انسدادِ منشیات مہم کشمیر میں بھی مئی کے پہلے ہفتے میں شروع کی جائے گی: سنہا
سرینگر؍۱۶؍اپریل
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ وہ جموں و کشمیر کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
سنہا نے یہاں خواتین کسانوں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام محکمے، چاہے وہ سوشل ویلفیئر ہو یا محکمہ صحت، منشیات سے پاک معاشرہ بنانے کے ہدف پر کام کر رہے ہیں۔
ایل جی نے کہا’’میں نے۱۱؍ اپریل کو جموں میں ‘نشہ مکت’ مہم شروع کی ہے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک منشیات کے مسئلے کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا’’جب وزیر اعظم نریندر مودی نے۲۰۲۰میں ’نشہ مکت بھارت ابھیان‘شروع کیا، تو جموں و کشمیر میں بھی کافی کوششیں کی گئیں۔ پولیس اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے، زیادہ منشیات ضبط ہو رہی ہیں، پہلے سے زیادہ گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور زیادہ مقدمات درج کیے جا رہے ہیں‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ انسدادِ منشیات مہم کشمیر میں بھی مئی کے پہلے ہفتے میں شروع کی جائے گی۔
سنہا نے کہا’’ہم۳مئی کو اس مہم کا کشمیر چیپٹر شروع کریں گے۔ میں آپ بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آگے آئیں اور منشیات سے پاک جموں و کشمیر کے لیے اپنا کردار ادا کریں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ صرف حکومت اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکتی۔ ’’ہم نے ایسی خواتین کو دیکھا ہے جنہوں نے اپنے بچے کھوئے یا جن کی بیٹیاں منشیات کا شکار ہوئیں۔ جب حکومت کی طاقت عوام کی کوششوں کے ساتھ ملتی ہے تو ہم اس لعنت سے نجات پا سکتے ہیں‘‘۔
ایل جی نے زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں خواتین کسانوں کی خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا’’خواتین کسانوں کے بغیر ہر پلیٹ خالی ہو جائے گی اور انسانیت بھوک کا شکار ہو جائے گی۔ وہ دنیا کو سہارا دیتی ہیں، مردوں سے زیادہ محنت کرتی ہیں اور ان کی طاقت خوراکی تحفظ کی بنیاد ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے۲۰۲۶ کو خواتین کسانوں کا بین الاقوامی سال قرار دیا ہے، جو ایک دیرینہ خواب تھا۔
سنہا نے کہا’’میں۲۰۲۶ کو خواتین کسانوں کے سال کے طور پر ایک تاریخی موقع سمجھتا ہوں، جو خواتین کو صرف مزدور نہیں بلکہ تخلیق کار کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ ہر اسکیم میں خواتین کسانوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ۲۰۲۶خواتین کے کردار کو سچے معنوں میں تسلیم کرے گا‘‘۔انہوں نے ٹیکنالوجی کے ماہرین سے اپیل کی کہ وہ خواتین کسانوں کے لیے تکنیکی آلات کو ترجیح دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ زراعت، باغبانی، ماہی گیری اور ڈیری کے محکمے خواتین کسانوں کے لیے وسائل مختص کریں، جبکہ مالیاتی ادارے ایسی قرض اسکیمیں بنائیں جن سے بے زمین خواتین کو بھی قرض مل سکے۔
سنہا نے کہا’’ہمیں جموں و کشمیر میں خواتین کی قیادت میں ترقی کے عزم کو فروغ دینا ہوگا تاکہ خواتین کی طاقت تبدیلی لا سکے۔۲۰۲۰کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے میں نمایاں پیش رفت ایک قومی مثال ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ خواتین کسان موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مضبوط نظام قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جموں و کشمیر میں جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں۱۴ہزار۷۸۲ خواتین کسان رجسٹر ہو چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے۲۰ جون۲۰۲۴کو جے کے سی آئی پی کا آغاز کیا، جس میں۵۲۴۸خواتین کسان رجسٹر ہوئیں، جبکہ پردھان منتری کسان سمان ندھی میں۹۰ہزار سے زائد خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔
سنہا نے کہا کہ مختلف اسکیموں میں لاکھوں خواتین رجسٹر ہیں، جن میں قدرتی کاشتکاری، باغبانی، ڈیری، بھیڑ بکری پالنا اور ماہی گیری شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’میں ان لاکھوں غیر رجسٹر خواتین کسانوں کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ مرکزی اسکیموں سے جڑیں۔ مجھے جموں و کشمیر کے سیلف ہیلپ گروپس، خواتین کی قیادت میں ایف پی اوز اور ہنر مندی کے پروگراموں پر فخر ہے، جو دیہی خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے آئی ایف ایف سی او سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر میں کسانوں کے لیے تربیتی مراکز اور سہولتی مراکز قائم کیے جائیں اور مٹی کی جانچ کے لیے موبائل مشینیں فراہم کی جائیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ ‘منشیات سے پاک جموں و کشمیر’ کی تحریک کا کشمیر ڈویژن میں آغاز۳مئی۲۰۲۶کو سرینگر سے کیا جائے گا۔انہوں نے خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔
تقریب کے دوران ایل جی نے خواتین زرعی کاروباری افراد کو اعزاز سے نوازا اور مختلف اسٹالز کا بھی دورہ کیا۔










