ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

 کشمیر کی آبگاہوں کا بحران:

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-19
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

ایک مشترکہ ناکامی کا نتیجہ بن چکا ہے

سرخی: آبگاہیں خطرے میں، خاموشی کیوں؟

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی حالیہ رپورٹ نے کشمیر کی آبگاہوں، خصوصاً ہوکرسر، کی بگڑتی ہوئی حالت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ تجاوزات، آلودگی، ناقص منصوبہ بندی اور کمزور نگرانی نے ان اہم آبی ذخائر کو زوال کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اتنی اہم رپورٹ کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی واضح اور سنجیدہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مسئلہ اپنی سنگینی کے باوجود ترجیحات میں شامل نہیں۔

ہوکرسر کے حوالے سے رپورٹ میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ نہ صرف فکر انگیز ہیں بلکہ فوری کارروائی کا تقاضا کرتی ہیں۔ تقریباً ۲۵۰۰ کنال سے زائد رقبے پر تجاوزات، کھلے پانی کے رقبے میں کمی، آبی پودوں اور جھاڑیوں میں غیر معمولی اضافہ، اور گاد(سلیٹ) کے بڑھتے ہوئے ذخائر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس آبگاہ کا قدرتی توازن بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ سیوریج کے غیر منظم اخراج نے پانی کے معیار کو مزید خراب کیا ہے، جبکہ فلڈ سپل چینل کی گنجائش میں نمایاں کمی نے سیلابی خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک آبگاہ تک محدود نہیں بلکہ پورے ویٹ لینڈ نظام کی بگڑتی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ گزشتہ برسوں میں خطیر رقوم خرچ کیے جانے کے باوجود بنیادی نوعیت کے منصوبے مکمل نہیں کیے جا سکے۔ ہائیڈرولک گیٹس، سیلٹ بیسن اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس جیسے اہم ڈھانچے ادھورے پڑے ہیں، جس سے نہ صرف وسائل کا ضیاع ہوا بلکہ مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے۔ جب منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان اس قدر واضح خلا موجود ہو تو نتائج بھی اسی نوعیت کے سامنے آتے ہیں۔

اہم سوال یہ ہے کہ آخر ان حالات تک پہنچنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ بلاشبہ، حکومت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قدرتی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ مگر یہاں منصوبہ بندی کے فقدان، عمل درآمد میں سستی اور نگرانی کے کمزور نظام نے صورتحال کو بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جب تجاوزات برسوں تک جاری رہیں، نوٹس جاری ہونے کے باوجود عمل نہ ہو، اور آلودگی کے بنیادی ذرائع کی نشاندہی تک نہ کی جا سکے، تو یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی بن جاتی ہے۔

تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوامی سطح پر ماحولیاتی شعور کی کمی نے بھی اس بحران کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ڈل جھیل کے اندر اور اطراف میں انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، جہلم کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات، اور ولر و ہوکرسر جیسے ویٹ لینڈز میں انسانی مداخلت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ صرف حکومتی غفلت تک محدود نہیں۔ جب مقامی آبادی خود اپنے ماحول کے تحفظ میں سنجیدہ نہ ہو تو کسی بھی پالیسی کے نتائج محدود ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی آبگاہوں کا بحران دراصل ایک مشترکہ ناکامی کا نتیجہ بن چکا ہے۔ ایک طرف سرکاری سطح پر غیر سنجیدگی اور کمزور حکمرانی ہے، تو دوسری طرف عوامی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویے۔ یہ دو عوامل مل کر ایک ایسا دائرہ تشکیل دیتے ہیں جہاں مسائل مسلسل بڑھتے جاتے ہیں اور حل کی گنجائش کم ہوتی جاتی ہے۔

سی اے جی کی رپورٹ نے جس ایک اور اہم پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے وہ زمین کے استعمال میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ کھلے پانی کے رقبے میں کمی اور جھاڑیوں و آبی پودوں میں غیر معمولی اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ آبگاہ اپنی اصل شناخت کھو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی میں آکسیجن کی سطح میں کمی اور آبی حیات میں تنزلی نہ صرف ماحولیاتی بحران کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ ان آبگاہوں سے وابستہ ہزاروں لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہوتا ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے حل کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال میں سنجیدگی کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔ اگر ایک آئینی ادارے کی رپورٹ بھی حکومتی ترجیحات کو تبدیل نہیں کر سکتی تو پھر اصلاح کی امید کس بنیاد پر کی جائے؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے تجاوزات کے خاتمے کے لیے واضح اور غیر امتیازی مہم چلائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے اور ٹریٹمنٹ پلانٹس کو فعال کرنے پر توجہ دی جائے۔ ڈریجنگ کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر انجام دینا اور گاد کے بہاؤ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ویٹ لینڈز کی حد بندی اور ان کی مسلسل نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید یہ کہ ادارہ جاتی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ مختلف محکموں کے درمیان رابطے کی کمی اکثر منصوبوں کی ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ اگر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کیا جائے تو نہ صرف وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا بلکہ نتائج بھی زیادہ مؤثر سامنے آئیں گے۔

عوامی سطح پر بھی شعور اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔ ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینا، مقامی کمیونٹیز کو شامل کرنا، اور قوانین کے سخت نفاذ کے ذریعے ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک عوام خود اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، کوئی بھی حکومتی کوشش دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ آبگاہوں کا تحفظ محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی مسئلہ بھی ہے۔ ان وسائل کی تباہی کا اثر براہِ راست لوگوں کی زندگیوں، روزگار اور صحت پر پڑتا ہے۔ اس لیے اسے کسی ایک محکمے یا ادارے کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک اجتماعی چیلنج کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سی اے جی کی رپورٹ ایک واضح وارننگ ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ خطرے کی نشاندہی ہے۔ اگر اب بھی اس پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقت میں یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔ کشمیر کی آبگاہوں کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی تقاضا نہیں بلکہ ایک ناگزیر ذمہ داری ہے، جسے مزید نظر انداز کرنا کسی طور بھی دانشمندانہ نہیں ہوگا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 سب کچھ مہنگا ،سوائے …. ؟

Next Post

آئی پی ایل 2026: گجرات ٹائٹنز کی مسلسل تیسری جیت، کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو 5 وکٹوں سے شکست

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
آئی پی ایل میں کرکٹ کے نئے ضوابط نافذ ہوں گے

آئی پی ایل 2026: گجرات ٹائٹنز کی مسلسل تیسری جیت، کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو 5 وکٹوں سے شکست

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.