لداخ انتظامیہ کی جانب سے سنگل یوز پلاسٹک اور عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے کے خلاف سخت پابندی اور بھاری جرمانوں کے نفاذ کا فیصلہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم مثال بھی ہے۔ ہمالیائی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ لداخ میں سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال، فروخت اور ذخیرہ کرنے والوں پر دس ہزار روپے جبکہ گندگی پھیلانے والوں پر پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ اس عزم کا اظہار ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو محض نعروں تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
جموں و کشمیر میں بھی پلاسٹک آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ ڈل جھیل سے لے کر جہلم کے کناروں تک، پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ جیسے سیاحتی مقامات سے لے کر دیہی علاقوں تک پلاسٹک کے تھیلوں، بوتلوں اور دیگر فضلے کے ڈھیر ماحولیات کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں ہر سال ہزاروں ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا ہوتا ہے جس کا ایک بڑا حصہ ندی نالوں، کھیتوں، جنگلات اور آبی ذخائر میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف قدرتی حسن کو متاثر کرتی ہے بلکہ انسانی صحت، جنگلی حیات اور زرعی نظام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
یہ امر بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر میں پالی تھین اور سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں کئی بار ایسے احکامات جاری کیے گئے، پالی تھین بیگوں کی تیاری اور فروخت پر پابندیوں کا اعلان ہوا، مختلف محکموں نے مہمات بھی چلائیں اور کئی مرتبہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان اقدامات کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آسکے۔ اس کی بنیادی وجہ حکومتی سطح پر عدم تسلسل اور غیر سنجیدگی رہی۔ ابتدا میں چند دنوں یا ہفتوں تک کارروائیاں ضرور ہوئیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ نگرانی کا نظام کمزور پڑ گیا اور پلاسٹک دوبارہ بازاروں اور روزمرہ زندگی میں اپنی جگہ بناتا چلا گیا۔
حکومتی غیر سنجیدگی کے ساتھ ساتھ عوامی رویہ بھی اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ بنا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ہر شہری کا بھی اس میں برابر کا حصہ ہے۔ جب تک عوام خود پلاسٹک کے مضر اثرات کو نہیں سمجھیں گے اور متبادل اشیاء کے استعمال کو اپنی عادت نہیں بنائیں گے، اس وقت تک کسی بھی پابندی کی کامیابی مشکل رہے گی۔ آج بھی بازاروں میں پالی تھین کے تھیلے طلب کرنے والے صارفین کی کمی نہیں اور بہت سے دکاندار بھی آسانی اور کم لاگت کی وجہ سے انہی کا استعمال جاری رکھتے ہیں۔ اس رویے میں تبدیلی لائے بغیر محض سرکاری احکامات مسئلے کا مکمل حل فراہم نہیں کرسکتے۔
اس لیے ضروری ہے کہ پابندی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنے کی ایک وسیع اور مسلسل مہم بھی چلائی جائے۔ تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، سماجی تنظیموں، میڈیا اور مقامی کمیونٹی گروپوں کو اس مہم میں شامل کیا جانا چاہیے۔ لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کا ایک معمولی سا تھیلا یا بوتل برسوں تک زمین میں موجود رہ سکتی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح پلاسٹک کو جلانے سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسیں انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ جب عوام کو ان نقصانات کا حقیقی ادراک ہوگا تو وہ رضاکارانہ طور پر ماحول دوست متبادل اختیار کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔
تاہم صرف آگاہی مہم کافی نہیں ہوگی۔ قانون کی عملداری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ماحولیاتی قوانین کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ سخت جرمانے اور مؤثر نگرانی کا نظام ہے۔ لداخ انتظامیہ نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی اگر پلاسٹک کے استعمال پر حقیقی معنوں میں قابو پانا ہے تو قانون شکن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ناگزیر ہوگی۔ دکاندار ہو یا تجارتی ادارہ، ہوٹل ہو یا کوئی عام شہری، قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ جرمانوں کے ساتھ ساتھ ضبطی اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں مزید سخت سزاؤں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کو متبادل اشیاء کی دستیابی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ کپڑے اور کاغذ کے تھیلے، بایوڈیگریڈیبل پیکنگ مواد اور دیگر ماحول دوست مصنوعات آسانی سے دستیاب اور مناسب قیمت پر فراہم کی جائیں تاکہ عوام کے لیے پلاسٹک سے دوری اختیار کرنا مشکل نہ ہو۔ اگر متبادل مہنگے یا نایاب ہوں گے تو پابندی پر عمل درآمد بھی متاثر ہوگا۔
جموں و کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، جھیلوں، جنگلات، پہاڑوں اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ قدرتی ورثہ ہماری معیشت، سیاحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم نے پلاسٹک آلودگی پر قابو نہ پایا تو اس کے نتائج نہ صرف ماحول بلکہ ہماری معیشت اور صحت پر بھی مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے عوامی تحریک کی شکل دینا ضروری ہے۔
لداخ کا حالیہ فیصلہ اس سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ جموں و کشمیر حکومت بھی اس مثال سے سبق حاصل کرتے ہوئے سنگل یوز پلاسٹک اور پالی تھین کے خلاف مؤثر، جامع اور سخت پالیسی اختیار کرے گی۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی قانون کی کامیابی صرف سرکاری احکامات سے نہیں بلکہ حکومت کی سنجیدگی، مؤثر نفاذ، سخت نگرانی اور عوامی تعاون سے ممکن ہوتی ہے۔ اگر یہ تمام عناصر یکجا ہو جائیں تو جموں و کشمیر کو پلاسٹک آلودگی سے پاک بنانے کا خواب یقیناً شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔





