پلوامہ میں لیفٹیننٹ گورنر سنہا کی نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم میں شرکت‘منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کو انتباہ
’ہمارا مشن صرف گرفتاریاں نہیں بلکہ منشیات اور دہشت کے پورے نیٹ ورک کا خاتمہ ہےتاکہ نوجوان نسل کو بچایا جا سکے ‘
سرینگر؍۱۹مئی
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے آج پلوامہ میں عوامی سطح پر چلائی جارہی منشیات مخالف مہم میں شرکت کی اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ منشیات کے ناسور کے خلاف آخری ضرب لگائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو نشے کی لعنت سے بچایا جا سکے۔
سنہا نے کہا کہ گزشتہ۳۹دنوں کے دوران جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں عوامی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لوگ ایک دوسرے کے معاون بنے اور برسوں سے چھائی خاموشی ٹوٹنے لگی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج یہ خاموشی منشیات کے خلاف ایک زبردست عوامی آواز میں بدل چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف پلوامہ میں حالیہ دنوں کے دوران۱۱ ہزار سے زائد مقامی پروگرام منعقد کیے گئے جبکہ۴۸منشیات فروشوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور۵۶منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔
سنہا نے کہا کہ کئی دہائیوں تک جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ کو محض ایک مقامی جرم سمجھا جاتا رہا، لیکن اب عوام کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ منشیات فروش اور دہشت گرد ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ منشیات فروش نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرکے منافع کماتے ہیں جبکہ دہشت گرد تنظیمیں اسی رقم کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے فروغ کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ ہر منشیات کا سودا نہ صرف ایک نوجوان کی زندگی برباد کرتا ہے بلکہ بے گناہ شہریوں کے قتل کیلئے مالی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے تعاقب میں ہیں اور انہیں کہیں بھی چھپنے نہیں دیا جائے گا۔
سنہا کاکہنا تھا’’ہم آپ کو آپ کے گہرے ٹھکانوں سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے۔ ہمارا مقصد صرف گرفتاریاں نہیں بلکہ اس پورے نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنا ہے جس سے یہ زہر پھیل رہا ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ۱۱؍اپریل سے اب تک تقریباً۸۹۷منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ۱۸؍اسمگلروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ۳۸۲؍افراد کے ڈرائیونگ لائسنس اور۳۸۶گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا چکی ہے۔۴۹غیر منقولہ جائیدادیں ضبط جبکہ۴۵؍املاک مسمار کی گئی ہیں۔
سنہا نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر بھر میں تقریباً۵ہزار۴۵ میڈیکل اسٹوروں کا معائنہ کیا گیا‘۲۲۵ کے لائسنس معطل اور۲۷کے لائسنس منسوخ کیے گئے جبکہ۶دکانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق۱۱؍ اپریل سے اب تک جموں و کشمیر بھر میں۳ لاکھ۹۳ ہزار بیداری پروگرام منعقد کیے گئے جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ منشیات کی روک تھام اور بحالی کے عمل کو مضبوط بنانے کیلئے۶۶۴۶دیہی خواتین کمیٹیاں اور۲۹۹۷ یوتھ کلب تشکیل دیے گئے ہیں۔
ایل جی نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس۱۰۰ روزہ مہم کو مزید مضبوط بنائیں اور متحد رہیں کیونکہ ’’ایک منشیات فروش کو روکنا ایک زندگی بچانے کے مترادف ہے، اور ہر بچائی گئی زندگی دہشت گردی کو کمزور کرتی ہے۔‘‘










