ہر سال۵جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے تاکہ انسان کو اس کے قدرتی ماحول سے تعلق، ذمہ داری اور بقا کے باہمی رشتے کا احساس دلایا جا سکے۔ مگر اس سال جب یہ دن منایا جا رہا ہے تو جنت نظیر کشمیر ایک ایسے ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ سرسبز و شاداب وادی، برف پوش پہاڑ، شفاف جھیلیں اور گھنے جنگلات کشمیر کی شناخت رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان قدرتی اثاثوں کو جس تیزی سے نقصان پہنچا ہے، وہ نہ صرف تشویش ناک بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
حال ہی میں بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی جانب سے جاری کی گئی آڈٹ رپورٹ نے جموں و کشمیر کی ماحولیاتی صورتِ حال کی ایک افسوسناک تصویر پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق۱۹۶۷میں موجود۶۹۷ جھیلوں میں سے۳۱۵مکمل طور پر غائب ہو چکی ہیں، جبکہ۲۰۳ جھیلوں کا رقبہ نمایاں طور پر سکڑ گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر۵۱۸ جھیلیں اپنی اصل وسعت سے محروم ہو چکی ہیں اورتقریباً۲۸۵۱ ہیکٹر آبی رقبہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسے ماحولیاتی المیے کی نشاندہی کرتے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔
کشمیر کی جھیلیں صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ یہ آبی ذخائر زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، سیلابی پانی کو جذب کرتے ہیں اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ جب یہ جھیلیں ختم ہوتی ہیں تو صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
ڈل جھیل، ولر جھیل، ہوکرسر، مانسبل، مانسر اور سرنسر جیسی مشہور جھیلوں کی حالت بھی تسلی بخش نہیں۔ ڈل جھیل میں سیوریج کے ناقص انتظام، غیر قانونی تعمیرات اور زمین کے استعمال میں تبدیلی نے اس کے قدرتی حسن اور آبی معیار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ولر جھیل، جو کبھی ایشیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہوتی تھی، انتظامی غفلت اور تجاوزات کا شکار ہے۔ ہوکرسر ویٹ لینڈ میں آلودگی، آبی بہاؤ میں تبدیلی اور زمینوں پر قبضوں نے اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ماحولیاتی بحران کا دوسرا اہم پہلو جنگلات کی کٹائی اور زمین کے استعمال میں بے ہنگم تبدیلی ہے۔ جموں و کشمیر کے کل جغرافیائی رقبے کا صرف۱۰ سے۱۱ فیصد حصہ ہی سرکاری طور پر جنگلات پر مشتمل ہے۔ انفراسٹرکچر منصوبوں، سڑکوں، رہائشی کالونیوں اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے ہزاروں ہیکٹر جنگلات کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق۱۴ ہزار ہیکٹر سے زائد جنگلاتی رقبے کا نقصان پہاڑی ڈھلوانوں کو کمزور بنا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مٹی کا کٹاؤ، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلابوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
کشمیر کو درپیش ماحولیاتی چیلنجوں میں موسمیاتی تبدیلی اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا بھی شامل ہے۔ ہمالیائی خطے کے۱۲۰۰ سے زائد گلیشیئرز تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ بظاہر گلیشیئرز کا پگھلنا پانی کی فراوانی کا سبب دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مستقبل کے شدید آبی بحران کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے عشروں میں دریائے سندھ کے پورے آبی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف کشمیر بلکہ پورے شمالی ہندوستان اور پاکستان تک محسوس کیے جائیں گے۔
سیاحت کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، لیکن بے قابو اور غیر منصوبہ بند سیاحت خود ماحول کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ گلمرگ، پہلگام، سونمرگ اور دیگر حساس پہاڑی علاقوں میں تیزی سے ہو رہی تعمیرات، ہوٹلوں کا پھیلاؤ اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع نے قدرتی توازن کو متاثر کیا ہے۔ ان علاقوں کی ایک مخصوص ماحولیاتی برداشت ہے، مگر اس کا خیال رکھے بغیر ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ نتیجتاً کچرے کے ڈھیر، پلاسٹک آلودگی، پانی کے وسائل پر دباؤ اور کاربن اخراج میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
کچرے کا ناقص انتظام بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ وادی کے کئی علاقوں میں ٹھوس فضلہ مناسب طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا رہا۔ پلاسٹک کی بوتلیں، تھیلیاں اور دیگر غیر تحلیل پذیر اشیاء ندی نالوں اور جھیلوں میں پہنچ کر آبی حیات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد اور تعمیراتی سرگرمیوں نے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ کیا ہے، جو کبھی کشمیر جیسے خطے کے لیے ناقابلِ تصور سمجھی جاتی تھی۔
سی اے جی کی رپورٹ کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ جھیلوں کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط اور جامع حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔۶۹۷ میں سے صرف۶جھیلوں پر توجہ مرکوز کی گئی جبکہ باقی۶۹۱ جھیلوں کے لیے کوئی جامع منصوبہ تیار نہیں کیا گیا۔ مختلف محکموں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور رابطے کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب تک ایک مضبوط اور متحدہ ادارہ تمام آبی ذخائر کے تحفظ کی نگرانی نہیں کرے گا، اس بحران پر قابو پانا مشکل ہوگا۔
عالمی یومِ ماحولیات ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کا مشترکہ فرض ہے۔ عوامی شعور، ماحولیاتی تعلیم، مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور قانون پر سختی سے عمل درآمد کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی، سیوریج کے مؤثر نظام، جنگلات کے تحفظ، پائیدار سیاحت اور جدید فضلہ انتظامی نظام کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کرنا ہوگا۔
کشمیر کی جھیلیں، جنگلات اور گلیشیئر صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس خطے کی تہذیبی، معاشی اور ماحولیاتی شناخت ہیں۔ اگر آج ان کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اس عہد کی ضرورت ہے کہ ترقی اور ماحولیات کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ لازم و ملزوم سمجھا جائے۔ حقیقی ترقی وہی ہے جو فطرت کو نقصان پہنچائے بغیر انسان کی ضروریات پوری کرے۔
کشمیر کی فطرت آج خاموش زبان میں مدد کی اپیل کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس پکار کو سننے کے لیے تیار ہیں؟





