جموں و کشمیر کے عازمینِ حج کو تقریباً ہر سال کسی نہ کسی انتظامی مسئلے، سہولتوں کی کمی یا غیر متوقع دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ ہر سال حج انتظامات میں بہتری کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔
اس سال بھی صورتحال کچھ مختلف نظر نہیں آتی۔ سعودی عرب میں مناسکِ حج مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی کی تیاریوں میں مصروف جموں و کشمیر کے عازمین کو سامانِ سفر کے حوالے سے ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عازمین کو پہلے ہی روانگی سے قبل اپنے سامان کے وزن میں۱۵کلوگرام کی کمی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا۔ تاہم اب واپسی کے وقت انہیں بتایا جا رہا ہے کہ احمد آباد سے سری نگر کی پرواز میں صرف سات کلوگرام ہینڈ بیگ اور پانچ کلوگرام چیک اِن سامان ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی، جبکہ باقی تیس کلوگرام سامان سڑک کے ذریعے بعد میں بھیجا جائے گا۔
یہ فیصلہ عازمین کے لیے تشویش اور اضطراب کا باعث بنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ واپسی کے سفر میں انہیں مناسب حد تک سامان ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی۔ اب اچانک قواعد میں تبدیلی نہ صرف انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس سے عازمین کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ ان میں سے کئی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب سے خریدی گئی کھجوریں، تحائف اور دیگر اشیاء طویل زمینی سفر کے دوران خراب یا ضائع ہو سکتی ہیں۔
اصل مسئلہ صرف سامان کے وزن کا نہیں بلکہ اس پورے انتظامی رویے کا ہے جو برسوں سے جموں و کشمیر کے عازمینِ حج کو درپیش مشکلات کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے۔ اگر گزشتہ چند برسوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کبھی پروازوں کے شیڈول میں بے ترتیبی، کبھی رہائش کے مسائل، کبھی کھانے پینے کی سہولتوں پر شکایات اور کبھی سفری انتظامات میں خامیوں کے باعث عازمین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہر سال حج کمیٹی اور متعلقہ حکام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مرتبہ انتظامات پہلے سے بہتر ہوں گے، لیکن زمینی حقیقت اکثر ان دعوؤں کے برعکس نظر آتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جموں و کشمیر کے عازمینِ حج ملک کے کئی دوسرے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ سفری فاصلہ، اضافی پروازیں اور دیگر انتظامی تقاضے ان کے مالی بوجھ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر انہیں بنیادی سہولتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے تو یہ یقیناً مایوس کن ہے۔ عازمین کا یہ احساس بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے ساتھ بعض معاملات میں دوسرے ریاستوں کے عازمین کے مقابلے میں مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس تاثر کی مکمل تصدیق ضروری ہے، لیکن محض اس احساس کا پیدا ہونا بھی انتظامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔
حج ایک ایسا سفر ہے جس میں شریک افراد کی اکثریت عمر رسیدہ ہوتی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ سالہا سال کی بچت اور زندگی بھر کی خواہشات کو سمیٹ کر اس مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ ایسے میں انتظامی فیصلے کرتے وقت ان کی سہولت، عزتِ نفس اور ذہنی سکون کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ اگر واپسی کے آخری مرحلے میں انہیں اپنے سامان، تحائف یا ضروری اشیاء کے بارے میں تشویش لاحق ہو جائے تو اس سے پورے سفر کا خوشگوار تاثر متاثر ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات سکیورٹی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر غیر معمولی انتظامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ سری نگر ہوائی اڈے سے متعلق نوٹم (NOTAM) اور پروازی پابندیوں کے باعث اگر وزن کی حدود مقرر کرنا ضروری تھا تو اس کے لیے بروقت منصوبہ بندی اور شفاف رابطے کی ضرورت تھی۔ عازمین کو آخری وقت میں نئی شرائط سے آگاہ کرنے کے بجائے پہلے سے اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔ بہتر ہوتا کہ متبادل انتظامات کے بارے میں واضح معلومات دی جاتیں، سامان کی حفاظت کی ضمانت فراہم کی جاتی اور اس کی بروقت ترسیل کا قابلِ اعتماد نظام وضع کیا جاتا۔
اس پورے معاملے نے ایک مرتبہ پھر جموں و کشمیر میں حج انتظامات کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حج کمیٹی، سول ایوی ایشن حکام، ایئر لائنز اور حکومتِ جموں و کشمیر مل بیٹھ کر ان مسائل کا مستقل حل تلاش کریں۔ ہر سال پیش آنے والی مشکلات کو وقتی وضاحتوں کے ذریعے نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر کسی مخصوص مرحلے پر بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں تو اس کے لیے طویل مدتی حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیے۔
مختلف حلقوں کی جانب سے اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ بجا معلوم ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عازمینِ حج کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور ان کے وقار کے مطابق سہولتیں فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔ حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی کے بعد واپس لوٹنے والے افراد کو انتظامی پیچیدگیوں اور ذہنی اذیت کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ حج انتظامات میں بہتری کے دعوے تبھی قابلِ قبول ہوں گے جب عازمین خود ان بہتریوں کو محسوس کریں گے۔ صرف سرکاری بیانات اور اعداد و شمار سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عازمین کے تجربات کو معیار بنایا جائے اور ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اگر ہر سال نئے مسائل جنم لیتے رہیں تو بہتری کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے عازمینِ حج اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں عزت، سہولت اور اطمینان کے ساتھ اس مقدس سفر کی ادائیگی اور واپسی کا موقع فراہم کیا جائے۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ تنازع سے سبق حاصل کرتے ہوئے متعلقہ ادارے آئندہ کے لیے ایسا نظام وضع کریں گے جس میں عازمین کو ہر سال کسی نہ کسی نئی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے اور حج کا روحانی سفر انتظامی مسائل کی نذر نہ ہو۔





