کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ بندے کو اپنی اوقات معلوم نہیں ہو تی ہے …….بالکل بھی نہیں ہو تی ہے ۔ایسے میں اس بندے کو اس کی اوقات یاد دلانی پڑتی ہے اور اس لئے پڑتی ہے کہ ایسا کرنا ضروری بن جاتا ہے …….سو فیصد بن جاتا ہے ۔ لیکن صاحب اس میں استثنیٰ ہے اور یقینا ہے ……. کچھ ایک ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی اوقات معلوم ہے اور کسی کو انہیں انکی اوقات یاد دلانی کی ضرورت نہیں ہے ……. لیکن کیا کیجئے کہ کچھ لوگ عادت سے مجبور ہیں جو پاکستان کو اس کی اوقات یاد دلا کر اپنا ٹائم ضائع کررہے ہیں اور فیصد کررہے ہیں ۔ پاکستان کی سویلین قیادت یہ بخوبی جانتی ہے کہ اس کی اوقات کیا ہے ‘ مسلح افواج کے ساتھ اس کی اوقات ……. وہ یہ بھی جانتی ہے کہ اسے مسلح افواج کس نظر سے دیکھتی ہے ‘ وہ یہ اچھی طرح جانتی ہے اور……. اور جس بھی نظر سے پاکستان کی مسلح افواج سویلین قیادت کو دیکھتی ہے یا دیکھے گی‘ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ وہ اسی میں خوش ہے‘ اس ایک بات میں خوش ہے کہ مسلح افواج اس سے خوش ہے …….اس سے زیادہ اس کی کسی اور بات میں دلچسپی نہیں ہے اور ……. اور بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ بھی ……. معاف کیجئے وہ سب حضرات جو پاکستان کو اس کی اوقات یاد دلانے کا غیر ضروری اور غیر پیداوری کام کرتے ہیں وہ بھی اس میں ……. اسی میں خوش رہے ۔اب دیکھئے نا پاکستان کے فوجی سربراہ اس وقت تہران میں خیمہ زن ہیں ……. اور سویلین قیادت کو سیر و تفریح کیلئے سعودی عرب‘قطر اور ترکیہ روانہ کردیا ……. ساری کی ساری ایکشن تو تہران میں ہو رہی ہے …….جہاں انہوں نے سویلین حکومت کے وزیر داخلہ ‘ محسن نقوی کو اپنے ساتھ رکھ کر ان پر جنم جنم کا احسان کیا ہے اور…….اور نقوی صاحب بھی فوجی سربراہ کے اس احسان کے تلے دب گئے ہیں …….وزیر داخلہ ہونے کے ناطے یہ ایرانی قیادت سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے ‘ لیکن یہ اسی میں خوش ہیں کہ انہیں جنرل صاحب نے اپنے ساتھ رکھ لیا ہے ۔جنرل صاحب بالکل اوپر والی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور اس کے بعد نقوی صاحب کی کرسی لگتی ہے …….ایسا کہیں اور نہیں ہو سکتا ہے …….اور اس لئے نہیں ہو سکتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو اپنی اوقات معلوم نہیں ہو تی ہے ‘ وہ غلط فہمی میں جیتے ہیں ……. لیکن صاحب پاکستان میں نہیں کہ اللہ میاں کی قسم وہاں سویلین حکومت میں سب کے سب اپنی اوقات جان ہی نہیں گئے ہیں بالکل مان بھی گئے ہیں ۔ ہے نا؟



