لوک مانیہ تلک نیشنل ایوارڈ تقریب سے خطاب؛ نوجوان قومی تعمیر میں خود کو وقف کریں‘ ہندوستان ہمیشہ سے ایسا ہی تھا جیسا آج ہے
(ندائے مشرق ڈیسک)
سرینگر؍یکم اگست
قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوول نے ہفتہ کے روز کہا کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو چاہے وہی کرے۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کے افکار، ہندوستان کے لیے ان کے وژن اور قوم کی تعمیر میں ان کی خدمات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
پونے میں منعقدہ لوک مانیہ تلک نیشنل ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈوول نے کہا کہ آج کی نسل جس آزادی سے لطف اندوز ہو رہی ہے، وہ اس دور سے بالکل مختلف ہے جس میں لوک مانیہ تلک نے جدوجہد کی۔ ان کے مطابق اس زمانے کی مشکلات، پابندیاں اور مصائب کا صحیح اندازہ لگانا آج کے نوجوانوں کے لیے آسان نہیں۔
این ایس اے نے کہا’’اگر لوک مانیہ تلک کی شخصیت اور ان کے کردار کی گہرائی کو سمجھنا ہے تو پہلے اس دور کے حالات، پابندیوں اور انتہائی کٹھن زندگی کو سمجھنا ہوگا، جن کا تصور کرنا شاید آج ہمارے لیے، خصوصاً نوجوانوں کے لیے، آسان نہیں‘‘۔
ڈوول نے کہا کہ ہر ہندوستانی، خصوصاً نوجوانوں، کو لوک مانیہ تلک کے افکار، ہندوستان کے بارے میں ان کے وژن اور قوم سازی کے جذبے پر غور کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے نوجوان بعض اوقات آزادی کے حقیقی مفہوم کو غلط سمجھ بیٹھتے ہیں۔
قومی سلامتی کے مشیر نے کہا’’آج کے نوجوان شاید یہ سمجھتے ہوں کہ ہندوستان ہمیشہ سے ایسا ہی تھا جیسا آج ہے، یا وہ آزادی کو محض اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی کرنے کی آزادی سمجھتے ہوں، لیکن آزادی کا حقیقی مطلب یہ نہیں ہے‘‘۔
ڈوول کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں نئی دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زیڈ، کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ قومی سطح کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، بشمول نیٹ (NEET) پرچہ لیک ہونے اور انتظامی مسائل کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں نے مرکزی حکومت پر شدید سیاسی دباؤ ڈالا، جس کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔
ہزاروں طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، پولیس کی لاٹھی چارج کا سامنا کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومتی حلقوں نے عوامی احتجاج کو قومی ذمہ داری اور ریاستی نظم و نسق کے دائرے میں رکھنے پر زور دیا۔
جہاں احتجاج کرنے والے طلبہ کا مؤقف ہے کہ حقیقی جمہوری آزادی میں حکومت سے جوابدہی طلب کرنا، شفافیت کا مطالبہ کرنا اور ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کا حق شامل ہے، وہیں اجیت ڈوول جیسے اعلیٰ حکومتی اور سلامتی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ قومی استحکام، قوم کی تعمیر اور ریاستی نظام کی پاسداری کو بے لگام مزاحمت پر ترجیح دی جانی چاہیے۔
لوک مانیہ تلک کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ڈوول نے کہا کہ ان کی زندگی خوف، مشکلات اور قربانیوں سے عبارت تھی، مگر اس کے باوجود وہ ہندوستانی قومی شعور کی تشکیل میں ایک عظیم رہنما بن کر ابھرے۔
ڈوول نے نوجوانوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ خود کو مکمل طور پر قوم کی تعمیر کے لیے وقف کریں کیونکہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک ’نادر موقع‘ آیا ہے، جسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔
قومی سلامتی کے مشیر نے کہا’’آج کے نوجوان یہ عہد کریں کہ وہ ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی یا محدود مفادات پر ترجیح دیں گے۔ اگر کبھی ذاتی مفادات سامنے بھی آئیں تو انہیں وقتی طور پر نظر انداز کریں، کیونکہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح قوم کی تعمیر ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں ایک نادر موقع آیا ہے اور ہم اسے ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشن میں کامیاب ہوں گے اور تاریخ کا ایک نیا باب رقم کریں گے‘‘۔
اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کو لوک مانیہ تلک نیشنل ایوارڈ۲۰۲۶ سے نوازا۔ انہوں نے لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کے بے خوف قوم پرستانہ وژن اور اجیت ڈوول کی جانب سے قائم کیے گئے جدید قومی سلامتی کے نظام کے درمیان مماثلت بھی بیان کی۔










