جموں و کشمیر میں حالیہ ترقیاتی اعلانات ایک ایسے جامع وژن کی نشاندہی کرتے ہیں جس کا محور دیہی بنیادی ڈھانچہ، خواتین کی معاشی خودمختاری اور زراعتی اصلاحات ہیں۔ مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان کی جانب سے تقریباً۸ہزارکروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری بظاہر ایک بڑا سنگ میل ہے، مگر اس کی اصل اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ آیا یہ منصوبے واقعی زمینی سطح پر عوام کی زندگی بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
دیہی رابطہ سڑکوں کی تعمیر کسی بھی خطے کی ترقی کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے، اور جموں و کشمیر جیسے جغرافیائی لحاظ سے دشوار گزار علاقے میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ کئی دیہات اور بستیاں اب بھی ایسی ہیں جہاں سے قریبی سڑک تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (PMGSY-IV) کے تحت منظور کیے گئے منصوبے نہ صرف نقل و حمل کو آسان بنائیں گے بلکہ تعلیم، صحت، تجارت اور روزگار کے دروازے بھی کھولیں گے۔ سڑکوں کی بدولت کسان اپنی پیداوار بہتر قیمت پر فروخت کر سکیں گے، مریض بروقت ہسپتال پہنچ سکیں گے اور طلبہ کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم، محض سڑکوں کی تعمیر ہی کافی نہیں۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ کئی منصوبے یا تو تاخیر کا شکار ہوئے یا پھر معیار پر سمجھوتہ کیا گیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس بار نگرانی کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے، شفافیت برقرار رکھی جائے اور فنڈز کے صحیح استعمال پر کڑی نظر رکھی جائے۔ اگر یہ منصوبے بروقت اور معیاری طریقے سے مکمل ہوتے ہیں تو یہ واقعی دیہی معیشت میں ایک نئی روح پھونک سکتے ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کو بار بار ترجیح دینا ایک مثبت اشارہ ہے۔ ’دل اور دہلی کے دروازے کھلے ہیں‘ جیسا بیان سیاسی طور پر پرکشش ضرور ہے، مگر عوام کے لیے اس کی اہمیت اسی وقت ہوگی جب یہ وعدے عملی شکل اختیار کریں۔ ترقی کے دعوے تبھی معتبر ہوتے ہیں جب ان کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں واضح طور پر محسوس ہوں۔
خواتین کی بااختیاری کے حوالے سے بھی جو اقدامات سامنے آئے ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔ ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے تحت ہزاروں کروڑ روپے کی منظوری اور ’لکھ پتی دیدی‘ جیسے پروگرام دیہی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے معاشرے میں، جہاں خواتین اکثر محدود مواقع کا سامنا کرتی ہیں، ایسے اقدامات ان کے لیے ایک نئی امید بن سکتے ہیں۔ تاہم، اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ صرف مالی امداد کافی نہیں ہوتی۔ خواتین کو ہنر کی تربیت، کاروباری رہنمائی، قرضوں تک آسان رسائی اور مارکیٹ سے جوڑنے کے لیے مضبوط نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ پہلو نظر انداز کیے گئے تو یہ پروگرام اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر پائیں گے۔
زراعت کے شعبے میں اصلاحات کی بات کی جائے تو یہ خطہ اپنی منفرد جغرافیائی اور موسمی خصوصیات کے باعث خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ چھوٹے کھیت، محدود وسائل اور موسمی تغیرات کسانوں کے لیے مستقل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں انٹیگریٹڈ فارمنگ کا تصور نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کسان صرف ایک فصل پر انحصار کرنے کے بجائے مویشی پروری، شہد کی مکھیوں کی افزائش، ماہی پروری اور دیگر سرگرمیوں کو اپنائیں تو ان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جدید بیجوں، معیاری نرسریوں اور سائنسی تحقیق کے فروغ کی بات بھی خوش آئند ہے۔ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے ماہرین کی ٹیم کا جموں و کشمیر کا دورہ اور ایک جامع روڈ میپ کی تیاری اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ زراعت کو سائنسی بنیادوں پر ترقی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، ان سفارشات کو عملی جامہ پہنانا ہی اصل چیلنج ہوگا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ان منصوبوں کے بروقت نفاذ کی یقین دہانی بھی اہم ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ پہلے کام کر کے دکھائیں گے اور پھر مزید مطالبات کریں گے، ایک مثبت اور ذمہ دارانہ طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مقامی انتظامیہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائے، بیوروکریسی میں ہم آہنگی پیدا کی جائے اور زمینی سطح پر مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ ترقی کے یہ منصوبے صرف اقتصادی پہلو تک محدود نہیں بلکہ ان کے سماجی اثرات بھی گہرے ہوں گے۔ بہتر سڑکیں، مضبوط زراعت اور خودمختار خواتین مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتی ہیں جہاں غربت میں کمی آئے، بے روزگاری کم ہو اور لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو۔ یہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی خطے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
تاہم، ہر بڑے اعلان کے ساتھ توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف ان منصوبوں کو بروقت مکمل کرے بلکہ ان کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ بھی لے۔ اگر کہیں خامیاں ہوں تو انہیں فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔
جموں و کشمیر کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔ اگر سڑکوں کی تعمیر، خواتین کی بااختیاری اور زراعتی اصلاحات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ خطہ نہ صرف خود کفیل بن سکتا ہے بلکہ قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ منصوبے تاخیر، بدانتظامی یا ناقص عملدرآمد کا شکار ہوئے تو یہ ایک اور ضائع شدہ موقع بن کر رہ جائیں گے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ یہ اقدامات عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لائیں اور جموں و کشمیر کو ایک خوشحال اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جائیں۔



