وادیٔ کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نجی تعلیمی اداروں کا ایک وسیع جال بچھ چکا ہے۔ آج شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں ایک یا ایک سے زیادہ نجی اسکول موجود نہ ہوں۔ ان اداروں نے نہ صرف تعلیمی میدان میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے بلکہ بہت سے معاملات میں سرکاری اسکولوں کا متبادل بھی بن گئے ہیں۔ والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرانے کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہاں تعلیم کا معیار بہتر ہے، امتحانی نتائج اچھے ہیں اور بچوں کے روشن مستقبل کے امکانات زیادہ ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ امتحانی نتائج اور مسابقتی امتحانات میں کامیابی کے اعتبار سے بیشتر نجی اسکول سرکاری اسکولوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سائنس دان اور انتظامی افسر بن رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند صورتحال ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں کہ نجی اسکولوں نے وادی میں تعلیمی شعور بیدار کرنے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔





