ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

 این سی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-10
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

 

جموں و کشمیر کی سیاست ہمیشہ غیر یقینی حالات، بدلتے اتحادوں اور اندرونی کھینچا تانی سے عبارت رہی ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافات کبھی مکمل طور پر منظر عام پر نہیں آتے، لیکن اشارے، بیانات اور ردعمل بہت کچھ بیان کر دیتے ہیں۔

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

ان دنوں حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے بارے میں بھی کچھ اسی نوعیت کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بظاہر پارٹی متحد دکھائی دیتی ہے، مگر سیاسی راہداریوں میں گردش کرنے والی خبریں، پارٹی قیادت کے محتاط بیانات اور اپوزیشن کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے دعوے اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ضرور چل رہا ہے۔

قائد حزب اختلاف اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے نیشنل کانفرنس کو ’’وینٹی لیٹر‘‘ پر قرار دیتے ہوئے جس انداز میں پارٹی کے اندرونی بحران کی بات کی، وہ ایک سوچا سمجھا سیاسی اشارہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کابینہ میں معمولی سی توسیع بھی ہوئی تو پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ اگرچہ سیاست میں مخالف جماعتیں اکثر ایک دوسرے پر اس نوعیت کے الزامات لگاتی رہتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نیشنل کانفرنس کے اندر سب کچھ معمول کے مطابق ہے؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں خود نیشنل کانفرنس کی اعلیٰ قیادت کے بیانات نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ سب سے پہلے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کابینہ میں توسیع کے امکان کو تقریباً مسترد کر دیا، حالانکہ آئینی اور سیاسی طور پر اس کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ بیان دیا کہ ان کی جماعت میں ’’کوئی ایکناتھ شندے نہیں ہے‘‘۔ یہ بیان بظاہر دفاعی نوعیت کا تھا، مگر اس نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا۔

سیاسیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جب کوئی لیڈر کسی مخصوص خطرے کی تردید کرتا ہے تو اکثر یہ تردید خود اس خطرے کے وجود کا احساس دلاتی ہے۔ اگر واقعی پارٹی کے اندر کسی بغاوت یا ناراضگی کا کوئی امکان نہیں تو پھر مہاراشٹرا کی سیاست اور ایکناتھ شندے کی مثال پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ محض ایک سیاسی طنز تھا یا پھر اندرونی خدشات کا غیر ارادی اظہار؟

یہ حقیقت ہے کہ نیشنل کانفرنس اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں اقتدار میں ہونے کے باوجود اسے مکمل اختیارات حاصل نہیں۔ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس نہ ملنے کے باعث منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہیں۔ کئی اہم انتظامی معاملات اب بھی مرکزی حکومت یا لیفٹیننٹ گورنر کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ ایسے میں عوامی توقعات اور زمینی حقائق کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی صورتحال حکمراں جماعت کے اندر بے چینی پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ان ارکان میں جو اقتدار کا عملی فائدہ اپنے حلقوں تک پہنچانے میں ناکامی محسوس کر رہے ہوں۔

عمر عبداللہ نے کابینہ میں توسیع نہ ہونے کی وجہ سیاسی عدم استحکام کے بجائے ریاستی درجے کی عدم بحالی کو قرار دیا۔ ان کی بات میں وزن ضرور ہے کیونکہ ایک محدود اختیارات والی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم اور اختیارات کی نوعیت ویسے بھی محدود رہتی ہے۔ تاہم سیاست صرف آئینی منطق پر نہیں چلتی بلکہ تاثر، طاقت کے توازن اور داخلی نظم و ضبط پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ اگر پارٹی کے اندر مکمل اطمینان ہوتا تو شاید کابینہ میں توسیع کا معاملہ اتنا حساس نہ بنتا۔

دوسری طرف بی جے پی کی حکمت عملی بھی قابل غور ہے۔ بی جے پی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ موجودہ حکومت غیر مستحکم ہے اور زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنا چاہتی ہے بلکہ نیشنل کانفرنس کے اندر موجود ممکنہ ناراض عناصر کو بھی ایک سیاسی پیغام دینا چاہتی ہے۔ سنیل شرما کے بیانات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے شیو سینا کی مثال دے کر دراصل یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ بڑی جماعتیں بھی اندرونی اختلافات کے باعث ٹوٹ سکتی ہیں۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا جموں و کشمیر کی سیاست واقعی مہاراشٹرا کے ماڈل کو دہرا سکتی ہے؟ زمینی حقیقت شاید اس سے مختلف ہے۔ نیشنل کانفرنس ایک خاندانی اور نظریاتی ڈھانچے والی جماعت ہے جس کی بنیاد صرف اقتدار کی سیاست پر نہیں بلکہ ایک تاریخی سیاسی شناخت پر قائم ہے۔ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی قیادت اب بھی پارٹی کے اندر مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اختلافات یا ناراضگیاں موجود ہو سکتی ہیں، مگر فوری طور پر کسی بڑے انشقاق کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پارٹی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ہر سیاسی جماعت کی طرح نیشنل کانفرنس بھی اقتدار کے دباؤ، علاقائی توازن، وزارتوں کی تقسیم اور سیاسی توقعات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت کے پاس مکمل آئینی اختیارات نہیں، ناراضگیوں کو قابو میں رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

اس پورے معاملے کا ایک اور اہم پہلو بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی ہے۔ عمر عبداللہ نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کو صحیح طریقے سے کام نہیں کرنے دینا چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بی جے پی خود حکومت نہ بنا لے، وہ ریاستی درجے کی بحالی سمیت کئی معاملات کو التوا میں رکھے گی۔ یہ الزام موجودہ سیاسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔

ریاستی درجے کی بحالی کا مسئلہ اس وقت جموں و کشمیر کی سیاست کا سب سے حساس موضوع بن چکا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے انتخابات میں اسی وعدے کو بنیاد بنا کر عوامی حمایت حاصل کی تھی۔ اگر اس معاملے میں تاخیر جاری رہی تو اس کا سیاسی دباؤ سب سے پہلے حکمراں جماعت پر ہی پڑے گا۔ یہی دباؤ اندرونی اختلافات کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ اقتدار میں شامل ہر رکن اپنے حلقے میں سیاسی جوابدہی کا سامنا کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ میڈیا میں گردش کرنے والی یہ خبریں کہ نیشنل کانفرنس کے کچھ اراکین الگ ہو سکتے ہیں، سیاسی ماحول کو مزید گرم کر رہی ہیں۔ اگرچہ ایسی خبروں کی تصدیق نہیں ہوئی، مگر سیاست میں افواہیں بھی اکثر ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ بعض اوقات محض یہ تاثر پیدا کرنا ہی کافی ہوتا ہے کہ کوئی جماعت اندرونی بحران کا شکار ہے۔

حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ نہ تو نیشنل کانفرنس فوری ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے اندر مکمل سکون اور اطمینان ہے۔ سیاسی دباؤ، محدود اختیارات، ریاستی درجے کی غیر یقینی صورتحال اور اپوزیشن کی جارحانہ سیاست نے ایک ایسا ماحول ضرور پیدا کر دیا ہے جہاں معمولی اختلافات بھی بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے لیے اصل چیلنج اب صرف حکومت چلانا نہیں بلکہ اپنی داخلی یکجہتی کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ پارٹی قیادت کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر اپنے ارکان کے خدشات دور کرنا ہوں گے، کیونکہ سیاسی جماعتیں صرف عوامی حمایت سے نہیں بلکہ اندرونی اعتماد سے بھی مضبوط رہتی ہیں۔

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’منشیات کی سمگلنگ پر لوگ خاموشی توڑ دیں‘

Next Post

بی جے پی اور کانگریس میں فرق؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

بی جے پی اور کانگریس میں فرق؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.