ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

خواتین ریزرویشن‘حکومت اور اپوزیشن

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-18
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان ہے۔ایسا امتحان جس میں شفافیت، شمولیت اور اعتماد بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اس وقت پارلیمنٹ میں جاری بحث، جس کا تعلق خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ اور لوک سبھا کی نشستوں کی نئی حد بندی سے ہے، دراصل اسی امتحان کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ ایک طرف حکومت اسے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں تاریخی قدم قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اس پورے عمل کے پس منظر اور نیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اس کشمکش کے بیچ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصلاح واقعی جمہوریت کو مضبوط کرے گی یا سیاسی فائدے کے لئے ایک پیچیدہ حکمت عملی کا حصہ ہے؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ حد بندی کے عمل میں کسی بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی ریاست کے لوک سبھا میں حصے میں کمی آئے گی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ نشستوں میں اضافہ اسی تناسب سے ہوگا تاکہ علاقائی توازن برقرار رہے۔ بظاہر یہ بیان ان خدشات کو دور کرنے کے لئے کافی محسوس ہوتا ہے جو خاص طور پر جنوبی اور مشرقی ریاستوں کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن سیاست میں صرف یقین دہانیاں کافی نہیں ہوتیں؛ اصل اہمیت طریقۂ کار اور اس کے عملی اطلاق کی ہوتی ہے۔
اپوزیشن کا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ مسئلہ صرف نشستوں کی تعداد میں اضافہ یا تناسب کا نہیں بلکہ حد بندی کے معیار اور طریقۂ کار کا ہے۔ ان کے مطابق اگر حد بندی آبادی کے موجودہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی تو وہ ریاستیں جو آبادی پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہیں، ان کا سیاسی اثر کم ہو سکتا ہے، جبکہ زیادہ آبادی والی ریاستوں کو نسبتاً فائدہ ہوگا۔ اس تناظر میں اپوزیشن کا خدشہ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ماضی میں بھی حد بندی کے عمل نے سیاسی توازن پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔
خواتین ریزرویشن بل بلاشبہ ایک اہم اور دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا ایک جمہوری ضرورت ہے، نہ کہ کسی حکومت کا احسان۔ خود وزیر اعظم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ خواتین کو نمائندگی دینا ان کا حق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس حق کے نفاذ کو حد بندی جیسے پیچیدہ اور متنازع عمل سے جوڑنا ضروری تھا؟ اگر اس سوال کا جواب واضح

نہیں تو شکوک و شبہات کا پیدا ہونا فطری ہے۔
کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ خواتین ریزرویشن کے نام پر ایک وسیع تر سیاسی منصوبہ نافذ کرنا چاہتی ہے جس کا مقصد آئندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے نہ صرف طریقۂ کار پر اعتراض اٹھایا بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اپوزیشن کو مناسب وقت اور موقع نہیں دیا گیا کہ وہ ان بلوں پر تفصیل سے غور کر سکے۔ یہ اعتراض جمہوری عمل کی روح سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی آئینی ترمیم کے لئے وسیع تر مشاورت اور اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کی نمائندگی کا مسئلہ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نئی حد بندی کے عمل میں ان طبقات کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ خدشہ درست ہے تو یہ معاملہ مزید سنجیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت ہی کمزور اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنانے میں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اس پہلو پر بھی واضح موقف اختیار کرے اور ایسے تمام خدشات کو دور کرے۔
حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ اس اصلاح کا کریڈٹ بھی اپوزیشن کو دینے کے لئے تیار ہے، ایک سیاسی بیان ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کیا وہ واقعی اپوزیشن کو اس عمل میں برابر کا شریک بنانے کے لئے تیار ہے؟ جمہوریت میں صرف نتائج نہیں بلکہ عمل بھی اہم ہوتا ہے۔ اگر عمل شفاف، جامع اور مشاورتی نہ ہو تو بہترین اصلاحات بھی متنازع بن جاتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین ریزرویشن کا نفاذ مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ برسوں سے یہ مطالبہ زیر التوا رہا ہے اور اب جب اس پر پیش رفت ہو رہی ہے تو اسے کسی بھی سیاسی تنازع کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن جلد بازی میں کئے گئے فیصلے اکثر دیرپا مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس معاملے کو سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھیں۔
ایک بالغ جمہوریت کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے سنے، سمجھے اور اس کا حل تلاش کرے۔ اگر حکومت واقعی اس اصلاح کو تاریخی بنانا چاہتی ہے تو اسے اپوزیشن کے خدشات کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ سنجیدگی سے ان پر غور کرنا چاہئے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ محض تنقید تک محدود نہ رہے بلکہ تعمیری تجاویز پیش کرے تاکہ ایک متفقہ راستہ نکل سکے۔
آخر میں، یہ معاملہ صرف خواتین کی نمائندگی یا نشستوں کی حد بندی تک محدود نہیں بلکہ یہ جمہوری اعتماد کا مسئلہ ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے شفاف اور منصفانہ طریقے سے کئے جا رہے ہیں تو وہ انہیں بخوشی قبول کرتے ہیں۔ لیکن اگر شکوک و شبہات پیدا ہوں تو بہترین نیت بھی سوالات کی زد میں آ جاتی ہے۔
اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ وہ چاہے تو اس موقع کو ایک حقیقی جمہوری اصلاح میں بدل سکتی ہے،ایسی اصلاح جو نہ صرف خواتین کو بااختیار بنائے بلکہ پورے سیاسی نظام میں اعتماد کو بھی مضبوط کرے۔ ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ایک اہم قدم بھی سیاسی تنازع کی دھند میں گم ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان ہے۔ایسا امتحان جس میں شفافیت، شمولیت اور اعتماد بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اس وقت پارلیمنٹ میں جاری بحث، جس کا تعلق خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ اور لوک سبھا کی نشستوں کی نئی حد بندی سے ہے، دراصل اسی امتحان کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ ایک طرف حکومت اسے خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں تاریخی قدم قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اس پورے عمل کے پس منظر اور نیت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اس کشمکش کے بیچ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصلاح واقعی جمہوریت کو مضبوط کرے گی یا سیاسی فائدے کے لئے ایک پیچیدہ حکمت عملی کا حصہ ہے؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ حد بندی کے عمل میں کسی بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی ریاست کے لوک سبھا میں حصے میں کمی آئے گی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ نشستوں میں اضافہ اسی تناسب سے ہوگا تاکہ علاقائی توازن برقرار رہے۔ بظاہر یہ بیان ان خدشات کو دور کرنے کے لئے کافی محسوس ہوتا ہے جو خاص طور پر جنوبی اور مشرقی ریاستوں کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن سیاست میں صرف یقین دہانیاں کافی نہیں ہوتیں؛ اصل اہمیت طریقۂ کار اور اس کے عملی اطلاق کی ہوتی ہے۔
اپوزیشن کا بنیادی اعتراض یہی ہے کہ مسئلہ صرف نشستوں کی تعداد میں اضافہ یا تناسب کا نہیں بلکہ حد بندی کے معیار اور طریقۂ کار کا ہے۔ ان کے مطابق اگر حد بندی آبادی کے موجودہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی تو وہ ریاستیں جو آبادی پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہیں، ان کا سیاسی اثر کم ہو سکتا ہے، جبکہ زیادہ آبادی والی ریاستوں کو نسبتاً فائدہ ہوگا۔ اس تناظر میں اپوزیشن کا خدشہ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ماضی میں بھی حد بندی کے عمل نے سیاسی توازن پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔
خواتین ریزرویشن بل بلاشبہ ایک اہم اور دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا ایک جمہوری ضرورت ہے، نہ کہ کسی حکومت کا احسان۔ خود وزیر اعظم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ خواتین کو نمائندگی دینا ان کا حق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس حق کے نفاذ کو حد بندی جیسے پیچیدہ اور متنازع عمل سے جوڑنا ضروری تھا؟ اگر اس سوال کا جواب واضح

نہیں تو شکوک و شبہات کا پیدا ہونا فطری ہے۔
کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ خواتین ریزرویشن کے نام پر ایک وسیع تر سیاسی منصوبہ نافذ کرنا چاہتی ہے جس کا مقصد آئندہ انتخابات میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے نہ صرف طریقۂ کار پر اعتراض اٹھایا بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اپوزیشن کو مناسب وقت اور موقع نہیں دیا گیا کہ وہ ان بلوں پر تفصیل سے غور کر سکے۔ یہ اعتراض جمہوری عمل کی روح سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی آئینی ترمیم کے لئے وسیع تر مشاورت اور اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کی نمائندگی کا مسئلہ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نئی حد بندی کے عمل میں ان طبقات کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ خدشہ درست ہے تو یہ معاملہ مزید سنجیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت ہی کمزور اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنانے میں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اس پہلو پر بھی واضح موقف اختیار کرے اور ایسے تمام خدشات کو دور کرے۔
حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ اس اصلاح کا کریڈٹ بھی اپوزیشن کو دینے کے لئے تیار ہے، ایک سیاسی بیان ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کیا وہ واقعی اپوزیشن کو اس عمل میں برابر کا شریک بنانے کے لئے تیار ہے؟ جمہوریت میں صرف نتائج نہیں بلکہ عمل بھی اہم ہوتا ہے۔ اگر عمل شفاف، جامع اور مشاورتی نہ ہو تو بہترین اصلاحات بھی متنازع بن جاتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین ریزرویشن کا نفاذ مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ برسوں سے یہ مطالبہ زیر التوا رہا ہے اور اب جب اس پر پیش رفت ہو رہی ہے تو اسے کسی بھی سیاسی تنازع کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن جلد بازی میں کئے گئے فیصلے اکثر دیرپا مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس معاملے کو سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھیں۔
ایک بالغ جمہوریت کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے سنے، سمجھے اور اس کا حل تلاش کرے۔ اگر حکومت واقعی اس اصلاح کو تاریخی بنانا چاہتی ہے تو اسے اپوزیشن کے خدشات کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ سنجیدگی سے ان پر غور کرنا چاہئے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ محض تنقید تک محدود نہ رہے بلکہ تعمیری تجاویز پیش کرے تاکہ ایک متفقہ راستہ نکل سکے۔
آخر میں، یہ معاملہ صرف خواتین کی نمائندگی یا نشستوں کی حد بندی تک محدود نہیں بلکہ یہ جمہوری اعتماد کا مسئلہ ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے شفاف اور منصفانہ طریقے سے کئے جا رہے ہیں تو وہ انہیں بخوشی قبول کرتے ہیں۔ لیکن اگر شکوک و شبہات پیدا ہوں تو بہترین نیت بھی سوالات کی زد میں آ جاتی ہے۔
اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ وہ چاہے تو اس موقع کو ایک حقیقی جمہوری اصلاح میں بدل سکتی ہے،ایسی اصلاح جو نہ صرف خواتین کو بااختیار بنائے بلکہ پورے سیاسی نظام میں اعتماد کو بھی مضبوط کرے۔ ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ایک اہم قدم بھی سیاسی تنازع کی دھند میں گم ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اوقات …….؟

Next Post

پونچھ میں بارودی سرنگ  دھماکہ، ایک اہلکار زخمی

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
رعناواری میں سکیورٹی فورسز پر گرینیڈ حملہ ‘کوئی نقصان نہیں

پونچھ میں بارودی سرنگ  دھماکہ، ایک اہلکار زخمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.