چلئے صاحب ایک مسئلہ تو حل ہوگیا …….یا اس مسئلے کے حل کی شروعات ہو گئی ‘ایساہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ ساری دنیا کہہ رہی ہے …….اس لئے کہہ رہی ہے کہ امریکہ اور ایران میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے اور باتوں کے علاوہ امریکہ اور ایران میں حملے اور جوابی حملے مستقل طور پر رک جائیں گے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس مفاہمت تک پہنچنے میں ہمسایہ ملک پاکستان نے ایک کلیدی رول ادا کیا ہے …….یہ بھی ہم نہیں کہہ رہے ہیں ‘ بلکہ ساری دنیا کہہ رہی ہے ……. لیکن یقین کیجئے کہ ساری دنیا کے کہنے کے باوجود بھی ہمیں اس بات پر یقین کرنے کو جی نہیں کررہا ہے کہ بھلا ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستان ‘ امریکہ اور ایران میں جنگ روکنے اور ان دونوں ممالک میں مفاہمت کرانے میں کامیاب ہوا ہے ……. اس پر ہمیں یقین نہیں آرہاہے ‘ ذہن یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہو رہا ہے کہ پاکستان بھی ایک ثالث کا رول ادا کر سکتا ہے ……. کہ اس ملک کے اتنے داخلی مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کیلئے سچ میں کسی ثالث کی ضرورت ہے اور جب آپ سنیں گے کہ اسی ملک نے امریکہ اور ایران میں ثالثی کی تو آپ کو بھی یقین نہیں آئے گا ۔ اس ملک کا ایک سابق وزیر اعظم دو تین برسوں سے سلاخوں کی پیچھے ہے ‘ اس کی پاکستانی فوج میں کوئی ثالثی نہیں کرا رہا ہے اور پاکستان امریکہ اور ایران میں ثالث کا کردار ادا کررہاہے ۔ افغانستان اور پاکستان میں حالات اس نہج پر پنچ گئے ہیں کہ وقفے وقفے سے ان دونوں کی مشترکہ سرحدیں آگ اگل رہیں ہو تی ہیں ‘ اُسی طرح جس طرح کبھی کبھی ہند پاک سرحدیں آگ اگلتی ہیں اور اس ملک نے امریکہ اور ایران میں ثالثی کی ۔ پہلے بلوچستان ‘پھر خیبر پختونخواہ اور اب مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کیخلاف مزاحمت بڑھتی جا رہی ہے اور یہ ملک امریکہ اور ایران میں ثالثی کررہاہے ۔یہ ملک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضوں پر چلا رہا ہے ‘ اس کا روم روم قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے ‘ اس کے ہاں ریکارڈ توڑ مہنگائی ہے ‘ غربت ہے‘ بے روز گاری ہے ‘توانائی کا بحران ہے اور یہ امریکہ اور ایران میں ثالثی کررہا ہے ۔یقین نہیں آرہا ہے ‘ اب بھی یقین نہیں آرہا ہے ‘ لیکن چونکہ ہم ٹرمپ کے دور میں رہ رہے ہیں تو صاحب کچھ بھی ممکن ہے ……. یہ بھی امریکہ اور ایران میں پاکستان ثالثی کررہا ہے ۔ ہے نا؟
۔۔۔۔




