این سی ممبران اسمبلی نے ان پر سنگین الزامات عائد کئے:پٹھانیہ
ویب ڈیسک
سرینگر؍۵جون
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیہ نے جمعہ کو کہا کہ اگر ڈپٹی وزیراعلیٰ سریندر چودھری میں اپنے خلاف حکمران اتحاد کے ارکان اسمبلی کی جانب سے عائد الزامات کے بعد مستعفی ہونے کی اخلاقی جرات نہیں ہے تو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو فوری طور پر انہیں کابینہ سے باہر کر دینا چاہیے۔
اُدھم پور مشرق اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرنے والے پٹھانیہ نے کہا کہ چونکہ حکمران اتحاد کے ارکان اسمبلی نے ڈپٹی وزیراعلیٰ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اس لیے وزیراعلیٰ کو انہیں وزراء کونسل سے برطرف کر دینا چاہیے۔
پٹھانیہ نے کہا، ’’اگر ان میں استعفیٰ دینے کی اخلاقی جرات نہیں ہے تو حکومت اور وزیراعلیٰ کو انہیں کابینہ سے باہر کا راستہ دکھانا چاہیے۔‘‘
بی جے پی رکن اسمبلی نے محکمہ تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) میں ’’سنگین بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں‘‘ کا الزام بھی عائد کیا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ محکمہ کان کنی ’’بدعنوانی کا گڑھ‘‘ بن چکا ہے اور ’’غیر قانونی کان کنی کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔‘‘
پٹھانیہ نے کہا، ’’آپ نے دریاؤں اور ندی نالوں کے پیندے خالی کر دیے ہیں۔ جب سیلابی پانی آتا ہے تو وہ ایسے ہمارے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جیسے پانی لوہے کی پلیٹ پر گرتا ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کی حالیہ داچھی گام میٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے پٹھانیا نے اسے ’’محض ایک تفریحی اجتماع‘‘ قرار دیا جس کا مقصد عوام اور میڈیا کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔
بی جے پی رکن اسمبلی نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر انتخابی وعدوں کے معاملے میں ’’دھوکہ دہی، جھوٹ اور فریب‘‘ کا الزام بھی لگایا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے نیشنل کانفرنس کو بڑی امیدوں کے ساتھ واضح مینڈیٹ دیا تھا، لیکن حکومت ایک بھی وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پٹھانیہ نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل نہ کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’پہلے اجلاس میں وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم ایک کمیٹی بنائیں گے۔ دوسرے اجلاس میں کہتے ہیں کہ کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے۔ اور تقریباً ہر اجلاس میں، جب تک وہ اقتدار سے باہر نہیں ہو جاتے، یہی کہتے رہیں گے۔‘‘
انہوں نے۲۰۰۸ سے۲۰۱۴کے دوران قائم ایک کابینہ ذیلی کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی رپورٹ ’’کبھی منظر عام پر نہیں آئی۔‘‘
پٹھانیہ کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کی ’’تاریخی‘‘ مالی و انتظامی معاونت کے باوجود گزشتہ 19 ماہ کے دوران جموں و کشمیر حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’روزمرہ کی حکمرانی متاثر ہو رہی ہے اور حکومت کا وجود ہی نظر نہیں آتا۔ یہ حکومت خود ایک الجھن ہے، خود ایک تنازعہ ہے۔ ہر روز ایک نیا ڈرامہ اور ایک نئی پہیلی سامنے آتی ہے۔‘‘
بی جے پی رہنما نے جموں و کشمیر میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں مکمل، شفاف، قابلِ اعتماد اور ہر قسم کی بے ضابطگی سے پاک انتخابی فہرستوں کی ضرورت ہے۔‘‘










