جموں و کشمیر میں مردم شماری۲۰۲۷کے پہلے مرحلے کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے اور حکمرانی کے تقاضے بھی بدل رہے ہیں۔ اس بار مردم شماری کو مکمل طور پر کاغذ سے پاک اور ڈیجیٹل انداز میں انجام دیا جا رہا ہے‘ جو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی علامت ہے بلکہ انتظامی شفافیت، درست اعداد و شمار اور بہتر منصوبہ بندی کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام اس قومی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، کیونکہ مردم شماری صرف آبادی گننے کا عمل نہیں بلکہ ایک قوم کے مستقبل کی سمت متعین کرنے کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔
ہر ملک کی ترقی کا انحصار درست اعداد و شمار پر ہوتا ہے۔ حکومتیں اپنی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں، بجٹ کی تقسیم، صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور فلاحی اسکیموں کے فیصلے مردم شماری سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ اگر آبادی، رہائش، تعلیم، بے روزگاری، نقل مکانی اور دیگر سماجی و معاشی حقائق کا صحیح اندازہ نہ ہو تو منصوبہ بندی بھی ادھوری رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردم شماری کو کسی بھی ملک کی ’پالیسی سازی کی ریڑھ کی ہڈی‘ کہا جاتا ہے۔
جموں و کشمیر کے تناظر میں اس مردم شماری کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں یہاں آبادی، شہری پھیلاؤ، بلدیاتی حدود، سیاحت، بنیادی ڈھانچے اور نقل مکانی کے رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ کئی نئے قصبے وجود میں آئے، دیہی علاقے شہری شکل اختیار کر گئے، جبکہ تعلیم، انٹرنیٹ اور روزگار کے شعبوں میں بھی نئے تقاضے سامنے آئے ہیں۔ ایسے حالات میں تازہ اور درست مردم شماری نہ صرف انتظامیہ بلکہ عوام کے لیے بھی ناگزیر ہے تاکہ وسائل کی تقسیم زمینی حقائق کے مطابق ہو سکے۔
اس بار حکومت نے پہلی مرتبہ ’سیلف اینومریشن‘ یعنی خود اندراج کی سہولت متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے شہری آن لائن پورٹل پر اپنی معلومات خود درج کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام عوامی شمولیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ شفافیت کو بھی یقینی بنائے گا۔ ڈیجیٹل مردم شماری سے غلطیوں کے امکانات کم ہوں گے، وقت کی بچت ہوگی اور معلومات فوری طور پر مرکزی نظام تک پہنچ سکیں گی۔ یہ جدید طرزِ حکمرانی کی جانب ایک مثبت قدم ہے جسے کامیاب بنانے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر سرکاری عمل کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ مردم شماری کو شہریت یا دیگر قانونی معاملات سے جوڑنے لگتے ہیں، حالانکہ حکام واضح کر چکے ہیں کہ مردم شماری کا مقصد صرف آبادی، سماجی حالات اور رہائشی صورتحال سے متعلق معلومات جمع کرنا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جا سکے۔ یہ عمل ’سنسس ایکٹ۱۹۴۸‘کے تحت انجام دیا جا رہا ہے اور اس میں فراہم کردہ معلومات کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔
اس لیے عوام کو افواہوں یا غلط معلومات پر کان دھرنے کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر لوگ درست معلومات فراہم نہیں کریں گے تو اس کا براہِ راست نقصان خود انہی کو ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے کی آبادی کم ظاہر ہو تو وہاں اسکول، اسپتال، سڑکیں، پانی یا بجلی کی فراہمی جیسے منصوبے بھی اسی حساب سے کم بنائے جائیں گے۔ اسی طرح نوجوانوں کی تعداد، خواتین کی شرح، بے روزگاری، معذوری یا تعلیمی صورتحال کے درست اعداد و شمار نہ ہونے کی صورت میں فلاحی اسکیمیں بھی مؤثر انداز میں نہیں چل سکیں گی۔
مردم شماری دراصل ایک سماجی آئینہ ہوتی ہے جس میں قوم اپنی اصل تصویر دیکھتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، کتنے بے روزگار ہیں، کتنے افراد شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، کتنے خاندان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور کن علاقوں کو فوری ترقیاتی توجہ کی ضرورت ہے۔ یہی اعداد و شمار حکومتوں، ماہرینِ معیشت، سماجی اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
جموں و کشمیر جیسے حساس اور جغرافیائی اعتبار سے پیچیدہ خطے میں مردم شماری کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ یہاں دور دراز اور برفانی علاقوں تک رسائی ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے خصوصی انتظامات، تربیت یافتہ عملہ، موبائل ایپلیکیشنز اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس بار مردم شماری کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی خوش آئند ہے کہ مردم شماری کے عمل میں اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آسانی کے ساتھ اس میں حصہ لے سکیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں شمار کنندگان اور سپروائزرز کی تعیناتی اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تیاری کر رہی ہے۔
تاہم صرف سرکاری تیاری کافی نہیں۔ اصل کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام اس قومی فریضے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بھرپور تعاون کریں۔ ہر خاندان کو چاہیے کہ وہ مردم شماری کے دوران درست اور مکمل معلومات فراہم کرے۔ نوجوانوں کو اپنے بزرگوں اور دیہی علاقوں کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ آن لائن اندراج یا دیگر مراحل میں کسی دشواری کا شکار نہ ہوں۔
میڈیا، سول سوسائٹی، مذہبی رہنما اور عوامی نمائندے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ لوگوں میں بیداری پیدا کریں، افواہوں کی نفی کریں اور اس پیغام کو عام کریں کہ مردم شماری کسی حکومت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی منصوبہ بندی میں اعداد و شمار کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔ جہاں ڈیٹا درست ہو، وہاں فیصلے بھی مؤثر ہوتے ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں ’ڈیٹا ہی طاقت‘ ہے اور مردم شماری اس طاقت کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اگر جموں و کشمیر کو بہتر سڑکیں، معیاری تعلیم، جدید اسپتال، روزگار کے مواقع اور متوازن ترقی چاہیے تو اس کے لیے درست مردم شماری ناگزیر ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ عوام مردم شماری۲۰۲۷ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس عمل کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ صرف اعداد و شمار جمع کرنے کی مہم نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔ ایک باشعور اور ذمہ دار معاشرہ ہی درست مردم شماری کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے، اور امید کی جانی چاہیے کہ جموں و کشمیر کے لوگ اس قومی فریضے میں بھرپور تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔



