سرحد پار اور جموں و کشمیر کے اندر سرگرم کئی عناصر منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے وابستہ ہیں: ایل جی سنہا
’تین نکاتی حکمت عملی اختیار ‘جس میں منشیات کی سپلائی چین کو توڑنا، عوامی بیداری پیدا کرنا اور متاثرہ افراد کی بازآبادکاری شامل ـ‘
گاندربل؍۵جون
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات اور نارکو دہشت گردی کے خلاف جاری مہم اب ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے اور انتظامیہ اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی جب تک منشیات فروشوں اور نارکو دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
گاندربل میں انسدادِ منشیات مہم کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۵۵ روز قبل شروع کی گئی ’’نشہ سے پاک جموں و کشمیر‘‘ مہم کا مقصد نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانا اور منشیات کی غیر قانونی تجارت کے ذریعے دہشت گردی کو مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔
سنہا نے کہا کہ منشیات نہ صرف نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرتی ہیں بلکہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کا ایک بڑا ذریعہ بھی بنتی ہیں، جس سے ملک دشمن عناصر اسلحہ خریدنے اور جموں و کشمیر میں تشدد کو فروغ دینے کے قابل ہوتے ہیں۔
ایل نے نارکو دہشت گردوں کو ’’عوام اور نوجوانوں کے دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار اور جموں و کشمیر کے اندر سرگرم کئی عناصر منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے وابستہ ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے خبردار کیا کہ نارکو دہشت گردی میں ملوث افراد پہلے ہی اپنے جرائم کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں اور مستقبل میں ان کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے اس لعنت سے نمٹنے کے لیے تین نکاتی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں منشیات کی سپلائی چین کو توڑنا، عوامی بیداری پیدا کرنا اور متاثرہ افراد کی بازآبادکاری شامل ہے۔
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں منشیات کے نیٹ ورکس کو توڑنے، اسمگلروں کو گرفتار کرنے اور ان کی غیر قانونی جائیدادوں کو ضبط کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کی کمائی سے تعمیر کی گئی عمارتوں، بشمول سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی ڈھانچوں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔
آگاہی مہمات کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے گاندربل ضلع انتظامیہ اور پولیس کی ستائش کی، جنہوں نے دیہات اور پنچایتوں میں وسیع پیمانے پر مہم چلا کر عوام کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا۔
بازآبادکاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نشے کے شکار افراد کے علاج، مشاورت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور انہیں عزت و وقار کے ساتھ معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
مہم کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے منوج سنہا نے بتایا کہ گزشتہ۵۵ دنوں کے دوران منشیات فروشوں کے خلاف۱۰۳۶ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ۱۱۲۸؍ اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ۶۳ منشیات فروشوں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کارروائی کی گئی ہے‘۱۰۰سے زائد جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں اور۷۰۰ سے زیادہ ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’پچپن روز قبل میں نے جموں کی سرزمین سے اعلان کیا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو منشیات کے زہر سے آزاد کرائیں گے، اپنے خاندانوں کو نشے کی تباہ کاریوں سے بچائیں گے اور اپنے عوام کو ان نارکو دہشت گردوں کا یرغمال نہیں بننے دیں گے جو انسانی مصائب سے منافع کماتے اور اپنی کالے دھن سے دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔ ہم نے ان نارکو دہشت گردوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جو ہمارے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر بھر میں اپنی مختلف ریلیوں اور اجتماعات کے دوران وہ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ منشیات نوجوانوں کی صلاحیتوں، خوابوں اور عزتِ نفس کو تباہ کر رہی ہیں، جبکہ منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی اور اسلحہ کی خریداری میں استعمال کی جاتی ہے۔
منوج سنہا نے مزید بتایا کہ۱۳۰ بڑے منشیات فروشوں کے گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارشات بھی کی گئی ہیں جبکہ ان کے خلاف دیگر قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔انہوں نے عوام سے اس مہم میں بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہنا چاہیے، جس پر شرکاء نے سخت کارروائیوں کے حق میں زبردست حمایت کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، ’’ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک جموں و کشمیر کی سرزمین سے منشیات فروشوں اور نارکو دہشت گردوں کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا۔‘‘
سنہا نے یقین دلایا کہ انتظامیہ معاشرے کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی کوششیں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔
۔۔۔۔۔۔










