کشمیر میں نوجوانوں میں اچانک دل کے دوروں سے اموات کا بڑھتا ہوا رجحان اب ایک سنگین عوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے اس تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں بظاہر ایک صحت مند نوجوان ‘امتیاز احمد وانی ایک مقامی جم میں ورزش کے دوران ہارٹ اٹیک ہونے سے اچانک انتقال کرگیا۔امتیاز جم میں ورزش کر رہا تھا کہ اچانک گر پڑا اور کچھ ہی لمحوں میں فوت ہو گیا۔
اس سے ملتے جلتے کیسے کئی واقعات ہیں جہاں نوجوان جم میں ورزش کرتے ہوئے اچانک زمین پر گرتے ہیں اور زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ واقعات محض انفرادی حادثات نہیں بلکہ ایک بڑے اور منظم بحران کی علامت ہیں، جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف نوجوانوں میں فٹنس کا شعور بڑھ رہا ہے، لیکن دوسری طرف یہی رجحان غیر سائنسی طریقوں، غیر تربیت یافتہ رہنمائی اور فوری نتائج کی دوڑ میں ایک خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری موجودہ نظامی ساخت اس تیزی سے بدلتے رجحان کے مطابق خود کو ڈھال سکی ہے؟ جواب واضح طور پر نفی میں ہے۔
کشمیر میں جم مراکز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن ان کی نگرانی، معیار اور پیشہ ورانہ اہلیت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ بیشتر جم ایسے افراد چلا رہے ہیں جن کے پاس نہ تو سائنسی علم ہے اور نہ ہی انسانی جسم کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی صلاحیت۔ ایسے ماحول میں نوجوانوں کو سخت ورزش، بھاری وزن اٹھانے اور مختلف سپلیمنٹس کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے، جس کے نتائج اکثر خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اچانک سخت ورزش، خصوصاً بغیر تیاری اور طبی جانچ کے، دل پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اگر کسی فرد کو پہلے سے دل یا شریانوں کا مسئلہ ہو، تو ایسی ورزش جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سپلیمنٹس اور کیمیکل کا بے دریغ استعمال بھی اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
یہ تمام حقائق اپنی جگہ، مگر اصل سوال ریاستی ذمہ داری کا ہے۔ کیا حکومت نے کبھی اس بڑھتے ہوئے خطرے کا سنجیدہ نوٹس لیا؟ کیا جم مراکز کے قیام اور ان کے معیار کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود ہے؟ کیا ٹرینرز کی اہلیت کی جانچ ہوتی ہے؟ کیا کسی بھی نوجوان کو بغیر میڈیکل اسکریننگ کے سخت ورزش کی اجازت دی جانی چاہیے؟ ان تمام سوالوں کے جواب مایوس کن ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک ریگولیٹری ناکامی کی عکاس ہے۔ جب کسی شعبے کو مکمل طور پر غیر منظم چھوڑ دیا جائے تو اس کے نتائج ایسے ہی سامنے آتے ہیں۔ جم کلچر کو فروغ دینا ایک مثبت قدم ہو سکتا تھا، اگر اسے سائنسی بنیادوں، تربیت یافتہ افراد اور مناسب نگرانی کے ساتھ جوڑا جاتا۔ مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے‘ جہاں کاروباری مفادات نے صحت کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
اداریہ کی سطح پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف عوامی آگاہی نہیں بلکہ سخت پالیسی اقدامات ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر جم مراکز کے لیے ایک جامع ضابطہ کار متعارف کرانا چاہیے۔ ہر جم میں مستند اور تربیت یافتہ ٹرینر کی موجودگی لازمی قرار دی جائے۔ ٹرینرز کے لیے سرٹیفکیشن نظام متعارف کیا جائے تاکہ غیر اہل افراد کو اس پیشے سے دور رکھا جا سکے۔
اسی طرح، ہر فرد کے لیے جم جوائن کرنے سے قبل بنیادی طبی معائنہ لازمی ہونا چاہیے۔ دل کے امراض، بلڈ پریشر یا دیگر خطرات کی بروقت تشخیص کئی قیمتی جانیں بچا سکتی ہے۔ سپلیمنٹس کے استعمال پر بھی سخت نگرانی کی ضرورت ہے، کیونکہ غیر معیاری یا غیر ضروری سپلیمنٹس نوجوانوں کو خاموشی سے بیماری کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، جم مالکان کے لیے لائسنسنگ کا نظام سخت کیا جائے اور وقتاً فوقتاً معائنہ کیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حفاظتی اصولوں کی پابندی ہو رہی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی ناگزیر ہونی چاہیے۔
یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ معاشرے کا بھی ہے۔ نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ فٹنس ایک تدریجی عمل ہے، نہ کہ ایک ماہ میں حاصل ہونے والا نتیجہ۔ شارٹ کٹس، بھاری وزن اور غیر ضروری سپلیمنٹس نہ صرف بے فائدہ ہیں بلکہ نقصان دہ بھی ہیں۔
کشمیر میں بڑھتے ہوئے ہارٹ اٹیک کے واقعات ایک واضح انتباہ ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ ہر نئی موت صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی کا ثبوت ہوگی۔
اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اس معاملے میں واضح، سخت اور فوری اقدامات کرے۔ جم مراکز کو محفوظ بنانا، تربیت یافتہ ٹرینرز کی تعیناتی کو یقینی بنانا اور نوجوانوں کو صحیح رہنمائی فراہم کرنا محض ایک پالیسی اختیار نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
اگر ہم واقعی ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں فٹنس کے اس ابھرتے ہوئے کلچر کو منظم کرنا ہوگا ورنہ یہی کلچر آنے والے وقت میں ایک خاموش بحران بن کر مزید جانیں نگلتا رہے گا۔



