جموں و کشمیر میں جاری ’’نشہ مکت‘‘ مہم نے گزشتہ چالیس دنوں کے دوران ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ پولیس، سول انتظامیہ اور عوامی سطح پر جس طرح منشیات کے خلاف ماحول بنا ہے، وہ ماضی کے مقابلے میں مختلف اور زیادہ مؤثر دکھائی دے رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں شروع کی گئی اس سو روزہ مہم نے نہ صرف منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کو تیز کیا بلکہ عوامی بیداری پیدا کرکے اس مسئلے کو ایک سماجی تحریک میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ جوش و جذبہ سو دن کے بعد بھی برقرار رہے گا؟ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ اگر مہم کی رفتار کم ہوئی تو منشیات فروش دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے اور آج حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ثابت ہو سکتی ہیں۔
جموں و کشمیر میں منشیات کا مسئلہ اب معمولی سماجی برائی نہیں رہا بلکہ ایک خطرناک بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نوجوان نسل بڑی تعداد میں نشے کی طرف مائل ہو رہی ہے اور اس کے اثرات خاندانوں، تعلیمی اداروں اور پورے سماج پر پڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے معاشرے میں بے چینی پیدا کی ہے کیونکہ ہر والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حکومت نے ’’نشہ مکت جموں و کشمیر‘‘ مہم شروع کی تو لوگوں نے اس کا خیر مقدم کیا اور بڑی تعداد میں عوام اس مہم کا حصہ بننے لگے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پلوامہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بالکل درست کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ منشیات کے ناسور کے خلاف آخری ضرب لگائی جائے۔ ان کا یہ بیان صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ زمینی حقیقت کا اظہار ہے۔ اگر اب بھی سخت اور مسلسل کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف جس پیمانے پر کارروائیاں ہوئیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ سینکڑوں گرفتاریاں، ایف آئی آرز، جائیدادوں کی ضبطی، گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنا، ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنا اور مشتبہ میڈیکل اسٹوروں کے خلاف کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ انتظامیہ اس بار نسبتاً سنجیدہ نظر آ رہی ہے۔ خاص طور پر پلوامہ میں گیارہ ہزار سے زائد بیداری پروگراموں کا انعقاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو صرف پولیس کارروائی تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ سماجی سطح پر بھی اس کے خلاف ماحول بنا رہی ہے۔
تاہم اس پوری مہم کا سب سے اہم پہلو مستقل مزاجی ہے۔ ماضی میں بھی مختلف مہمات بڑے زور و شور کے ساتھ شروع کی گئیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی رفتار کم ہوتی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جرائم پیشہ عناصر دوبارہ متحرک ہو گئے۔ منشیات فروش بھی اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کب انتظامیہ کی توجہ کم ہو اور وہ دوبارہ اپنے نیٹ ورک فعال کر سکیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ’’نشہ مکت‘‘ مہم کو وقتی کارروائی کے بجائے ایک مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
اصل خطرہ یہی ہے کہ سو روزہ مہم ختم ہونے کے بعد اگر پولیس اور انتظامیہ روایتی انداز میں واپس چلی گئی تو منشیات کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیاں دیرپا ثابت نہیں ہوں گی۔ منشیات کا کاروبار ایک منظم نیٹ ورک کے تحت چلتا ہے۔ اس میں مقامی سمگلر، بیرونی سپلائرز، مالی معاونین اور بعض اوقات دہشت گرد عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایسے نیٹ ورک کو صرف چند مہینوں کی کارروائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کیلئے مسلسل دباؤ ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے درست نشاندہی کی کہ منشیات فروش اور دہشت گرد ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ نارکو دہشت گردی آج ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دینے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اس لئے منشیات کے خلاف کارروائی دراصل امن و استحکام کی جنگ بھی ہے۔ اگر منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کمزور پڑ گئی تو اس کا فائدہ صرف جرائم پیشہ عناصر ہی نہیں بلکہ امن دشمن قوتوں کو بھی ہوگا۔
یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ عوام اس مہم کے ساتھ جڑ رہے ہیں۔ لوگ اب خاموش رہنے کے بجائے معلومات فراہم کر رہے ہیں، بیداری پروگراموں میں شریک ہو رہے ہیں اور نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ مثبت تبدیلی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب حکومت اپنی سنجیدگی کو مسلسل عمل سے ثابت کرے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہوا کہ مہم صرف چند دنوں کی نمائشی سرگرمی تھی تو ان کا اعتماد بھی متاثر ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو صرف گرفتاریوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔ نوجوانوں کیلئے روزگار، کھیل، تعلیم اور ہنرمندی کے مواقع بڑھانا بھی ضروری ہے۔ بے روزگاری اور مایوسی نوجوانوں کو منشیات کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح بحالی مراکز اور نفسیاتی مشاورت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ نشے کے عادی افراد کو دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لایا جا سکے۔
لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود بنیادی شرط یہی ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ کسی بھی صورت کمزور نہ پڑے۔ پولیس، اینٹی نارکوٹکس ایجنسیاں، سول انتظامیہ اور مقامی کمیونٹیز کو مسلسل متحرک رہنا ہوگا۔ سرحدی نگرانی، مالی نیٹ ورکس کی جانچ، مشتبہ سرگرمیوں پر فوری کارروائی اور عدالتی عمل میں تیزی لانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جموں و کشمیر کی نئی نسل کو بچانے کیلئے یہ جنگ ہر قیمت پر جاری رکھنا ہوگی۔ ’’نشہ مکت جموں و کشمیر‘‘ مہم نے ایک مثبت آغاز ضرور کیا ہے لیکن اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب یہ جوش و جذبہ سو دن کے بعد بھی اسی شدت کے ساتھ برقرار رہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ منشیات کے خلاف جنگ ایک دن، ایک مہینے یا سو دن کی مہم نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل جدوجہد ہے۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناً کشمیر کی نوجوان نسل کو اس تباہ کن ناسور سے بچایا جا سکتا ہے۔



