بھی دہشت گرد یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے دو بے گناہ لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا‘‘۔
انہوں نے جموں و کشمیر حکومت سے متاثرین کے خاندانوں کو معاوضہ دینے کی بھی اپیل کی۔
پی ڈی پی صدر نے نامہ نگاروں سے کہا’’میں گزارش کرتی ہوں کہ جموں و کشمیر حکومت کو ان لوگوں کو معاوضہ دینا چاہیے۔ انہیں ہرجانہ ملنا چاہیے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہیے۔ یاترا کی وجہ سے یہاں اتنی سکیورٹی ہونے کے باوجود ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں؟‘‘










