جنگ ،جنگ ہو تی ہے ‘کچھ اور نہیں ہو تی ہے کہ جنگ میں جنگ ہو تی ہے‘ کچھ اور نہیں ہو تا ہے …….بالکل بھی نہیں ہو تا ہے ۔ اسی لئے صاحب ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ جنگ آسان ہے …….اس میں چھل نہیں ہے ‘ کپٹ نہیں ہے‘ سیاست نہیں ہے ‘ دھوکہ نہیں ہے‘ مکر و فریب بھی نہیں ہے ۔ آپ کے پاس طاقت ہے‘ قوت ہے آپ دشمن کو زیر کر سکتے ہیں …….سو فیصد کرسکتےہیں۔لیکن صاحب ……. جب جنگ نہیں ہوتی ہے تو سب کچھ ہو تا ہے ‘ سوائے جنگ کے ۔اس میں چھل ہوتا ہے ‘ کپٹ ہو تا ہے ‘ مکر و فریب ہو تا ہے اور …….اور ہاں سیاست بھی ہو تی ہے اور اللہ میاںکی قسم یہی کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں ‘ امریکہ میں دیکھ رہے ہیں اور ایران میں بھی ۔ جب ان دونوں میں لڑائی تھی ‘ مسلح لڑائی تھی‘ جنگ تھی تو کچھ اور نہ تھا ……. لیکن اب جبکہ جنگ بندی ہے تو ان دونوں ممالک میں جنگ کے بغیر سب کچھ ہو رہا ہے ……. وہ بھی ہورہا ہے جو نہیں ہو نا چاہئے تھا اور ……. اور جو ہو نا چاہئے تھااللہ میاں کی قسم وہ نہیں ہو رہا ہے …….اور اس نہیں ہو رہا ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے چھل کپٹ کررہے ہیں ‘ مکر اور فریب بھی ۔دونوں جنگ نہیں چاہتے ہیں ‘ دونوں مذاکرات کی میز پر آنا چاہتے ہیں ‘ دونوں مسائل کا حل بات چیت اور سفارتکاری سے چاہتے ہیں ……. لیکن دونوں …….جی ہاں دونوں اس کیلئے آگے نہیں آ رہے ہیں ‘ دونوں ایک دوسرے کا انتظار کررہے ہیں کہ کون پہلے اپنا رویہ نرم کرے ‘ تھوڑی سے لچک دکھائے اور…….اس بات کا انتظار کررہے ہیں اور……. اور بھلے ہی اس انتظار کا دورانیہ کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو …….بھلے ہی اس دوران جنگ بندی کی معیاد ختم ہی کیوں نہ ہو اور ایک بار پھر جنگ شروع ہونے کا خطرہ ……. حقیقی خطر ہ ہی کیوں نہ پیدا ہو جائے ‘…….خطرہ پیدا ہو تو ہو لیکن مجال کہ ان دو میں سے کوئی ایک پیچھے ہٹے یا ہٹنے کا تاثر بھی دے ۔واشنگٹن اور تہران دونوں کو ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر میزائل گرانا آسان لگتا ہے ‘ لیکن …….اپنی انا کو یہ گرنے نہیں دینا چاہتے ہیں ……. بالکل بھی نہیں دینا چاہتے ہیں اور …….اور شاید اسی انانے ایران کو اسلام آباد آنے سے روکا اور اسی انا نے ٹرمپ صاحب کو آبیانئے ہرمز ایسے حالات پیدا کرنے کیلئے مجبور کیا کہ ……. کہ ایران اسلام آباد نہ آئے ۔ہے نا؟



