تو صاحب کہا جارہا ہے کہ کشمیر ‘ جموں کشمیر میں بھی پالی تھین کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہئے اور سو فیصد کی جانی چاہیے …….اللہ میاں کی قسم ہم حیران ہیں ‘ بہت زیادہ حیران کہ ایسی بات کہی بھی کیسے جا رہی ہے ‘ جو بھی ایسی بات کہہ رہا ہے اس کی ایسی ہمت اور جرأت کہاں کہ وہ ایسی بات کرے کہ ایسی بات کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا ہے …….ایسی بات کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے ۔ایسی باتیں وہاں کی جاتی ہیں ‘ جہاں لوگوں ‘ عام لوگوں میں شعور ہو ‘ جہاں عام لوگ مہذب ہوں اور ہم حلفاً اور پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں ہم ……. ہم کشمیریوں میں کوئی شعور ہے اور نہ ہم مہذب ہیں ۔سرکار کی تو ہم بات ہی نہیں کریں گے کہ ……. کہ کم بخت اس سے کسی خیر کی امید بھی نہیں ۔ ہم اپنی بات کریں گے اور خود سے پوچھیں گے کہ کیا ہمیں ایسی بات کرنے کا کوئی حق ہے ……. نہیں صاحب بالکل بھی نہیں ہے کہ یہ ہم ہیں جو پالی تھین کا استعمال کرتے ہیں اور سو فیصد کرتے ہیں ۔ یہ ہم ہیں جو اس کے استعمال پر پابندی کو بار بار اور ہر بار ناکام بنا دیتے ہیں اور اس لئے بنادیتے ہیں کیونکہ ہم میں شعور نہیں ہے‘ اس بات کا شعور نہیں ہے کہ ہم یہ کیا کررہے ہیں اور اللہ میاں کی قسم ہم خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماررہے ہیں ۔سرکار ایک نہیں بلکہ ایک سو بار بھی اگر پالی تھین کے استعمال پر پابندی عائد کرے تو بھی اس کا استعمال رکے گا نہیں کیونکہ ہم اس کا استعمال جاری رکھیں گے اور سو فیصد رکھیں گے ۔ اس لئے صاحب جو کوئی بھی شخص یہ کہہ رہا ہے ‘ یہ مانگ کررہا ہے ……. سرکار سے مانگ کررہا ہے کہ وہ پالی تھین کے استعمال پر پابندی عائد کرے …….حکومت سے ایسی مانگ کرنے سے پہلے اسے لوگوں……. عام لوگوں سے رجوع کرنا چاہئے ‘ ان سے پوچھنا چاہئے کہ ……. کہ کیا وہ اس پابندی کو پابندی سے ماننے اورعملانے کیلئے تیار ہیں ……. اگر ہیں تو بسم اللہ ‘ ورنہ جو کوئی بھی ایسی بات کررہا ہے ……. پالی تھین کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی بات کررہا ہے ‘ اسے اپنا منہ بند رکھنا چاہئے کہ ہمیں ایسی بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟




