پہلی پورہ میں پانچ مکانات اور ایک اسکول کو نقصان، چھاترو میں سیلابی ریلے
(ندائے مشرق )
سرینگر؍ یکم اگست
جموں و کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہلی پورہ علاقے میں ہفتہ کی صبح بادل پھٹنے کے نتیجے میں اچانک سیلابی ریلہ آیا، جس سے پانچ رہائشی مکانات اور ایک اسکول کی عمارت زیرِ آب آگئی۔ پانی، کیچڑ اور ملبے کے تیز ریلے نے گاؤں کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد ایس ڈی آر ایف، پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
حکام کے مطابق واقعے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
یہ بادل پھٹنے کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع گزشتہ کئی روز سے مسلسل بارشوں کی زد میں ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد سیلابی پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا، جس سے گھروں میں پانی بھر گیا اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچا۔
پانی کی سطح اچانک بلند ہونے پر مقامی باشندے اپنے اہلِ خانہ اور قیمتی سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہوگئے، جبکہ متعدد خاندانوں کو گھروں سے باہر نکلنا پڑا۔ ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کے حکام کے مطابق پانچ رہائشی مکانات اور ایک اسکول کی عمارت براہِ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ پانی گھروں کے کمروں میں داخل ہوگیا، فرنیچر اور دیگر سامان کو نقصان پہنچا، جبکہ گاؤں کے کئی حصے کیچڑ اور ملبے سے ڈھک گئے۔ حکام نے بتایا کہ نقصانات کا مکمل تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی جموں و کشمیر پولیس، ایس ڈی آر ایف اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں متاثرہ مقام پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر امدادی و بچاؤ کارروائیاں شروع کر دیں۔ اہلکاروں نے ضرورت کے مطابق متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، جبکہ گھروں اور دیگر عمارتوں سے پانی، کیچڑ اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گاؤں میں معمولاتِ زندگی بحال ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
ادھر، ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں بھی ہفتہ کی علی الصبح تقریباً ڈھائی بجے بادل پھٹنے سے اچانک سیلابی ریلہ آیا، جس کے نتیجے میں کئی گاڑیاں بہہ جانے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم حکام کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ نقصانات کا مکمل اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد چھاترو،کشتواڑ قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
دریں اثنا، شدید بارشوں اور خراب موسمی حالات کے پیش نظر چناب وادی کے تین اضلاع، ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن میں تمام سرکاری و نجی اسکول بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
چیف ایجوکیشن آفیسر کشتواڑ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شدید بارش، پھسلن زدہ سڑکوں اور پتھر گرنے کے خدشے کے باعث طلبہ اور عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے، جبکہ آن لائن کلاسیں معمول کے مطابق جاری رکھی جائیں گی۔
اسی نوعیت کے احکامات ڈوڈہ اور رام بن اضلاع میں بھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں خراب موسم کے باعث آن لائن تدریس جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ سات دنوں کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ۷؍ اگست تک کہیں کہیں بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اگرچہ مسلسل طویل بارش کی پیش گوئی نہیں کی گئی، تاہم موسمی حالات مختصر دورانیے کی شدید بارش، بادل پھٹنے، مقامی سطح پر موسلا دھار بارش اور اچانک سیلاب کے لیے انتہائی سازگار قرار دیے گئے ہیں۔
محکمہ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر گرج چمک کے ساتھ بارش کے باعث پتھر گرنے، مٹی کے تودے کھسکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار رہے گا۔
دوسری جانب، مسلسل بارش اور خراب موسم کے باعث جموں،سرینگر قومی شاہراہ ہفتہ کی صبح بھی ٹریفک کے لیے بند رہی۔ ادھم پور ضلع کے لدھا،سمروولی علاقے میں بحالی کا کام جاری ہے۔
ٹریفک پولیس کی صبح۴ بجے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق شاہراہ پر سڑک انتہائی کیچڑ آلود اور پھسلن زدہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت غیر محفوظ ہے۔ این ایچ اے آئی، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں بحالی کے کام میں مصروف ہیں، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ شاہراہ کو محفوظ قرار دیے جانے تک سفر سے گریز کریں۔
شاہراہ بند ہونے کے باعث ہفتہ کی صبح نہ عام ٹریفک کو اجازت دی گئی اور نہ ہی شری امرناتھ یاترا کے قافلے کو این ایچ پر روانہ ہونے دیا گیا۔
ادھر رام بن اور ادھم پور کے مختلف علاقوں، بشمول چنینی ناشری ٹنل کے اطراف، ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس سے بحالی کے کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔ ضلع رام بن کی انتظامیہ نے بھی تمام سرکاری و نجی اسکول بند رکھنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے آن لائن کلاسوں کے ذریعے تدریسی عمل جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
اسی طرح چیف ایجوکیشن آفیسر ڈوڈہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ خراب موسمی حالات کے باعث ضلع کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے آج بند رہیں گے جبکہ آن لائن کلاسیں مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی۔










