سرینگر،نالندہ مکالمہ سے خطاب‘ثقافتی سفارت کاری کے فروغ، علمی ورثے کے احیاء اور تہذیبی روایات کو مستحکم بنانے پر زور
کہا ہندوستان آج بھی دنیا کو جوڑنے والا پل بن سکتا ہے‘/ہمارا مقصد علم اور روحانیت کے عظیم ورثے کو ازسرِنو زندہ کرنا:سنہا
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۰ جون
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز ہندوستان کی سافٹ پاور کو مضبوط بنانے اور ثقافتی سفارت کاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی دنیا کو جوڑنے والا پل بن سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ باتیں سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقدہ ’سرینگر،نالندہ مکالمہ‘سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
سنہا نے کہا کہ ہمارا مقصد علم اور روحانیت کے عظیم ورثے کو ازسرِنو زندہ کرنا، ہندوستان کی تہذیبی روایات کو مضبوط بنانا اور ایسا مستقبل پر مبنی تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے جو نوجوان نسل کو اپنی تاریخ اور جدید ٹیکنالوجی دونوں سے جوڑے۔
سنہا نے کہا کہ اچھی حکمرانی ثقافتی مکالمے کو فروغ دیتی ہے اور دونوں مل کر معاشرے کے اخلاقی، ثقافتی اور انسانی کردار کی تشکیل کرتے ہیں اور جامع پالیسیوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر اور نالندہ کے علماء نے مل کر دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک کی تشکیل کی۔ یہ ورثہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سری نگر-نالندہ مکالمہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دانش، حوصلے اور وکست بھارت کے نئے وژن کے ساتھ اس روشنی کو آگے بڑھائیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ہندوستان کی سافٹ پاور کو مزید مضبوط بنانے اور ثقافتی سفارت کاری کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا’’صدیوں پہلے ہندوستان کے علم نے دنیا کو متحد کیا تھا۔ آج بھی ہم وہ پل بن سکتے ہیں جس کی دنیا کو ضرورت ہے۔ پوری دنیا ہماری جانب دیکھ رہی ہے، ہمیں اعتماد اور ہمدردی کے ساتھ قیادت کرنی ہوگی۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ نوجوان نسل کو زبانوں، عقائد، فنونِ لطیفہ، فلسفیانہ مکاتبِ فکر اور متنوع طرزِ زندگی پر مشتمل ایک عظیم ورثہ ملا ہے اور یہی تنوع ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
سنہا نے کہا، ’’بہار سے جموں و کشمیر تک، تمل ناڈو کے مندروں سے لے کر لداخ کی خانقاہوں تک، کاشی کے گھاٹوں سے کشمیر کی وادیوں تک، ہر خطہ اپنی منفرد ثقافتی شناخت اور طرزِ زندگی کا حامل ہے۔ ہمارا مشترکہ مقصد ان تمام تنوعات کو ایک ہم آہنگ وحدت میں پرو دینا ہونا چاہیے جو قومی شعور کو مزید مالا مال کرے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب ہمیشہ اپنے علمی مراکز کے حوالے سے پہچانی جاتی رہی ہے۔ نالندہ، تکششیلا، وکرم شیلا اور دیگر کئی ادارے عالمی علمی تبادلے کے مراکز تھے، جہاں چین، کوریا، جاوا، فارس اور مغربی ایشیا سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔
سنہا نے کہا، ’’نالندہ اپنے دور کا ایک زندہ علمی کائنات تھا۔ یہ تنقیدی فکر اور تجسس کا مرکز تھا، جہاں ہزاروں علماء منطق، قواعد، طب، ریاضی، فلسفہ، مذہب اور فنون کے مختلف شعبوں میں گہری تحقیق کرتے تھے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح جموں و کشمیر بھی ’’شاردا پیٹھ‘‘ کی صورت میں علم و دانش کا ایک عظیم مرکز تھا، جہاں دور دراز علاقوں سے لوگ ریاضی سے لے کر موسیقی تک مختلف علوم کی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔
ایل جی نے کہا کہ نوجوان نسل کو ہندوستان کی علمی روایات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جن کی جڑیں تیسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ اشوک کے دور میں بہار کے خطے میں مضبوط ہوئیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یورپی دانشوروں نے ایک زمانے میں اس عظیم ورثے کو نظرانداز کیا، لیکن مجھے خوشی ہے کہ اس پروگرام کا میزبان شہر سری نگر بھی شہنشاہ اشوک ہی نے آباد کیا تھا۔ سری نگر-نالندہ مکالمہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس روایت کو ایک جدید اور بامعنی علمی منصوبے کے طور پر دوبارہ زندہ کیا جائے۔‘‘
ایل جی نے کہا کہ جس طرح قدیم دور میں علماء نالندہ سے جموں و کشمیر تک مخطوطات، فلسفیانہ نظریات اور سائنسی تصورات لے کر سفر کرتے تھے، اسی طرح آج بھی ہمیں آزادانہ تبادلۂ خیال اور فکری مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قدیم شہر دراصل زندہ تعلیمی مراکز ہیں اور نالندہ، سری نگر، جموں، پورمنڈل، وارانسی، ہمپی، سانچی، مدورائی، پوری اور تھنجاور جیسے شہر صدیوں کے علم اور تجربات کے امین ہیں۔
سنہا نے کہا، ’’ہمیں ان شہروں کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور سری نگر-نالندہ مکالمہ جیسے پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے تہواروں، نمائشوں اور مباحثوں کو مسلسل فروغ دینا چاہیے جو ان شہروں، فنکاروں، دانشوروں اور دنیا بھر کے شہریوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔‘‘
یہ تقریب وزارتِ سیاحت، محکمہ ثقافت جموں و کشمیر، اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس‘ نیشنل اسکول آف ڈرامہ اور نوا نالندہ مہاویہار یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔(ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔










